نماز تراویح کتنی پڑھنی چاہیے؟

Nimazy trawee kitni perhni chahiye?

اللہ نے ہمیں ایک نماز عطافرمادی ۔ جس کو ہم آج صلوٰۃ تروایح کہتے ہیں۔ ہمارے نبی کے زمانے میں اسے قیام الیل کہاجاتا تھا۔ یہ جو آٹھ رکعت والے استدلال کرتے ہیں۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ آپ نے تین دن نما ز پڑھائی۔ جو کہ صیحح روایت ہے۔ کتنی رکعت پڑھائی تو ایک ضعیف روایت میں ہے کہ بیس رکعت پڑھائیں۔ ضعیف روایت سے عبادت ثابت نہیں ہوسکتی۔ ہمارے نبی کے دور میں تین دن کے بعد آپ تو آئے نہیں۔ کہ کہیں فرض نہ ہوجائیں۔

تو صحابہ کرام اپنے طور پر قرآن سنتے تھے۔ صدیقی سال دوسال فتنوں میں گزرا۔ تو اس میں بھی اسی طرح چلا۔ کہ ٹولیوں میں ہوتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حکومت مضبوط ہوگئی۔ تو ابتدائی سالوں میں نہیں چندسالوں کے بعد تومسجد میں تشریف لائے تو لو گ ٹولیاں بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ تو کہنے لگے کہ ان کو ایک امام میں جمع کردیا جائے تو کتنا اچھا ہوجائے گا۔ توآپ نے سب کو اکٹھا کیا۔

اورعبائی بن کعب رضی اللہ عنہ کو امام بنایا۔ اور سب کو ایک جگہ جمع کرکے سب کو بیس رکعت کا حکم عطا فرمایا۔ توحضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ امر اس حدیث کو مضبوط کردیتاہے۔ جو ہمارے نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ : میری اور میری خلفائے راشدین کی سنت پر مضبوطی سے عمل کرنا۔توحضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جو بیس رکعت طے کرنا ہے۔ اگر ان کا اپنا ہے تو بھی ہمارے لیے عمل کاکرنا کافی ہے۔ اور اگر ان کو یاد ہے کہ میرے نبی نے بیس پڑھی تھیں۔ تو اور زیادہ اچھی بات ہے۔ بہرحال جوآٹھ پڑھتا ہے ہمارا اس پر بھی کوئی استدلال نہیں ہے۔ کیونکہ وہ بھی حدیث کے ساتھ بات کرتا ہے۔

باقی پوری امت بیس پڑھتی ہے۔ ان پر اعتراض نہیں۔ اہل مکہ جو تھے۔ وہ چار تراویح پڑھ کر ایک طواف کرتے تھے۔ تو چھوٹا ساطواف دس منٹ میں ختم ہوجاتا تھا۔ اور پھر چار تراویح پڑھتے تھے۔ پھر طواف کرتے تھے۔ پھر چار پڑھتےتھے۔ پھر طواف کرتے تھے۔ یہ صحابہ کے تھوڑے بعد کے دور کی بات ہے۔ تو مدینہ والوں کو پتہ چلا کہ مکہ والے تویہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم کیا کریں؟ انہوں نے کہا ہم چالیس تراویح پڑھیں گے۔ نوافل میں کوئی سختی نہیں ہے۔ کہ بدعت ہوجائے گی۔

اور بیس پڑھنا بدعت ہے یہ سب جہالت ہے۔ یہ آٹھ پڑھ رہے ہیں۔ تو یہ بھی حماقت کی بات ہے۔ جو صیحح حدیث سے دلیل پکڑ عمل کرتا ہو۔تو اس سے بحث نہ کیا کرو۔ یہ بہت نادانی والی بات ہے۔ اور امت کا لاکھوں لوگوں کا ایک عمل پر جمع ہونا یہ بذات خود اس کے طاقت کی دلیل ہے۔ حرمین میں جب سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیس رکعت شروع کی۔ تو آج تک وہاں سار ی مساجد میں آٹھ رکعت تراویح ہوتی ہے۔ لیکن حرمین کی مسجد میں بیس رکعت تراویح ہوتی ہے۔

ادھر بھی اور ادھر بھی۔ یہ جو ختم قرآن پر دعا مانگی جاتی ہے۔ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عمل ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں قرآن ختم ہونے والے سے کہا جب قرآن ختم ہو تو دعاکرنا۔ اس نے کہا کہ کیا دعا کرو انہوں نے کہا جو تیرے دل میں آئے۔ تو ختم قرآن کی رات تراویح کی آخری رکعت میں “من الجنت والناس” کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا اس کو حضر ت عثمان رضی اللہ عنہ نے زندہ فرمایا۔ وتر کی جماعت نہیں ہوتی تھی۔ وتر کو باجماعت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شروع کی تھی۔ تو یہ ان کی سنت ہے۔ کہ وتر کو باجماعت پڑھا گیا ۔ اب جو کام خلفائے راشدین سے ہوا وہ بھی سنت ہے۔

Leave a Comment