حضرت محمد ﷺ نے فرمایا میں تم پر فقر و ناداری آنے سے نہیں ڈرتا لیکن مجھے تمہارے بارہ میں یہ ڈر ضرور ہے کہ۔۔۔؟

Tum per fiqer o nadari any sy nai derta

حضرت عمر بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ : میں تم پر فقر و نادار ی آنے سے نہیں ڈرتا، لیکن مجھے تمہارے بارہ میں یہ ڈر ضرور ہے کہ دنیا تم پر زیادہ وسیع کر دی جائے ، جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر وسیع کی گئی تھی۔ پھر تم اس کو بہت زیادہ چاہنے لگو، جیسے کہ انہوں نے اس کو بہت زیادہ چاہاتھا(اور اسی کے دیوانے اور متوالے ہوگئے تھے ) اور پھر وہ تم کو برباد کر دے ، جیسے کہ اس نے اگلوں کوبربا دکیا۔

تشریح: رسول اللہﷺ کے سامنے بعض اگلی قوموں اور امتوں کا یہ تجربہ تھا، کہ جب ان کے پاس دنیا کی دولت بہت زیادہ آئی، تو ان میں دنیوی حرص اور دولت کی رغبت و چاہت اور زیادہ بڑھ گئی،اوروہ دنیا ہی کے دیوانے اور متوالے ہوگئےاور اصل مقصد زندگی کو بھلا دیا ۔پھر اس کی وجہ سے ان میں باہم حسدوبغض بھی پیدا ہوااور بالآخر ان کی اس دنیا پرستی نے ان کو تباہ و برباد کردیا۔

آنحضرت ﷺ کو اپنی امت کےبارے میں اسی کا زیادہ ڈر تھا۔ اس حدیث میں آپ نے از راہِ شفقت امت کو اس خطرے سے آگاہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم پر فقر وناداری کے حملے کامجھے زیادہ ڈر نہیں ہےبلکہ اس کے برعکس تم میں بہت زیادہ دولت مندی آجانے سے دنیا پرستی میں مبتلا ہوکر تمہارے ہ لاک و برباد ہوجانے کا مجھے زیادہ خوف اور ڈر ہے۔آپ کے اس ارشاد کا مقصد و مدعا اس خوشنما فتنہ کی خطرناکی سے امت کو خبردار کرنا ہے ۔

تاکہ ایسا وقت آنے پر اس کے برے اثرات سے اپنابچاؤ کرنے کی وہ فکر کرے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ مجھے امیر کیوں نہیں بناتے؟ رسول اللہ ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر ارشاد فرمایا: ابوذر! تم کمزور ہو اور یہ امارت ایک امانت ہے (کہ جس کے ساتھ بندوں کے حقوق متعلق ہیں) اور یہ (امارت) قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا سبب ہوگی، لیکن جس شخص نے اس امارت کو صحیح طریقہ سے لیا اور اس کی ذمہ داریوں کو پورا کیا (تو پھر یہ امارت قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا ذریعہ نہ ہوگی)۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کو بھی کسی رعیت کا نگران بناتے ہیں خواہ رعیت تھوڑی ہو یا زیادہ تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کی رعیت کے بارے میں قیامت کے دن ضرور پوچھیں گے۔ کہ اس نے ان میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کیا تھا یا برباد کیا تھا یہاں تک کہ خاص طور پر اس سے اس کے گھر والوں کے متعلق پوچھیں گے۔

Leave a Comment