کاروبار میں راہنمائی کے لئے صرف تین منٹ کا عمل کر لیں۔

karoobar mai rahnumai k liye sirf teen minute ka amal ker lain,

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ناظرین کرام۔۔۔کاروبار شروع کرنے میں جو سب سے بڑی رکاوٹ آتی ہے وہ ہے تجربہ ۔ انسانڈر جاتا ہے کہ کہیں فراڈ ، نہ ہو جائے ، کچھ مہنگا نہ لے آؤں ،، کچھ ایسا نہ لے آؤں جس کی ڈیمانڈ نہ ہو ، گاہک کیا کیا سوال کرتا ہے ، کیا کیا جواب دینے چاہئے،مجھے اس مسلے کا ایک ہی حل نظر آیا ہے ،، اور وہ ہے صرف تین منٹ کا نبوی عمل ،،،،،،،،،،،،،،،

آپ نے کوئی مال بھی لینا ہے یا کون کون سا مال لوں ؟ یا آپ نے دکان کہاں کھولنی ہے ،، دو ، تین جگہ دیکھ لیں پھر صرف تین منٹ کا عمل کریں ،جو جگہ آپ کےلئے بہتر ہوگی اللہ اس میں آسانیاں پیدا فرما دے گا۔یاد رہے کہ اس سے بہتر کوئی عمل نہیں۔ملازم بھی رکھنا ہےتو صرف تین منٹ کا نبوی عمل کریں ، بلکہ عادت بنا لیں۔ تین منٹ کے عمل سے مراد یہ نہیں کہ آپ بنگالی بابوں اور جادوگروں کے ہتھے چڑھ جائیں۔ میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف تین منٹ کا عمل ،،،،،،،،،،،،،،، کرنے کا حکم دیا ہے ،، کروانے کا نہیں ،،اور طریقہ بھی انتہائی آسان ہے لہذا آج ہم اپنے دیکھنے والوں کو آسان ترین صرف تین منٹ کا نبوی عمل بتائیں گے۔

آج کا یہ عمل پریشانیوں سے چهٹکارہ ہے کوئی الجهن هو پریشانی ہو صرف تین منٹ کا نبوی عمل ،،،،،،،،،،،،،،، کریں-کاروبار کرنا چاہتے ہوں سمجھ نہ آ رہا هو کہ کون سا کاروبار کریں؟ یا شادی نکاح کرنا چاہتے هوں ، کالج میں داخلہ کرنا چاہتے ہیں سمجھ نہ آ رہی هو کون سے کالج میں داخلہ کریں یا سبجیکٹ لینے میں دشواری ہو-جادو، بندش ،نظر تعویزات کا پتہ کرنا ہو کے ہم پر ہیں یا نهیں؟ بیمار ہیں مسلسل علاج سے افاقہ نہیں ہو رہا غرض کے کوئی بهی پریشانی هو تو یہ آسان ترین صرف تین منٹ کا نبوی عمل ،،،،،،،،،،،،،،، ضرور کریں۔آپ کو هر قسم کےسوالات کے سوفیصد درست جوابات ملیں گے ،

عزیز خواتین وحضرات تین منٹ کا عمل اصل میں اللہ سے مشورہ کرنا ہے،، اور اللہ سے بہتر مشورہ دینے والا کوئی نہں ۔ یعنی مشورے سے مراد نبوی استخارہ ہے۔ دوستو استخارہ ایک مسنون اور تین منٹ کا عمل ہے، جس کا طریقہ اور دعا نبی ﷺسے احادیث میں منقول ہے ،حضور اکرم ﷺ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہرکام سے پہلے اہمیت کے ساتھ استخارے کی تعلیم دیا کرتے تھے،

استخارہ کا عمل بتانے سے پہلے استخارہ کا اصل مطلب آپ کو بتاتے چلیں کہ کسی معاملے میں خیراور بھلائی کا طلب کرنا،یعنی روز مرہ کی زندگی میں پیش آنے والے اپنے ہرجائز کام میں اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا اور اللہ سے اس کام میں خیر، بھلائی اور رہنمائی طلب کرنا ھے ،ایک حدیث میں جناب رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی سے استخارہ کا چھوڑدینا اور نہ کرنا انسان کے لیے بدبختی اور بدنصیبی میں شمار ہوتا ہے ۔

استخارہ کے لیے شریعت نے تو کوئی ایسی شرط نہیں لگائی کہ استخارہ گناہ گار انسان نہ کرے، کوئی ولی اللہ کرے ، جو شرط شریعت نے نہیں لگائی آپ اپنی طرف سے اس شرط کو نہ بڑھائیں ۔ خود استخارہ کریں، کیونکہ انسان کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو، بندہ تو اللہ ہی کا ہے اور جب بندہ اللہ سے مانگے گا تو جواب ضرور آئے گا،جس ذات کا یہ فرمان ہوکہ مجھ سے مانگو میں دعا قبول کروں گا ۔

وہ ذات تو ایسی ہے کہ شیطان جب جنت سے نکالاجارہا ہے ، تواس وقت شیطان نے دعا کی، اللہ نے اس کی دعا کو قبول فرمایا، جو شیطان کی دعا قبول کررہا ہے کیا وہ ہم گناہ گاروں کی دعا قبول نہ کرے گا اور جب کوئی استخارہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع سنت کے طور پر کرے گا تو یہ ممکن نہیں کہ اللہ دعا نہ سنے بلکہ ضرور سنے گا اور خیر کو مقدر فرمائے گا،اللہ کی بارگاہ میں سب کی دعائیں سنی جاتی ہیں ، ہاں یہ ضرور ہے کہ گناہوں سے بچنا چاہیے تاکہ دعا جلد قبول ہو ۔

دوستو استخارہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان فرشتہ صفت بن جاتا ہے ، استخارہ کرنے والا اپنی ذاتی رائے سے نکل جاتا ہے اور اپنی مرضی کو خدا کی مرضی کے تابع کردیتا ہے ،استخارہ میں سوال جیسا بهی هو جامع اور واضح جواب ضرور ملتا هے. عملِ استخارہ نوٹ کیجئے۔دو رکعت نماز پڑھیں پھر صرف ایک یہنبوی دعا پڑھیں کہ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ ، وَ اسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ۔ وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ ۔اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ خَرٌِ لِّیْ فِیْ دِیْیْ ف وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِہ وَ اٰجِلِہ ، فَاقْدِرْہُ لِیْ ، وَ یَسِّرْہُ لِیْ ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِہِیْ ․وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْیْْر وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ.. وَ عَاجِلِہ وَ اٰجِلِہ ، فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَثُ کَانَ ثُمَّ رْضِنِیْ بِہ۔

دوستو اگر آپ کو یہ دعا زبانی نہیں آتی تو دیکھ کر پڑھ لیں ،، بس ہو گیا استخارہ ۔ تین منٹس لگتے ہیں ،، آپ اس دعا کے ترجمے پر غور کیجئے گا ،، اس میں انسان یہی دعا مانگتا ہے ، یا اللہ ، اگر اس میں دین دنیا کی بھلائی ہے تو میرے نصیب میں کر دے ، اگر نہیں بھلائی تو اس سے بہتر دے دے ۔۔ یہ بڑی عجیب دعا ہے ،اللہ کے نبی ہی یہ دعا مانگ سکتے ہے اور کسی کے بس کی بات نہیں ،اس دعاء میں نبی صلى الله عليه وسلم نے زندگی کا کوئی گوشہ بھی نہیں چھوڑا ،

اگر انسان ایڑی چوٹی کا زور لگا لیتا تو بھی ایسی دعا کبھی نہ کرسکتا جو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے تلقین فرمائی ،اگرکسی کو دعا یاد نہ ہو توکوئی بات نہیں کتاب سے دیکھ کریہ دعا مانگ لے ،اگر عربی میں دعا مانگنے میں دقت ہورہی ہو تو ساتھ ساتھ اردو میں بھی یہ دعا مانگے، بس ! دعا کے جتنے الفاظ ہیں، وہی اس سے مطلوب ومقصود ہیں ، استخارہ کی مسنون دعا احادیث کی بڑی کتب بخاری اور ترمذی میں بھی موجود ھے۔

دوستو یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ کر دوں کہ استخارہ کے بعد سونا لازمی نہیں ، خواب آنا لازمی نہیں ، اشارہ ملنا لازمی نہیں ،، کسی سے کلام نا کرنا لازمی نہیں ،،بس اگر نصیب میں وہ کام ہوا ، تو ہو جاۓ گا ، ورنہ اس سے بہتر ہو جاۓ گا۔بلکہ جو آدمی اپنے معاملات میں استخارہ کرتا ہو وہ کبھی ناکام نہیں ہوگا اور جو شخص اپنے کاموں میں مشورہ کرتا ہو اس کو کبھی شرمندگی یا پچھتاوے کا سامنا نہ کرنا پڑے گا کہ میں نے یہ کام کیوں کیا ؟یا میں نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟ ، اس لیے کہ جو کام کیا وہ مشورہ کے بعد کیا اور اگر نہیں کیا تو مشورہ کے بعد نہیں کیا ، اس وجہ سے وہ شرمندہ نہیں ہوگا ۔

ایسے افراد جو روحانیات کی صداقت پہ یقین نہی رکهتے ذرا آج کے اس عمل کو آزما کے دیکھیں ، یہ عمل کامیاب بھی هے لاجواب اور آسان بهی هے. اس عمل کی اجازت عام هے، بس استخارہ میں جو حکم ملے اس کے مطابق عمل کیجئے.کبهی زندگی میں ناکام نہی هونگے۔ بہتر یہ ہے کہ استخارہ تین سے سات دن تک پابندی کے ساتھ متواتر کیا جائے، اگر اس کے بعد بھی تذبذب اور شک باقی رہے تو استخارہ کاعمل مسلسل جاری رکھے ،

جب تک کسی ایک طرف رجحان نہ ہوجائے کوئی عملی اقدام نہ کرے ، اس موقع پر اتنی بات سمجھنی ضروری ہے کہ استخارہ کرنے کے لیے کوئی مدت متعین نہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو ایک ماہ تک استخارہ کیا تھا تو ایک ماہ بعد آپ کو شرح صدر ہوگیا تھا اگر شرح صدر نہ ہوتا تو آپ آگے بھی استخارہ جاری رکھتے تھے۔ لہذا دوستو آپ بھی استخارہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں یا پھر استخارہ کی دعا ہی روزانہ پڑھ لیا کریں ، آپ کے لئے ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ پاک آپ کا حامی وناصر ہو۔ آمین ثم آمین ۔

Leave a Comment