غربت کی کالی رات ختم کرنے والی آیات

Ghurbat ki kalii raat khatm kerny walii aayat

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ناظرین کرام۔۔۔آج پوری دنیا میں مہنگائی کے بڑھتے طوفان نے غربت کا دائرہ بڑھادیاہے اوراسی تناسب سے غریبوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہاہے۔غربت اب صرف تیسری دنیا کی خاصیت نہیں رہ گئی بلکہ دوسری اورپہلی دنیا میں بھی غربت نے اپنے پائو ں پھیلالئے ہیں اور وہ ممالک جو کبھی خوابوں کی سرزمین کہلاتے تھے یعنی امریکہ اوریوروپ وہ بھی بے روزگار کی بڑھتی شرح اورغریبوں کی تعداد میں اضافہ سے پریشان ہیں۔

لیکن دنیا میں رزق اور زندگی کی ضروریات کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور کافروں میں کوئی فرق نہیں رکھا۔ وہ رب المسلمین نہیں بلکہ رب العالمین ہے غربت کی کالی رات ختم کرنے والی آیات کا ایک مجرب عمل بتاؤں گا، اس عمل سے نہ صرف آپ کے رزق میں کشادگی ہوگی بلکہ قرضوں سے بھی نجات مل سکتی ہے ، اسی طرح اور کیا کچھ فوائد ہیں میں وہ سب فوائد بھی آپ کو بتاؤں گا

ناظرین کرام قرآن کریم نے غربت سے نجات کی راہ نمائی کی ہے اور اسلام نے اس مسئلہ کا حل پیش کیا ہے۔ لیکن وہ راہ نمائی اور حل صرف مسلمانوں کے فائدے کا نہیں بلکہ جو بھی اس سے استفادہ کرے گا اسے وہ حل فائدہ دے گا، خواہ وہ اسے قرآن کریم کے حوالہ سے اپنے دائرہ کار میں لائے یا اسلام کا نام لیے بغیر اس کے اصولوں کو اپنا لے۔ مثلاً شہد کی اپنی افادیت اور خاصیت ہے، اسے مریض کو استعمال کراتے ہوئے یہ بتا دیا جائے کہ یہ مکھی کے پیٹ سے نکلنے والی رطوبت ہے تب بھی اس کا وہی فائدہ ہوگا اور اگر نہ بتایا جائے اور مریض کو اس کا سرے سے علم نہ ہو تب بھی شہد کی افادیت اور خاصیت میں فرق نہیں پڑتا۔

یاد رہنا چاہیے کہ حضور نبیِ کریم علیہ السلام نے اپنے پہلے عوامی خطابمیں اپنی قوم سے معاشی دلدر دور کرنے کا شاندار وعدہ کیا تھا۔ آپ کے الفاظ یہ تھے کہ اگر تم میرا ساتھ دو ، تو وقت کی دونوں سپر پاورز تمھاری باجگزار بن جائیں گی اور بادشاہوں کی بیٹیاں تمھاری کنیزیں بن جائیں گی۔ اس اعلان کو قومِ قریش کے غریب امیر سب نے توجہ سے سنا اور دلچسپی کا اظہار کیا۔ اعیانِ قوم نے جب نبی کریم سے اس دعوے کی عملی صورت پوچھی اور دریافت کیا کہ دنیا کی سپر پاورز کو غلام بنانے اور ان کے مال و متاع پر قابض ہونے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہوگا تو حضرت محمد علیہ السلام نے اپنا مطالبہ پیش کیا کہ پہلے خدائے واحد پر ایمان لاؤ اور مجھے خدائے واحد کا بھیجاہوارسول تسلیم کرو اور سمعنا و اطعنا پر بیعت کرو۔

غربائے قوم تو رفتہ رفتہ آپ کے ساتھ ہوتے گئے لیکن امرائے قریش کپڑے جھاڑ کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اس یتیم زادے کی اطاعت ہم سے نہیں ہوتی ۔ جن سعید لوگوں نے حضرت محمد علیہ السلام کے دعوے کو سچا مانا اور ہر سرد و گرم میں جی جان سے آپ کے ساتھ رہے ان کو صحابہ کہتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر غریب لوگ تھے، اس قدر غریب کہ ان میں سے کیئوں کو تو 70 سے اوپر گنتی بھی نہ آتی تھی اور نہ ان کی کوئی مالی حیثیت داری تھی۔

چند امرا بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ ہوئےان تمام لوگوں کا تعلق قرآن کی آیات کے ساتھ بہت مضبوط تھا، ان میں بعضے اتنے امیر کبیر بنے کہ اس وقت میں بڑے بڑے آفشور بزنس رکھتے تھے اور خدا نے اتنا مال دے رکھا تھا کہ ان کے ترکے کا سونا کلھاڑوں سے کاٹ کاٹ کر تقسیم کیا گیا۔لہذا جو شخص روزانہ دن میں کسی بھی وقت قرآن پاک کی سورۃ فجر ایک مرتبہ کی تلاوت کا اہتمام کرتا ہے اللہ تبارک وتعالٰی اس کو اور اس کی نسلوں کو فاقوں، تنگدستی اور غربت سے محفوظ رکھتا ہے۔

اس عمل سے نہ صرف آپ کا رزق کشادہ ہوتا ہے بلکہ قرضوں سے بھی نجات ملتی ہے ،سورۃ الفجر قرآن مجید کی 89 ویں سورت ہے جس میں 30 آیات اور 1 رکوع ہے۔پہلے ہی لفظ والفجر کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔اس سورۃ میں اللہ نے قسمیں کھائی ہیں،لہذاجب بھی کوئی پریشانی آئے کوئی مسئلہ اچانک کوئی مصیبت آجاتی ہے تو یہ سورۃ پاک کا فوراً ورد شروع کر دیں انشاء اللہ تعالی ناظرین اس کے کرنے سے کوئی بھی پریشانی ہوگی کوئی بھی غم ہوگا کوئی بھی تکلیف ہوگی

انشاء اللہ تعالی فوراً دور ہو جائے گی مگر پریشان نہیں ہونا چاہیے گھبرانا نہیں چاہیے کوئی بھی غم کوئی بھی پریشانی آئے تو فوراً سورۃ فجر کا ورد شروع کر دینا چاہیے انشاءاللہ کوئی بھی حاجت ہوگی پوری ہو جائے گی۔یاد رہےکہ اسلام لوگوں کو غریب و بے روزگار کرنے یا نادار و دست بنانے کے لیے نہیں آیا بلکہ نبی کریم علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں سے مالی آسودگی اور معاشی تونگری کا وعدہ کیا تھا جو جھوٹا نہیں ہوسکتا۔

معاشی ترقی کے اس نبوی ہدف کے حصول کے لیے آپ علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں میں جانفشانی کا جوہر توانا رکھا اور ان کو بجائے مانگنے اور چندہ جمع کرنے کے محنت مشقت کا عادی بننے کی مستقل ترغیب دی۔ ایک فقیر سوال کرنے آیا تو اس کا کشکول بکواکر اسے کلھاڑی خریدوا دی اور محنت کرکے کمانے کھانے کی راہ سجھائی۔ آپ کے اس عمل کو سب صحابہ نے دیکھا اور اس پر عمل کیا، قرآن سے مضبوط رشتہ قائم کیا اور رفتہ رفتہ بیشتر صحابہ مالدار ہوگئے۔

افسوس کہ معاشی کامیابی اور ترقی کے لیے اسلامی تعلیمات کا یہ شاندار پہلو آج بیشتر لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہے۔اللہ تعالی نے اپنے بندوں کا رزق درجہ بندی کے اعتبار سے تقسیم کردیا ہے، اور یہ درجہ بندی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، امیری اور فقیری بندوں کیلئے اللہ تعالی کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے؛ اللہ تعالی کسی کو فراوانی سے اس لئے نوازتا ہے تا کہ وہ دیکھے کہ بندہ حمد وشکر بجالاتا ہے یا سرکش بنتا ہے،

اور کسی پر دنیاوی تنگی امتحان لینے کیلئے ڈالتا ہے کہ بندہ صبر و تحمل سے کام لیتا ہے یا جزع فزع کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے، لہذا صبر کو اور قرآن پاک کی سورۃ فجر کو اپنے اوپر لازم کر لو۔ہماری دعابھی ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کے نیک اور جائز مقاصد پورے فرمائے اور تکلیف دور فرمائے اور ہمیں پانچ وقت کی نماز کے ساتھ قرآن پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین۔

Leave a Comment