جو شخص صبح گھر سے نکلنے سے پہلے یہ آیت ایک بار پڑھ لے سارا دن ہر قسم کی پریشانی اور مشکلات سے محفوظ رہے گا۔ چند منٹ کا عمل اور پورا دن رہیں بے فکر۔

Jo shakhs subah gher sy nikaln sy pehlay

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ناظرین کرام۔۔۔رات کے بعد دن کے آنے میں ہوش مند لوگوں کے لیے نشانیاں بلکہ رات کے بعد صبح کا آنا اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نشانی اورنعمت ہے۔روزانہ دن اور رات کے پیدا ہونے کے متعلق قرآن مجید میں بکثرت ارشادات بھی ہیں،قرآن کہتا ہے کہ یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور ہر اس چیزمیں جو اللہ تعالٰی نے زمین و آسمانوں میں پیدا کی ہے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غلطبیانی و غلط روی سےبچنا چاہتے ہیں۔

اللہ ہی دن پر رات اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے۔ یہ رات اور دن ، سورج اور چاند،اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اسی لئے اس صرف اللہ کی عبادت کرو جس نے انہیں پیداکیا ہے۔ لہذادوستو ، جو لوگ ایمان والے ہیں وہ صبح گھر سے نکلنے سے پہلے یا گھر میں دن کا آغاز کرنےسےپہلےچند منٹ کا نبوی عمل یعنی چند آسان سے، مختصر قرآنی الفاظ ، ایک بار پڑھ لیں تو سارا دن ہر قسم کی پریشانی اور مشکلات سے محفوظ رہیں گےبلکہ پورا دن بے فکر ہو جائیں آپکو کسی طرح کی ذہنی بیماری نہیں ہوگی اللہ تعالی آپ کو پاگل نہیں بنائے گا بزرگوں کا کہنا ہے جن لوگوں کو مرگی یا بھولنے کی عادت ہے۔

وہ بھی ان الفاظ سے شفایاب ہوسکتے ہیں۔اور اگر آپ کی نظر کم ہے تو آپ اس عمل کو ایک بار ضرور پڑھیں بلکہ جس بھائی یا بہن کے ہاتھ پائوں اچانک کام کرنا چھوڑ جائے تو وہ بھی اس تسبیح کو صبح کے وقت ضرور پڑھیں ۔یہ عمل آپ ﷺ کا بتایاہوا عمل ہے ناظرین کرام جو لوگ اولاد کی نافرمانی کی وجہ سے پریشان ہیں یا بعض خواتین اپنے خاوند کے بے راہ روی کے متعلق غمگیں رہتی ہیں، کچھ لوگ مال، اسباب کے ختم ہوجانے پر غم میں ڈوبے رہتے ہیں، بعض لوگوں کو اولاد نہ ہونے کا غم،شاید اس لیے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا کہ یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے ، غم،دکھ اور پریشانی کا آجانا کوئی نئی بات نہیں یہ تو اس کا ئنات کے افضل ترین انسانوں یعنی انبیائے کرام کو بھی آئیں۔

لیکن خاتم النبیین آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشکلات سے نکلنے کا راستہ بھی خود ہی بتا دیا بلکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ خود روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص شروع دن میں آیت الکرسی اور سورۃ مومن کی یہ پہلی تین آیتیں حٰم۔تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ ۔ غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ ۙ ذِي الطَّوْلِ ۭ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۔ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ۔

بس یہ پڑھ لے وہ اس دن ہر برائی سے اور ہر تکلیف سے انشا اللہ محفوظ رہے گا۔یاد رہےکہ اللہ تعالی کی رحمت اس کے عذاب پر حاوی ہے ، انسان جب کسی مصیبت پریشانی اور غم میں مبتلا ہو جائے تو اسے چائے کہ اللہ تعالی سے کثرت کے ساتھ استغفار و توبہ کرے،یعنی فوراً اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے پرور دگار سے مغفرت طلب کرے، اور اس کی طرف رجوع کرے، سچی توبہ کرتے ہوئے گناہوں کو چھوڑ نے کا عہد کرے، کیونکہ اکثر مصائب انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں ۔

ارشاد باری تعالی ھے کہ تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔ اس دنیا میں کسی بھی انسان کو دائمی خوشی اور نہ دائمی غمحاصل ہے ، بلکہ کبھی غم ہے تو کبھی خوشی، کبھی درد والم ہے تو کبھی فرحت ومسرت، کبھی بیماری ہے تو کبھی صحت، کبھی تفکرات والجھنیں ہیں تو کبھی بے فکر ی ، کبھی تنگی ہے تو کبھی آسودگی، کبھی سکون ہے تو کبھی بے چینی، کبھی سردی ہے تو کبھی گرمی، کبھی امن ہے تو کبھی بد امنی، کبھی تکلیف ہے تو کبھی راحت۔یہ سلسلہ ہرفرد بشر کے ساتھ لگاہوا ہے،

کوئی اس سے خالی نہیں، مگر بسااوقات کسی پر دَرد والم ،مصائب ومشکلات اورپریشانیوں والجھنوں کا سلسلہ دراز ہوجاتاہے تو وہ سمجھ بیٹھتاہے کہ ساری دنیا کی مصیبتیں اسی کیلئے مختص کردی گئی ہیں۔ہم میں سے بہت سے لوگ ہیں جو مصائب ومشکلات اورالجھنوں وپریشانیوں کے لامتناہی سلسلہ سے بہت بددل ہوجاتے ہیں کہ ان کی زندگی مصیبتوں اورآزمائشوں کی مجموعہ بن گئی ہے، کہ ایک مصیبت سے چھٹکارہ نہیں ملتا کہ دوسری مصیبت حملہ آور ہوجاتی ہے، ایک پریشانی دور نہیں ہوتی کہ دوسری اس سے بڑی پریشانی گھیر لیتی ہے۔

وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کی قسمت ہی ایسی بنائی گئی ہے کہ اس میں کبھی شاید ہنسی خوشی نہیں، شاذ ونادر ہی کبھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ تیرتی اورمسرت کے لمحات سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتاہے۔ انہیں یہ دائمی احساس ستاتا رہتاہے کہ یہ مصائب وآلام، یہ مشکلات وپریشانیاں اوریہ آزمائش وآفات وبلائیں شاید اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں سزا دینے کیلئے ہیں۔ انہیں یہ سزائیں ان کے گناہوں ومصیبتوں کے پاداش میں دیجارہی ہیں جس کا انہوں نے دانستہ یانادانستہ ارتکاب کیاہے،

یازندگی کے کسی موڑ اورکسی لمحے میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا عمل کیاہے جس کی سزا انہیں ان مصیبتوں کی شکل میں بھگتنی پڑرہی ہے۔ اس احساس کی وجہ سے ان کی مصیبتوں میں اوربھی شدت پیدا ہوجاتی اوران کا درد اوربھی گہرا ہوجاتاہے اورآہستہ آہستہ ان کا یہ احساس نفسیاتی بیمار ی وتکلیف میں تبدیل ہوجاتاہے جس کے بعد وہ صبر کا دامن چھوڑ بیٹھتا اوراس کے اندر سے اِن مشکلات سے نبرد آزما ہونے ومزاحمت کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

لیکن اس میں شبہ نہیں کہ مومن ہونے کے ناطے غلطیوں وگناہوں پر ندامت اوراس کا احساس اچھی بات ہے بلکہ ہر مومن کو اپنی کوتاہیوں کو ٹٹولنا اورمعصیتوں پر نظر رکھنا چاہئے اوراللہ سے اس کی معافی مانگنی چاہئے اورتوبہ واستغفار کے ذریعہ اللہ سے عفو ودرگزر کی درخواست کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمت وعنایت کا خواستگار ہونا چاہئے مگر اس کے بعد اسی فکر میں پڑے رہنا اورمایوسی کا شکار ہونا درست نہیں بلکہ توبہ ومعافی کے بعد اللہ تعالیٰ سے بہتر امید رکھنی چاہئے۔

احساس ندامت ضمیر اورایمان کی موجودگی کی علامت ہے دوستو ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو پابندی سے استغفارکرتا ہے اور جو ہر شروع دن میں آیت الکرسی اوراور سورۃ مومن کی پہلی تین آیتیں پڑھ لے وہ اس دن ہر برائی سے اور تکلیف سے انشا اللہ محفوظ رہتاہے۔اللہ تعالی اس کے لیے ہر فکر سے کشادگی اور ہر تنگی سے راستہ بنا دیتا ہے،اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ لہذا ہماری دعا ہے اللہ پاک ہمیں ہر صبح آیت الکرسی اوراور سورۃ مومن کی پہلی تین آیتیں پڑھنے والا بنائے۔ آمین۔ ثم آمین۔

Leave a Comment