سورۂ الم نشرح کے کمالات و معجزات

foori ameer hony ka khas wazeefa

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔

السلام علیکم ۔۔۔ ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ ناظرین  کرام۔۔۔ سورہ الم نشرح تحفہ ہے۔ سورہ الم نشرح کا  محرم اور صفر  کے مہینے کے ساتھ بڑا تعلق ہے جیسے دُرود پاک کو جمعے کے ساتھ نسبت خاص ہے۔ اسی طرح سورۃ الم نشرح کو خاص مقام حاصل ہے سورۂ الم نشرح کے کمالات و کرامات سے آگاہ  کروں گا  ، سورہ الم نشرح کا یہ وظیفہ کسطرح پڑھنا ہے ،آپ بھی ضرور  جانئے اور ڈھیروں خوشیاں پائیے، سورہ الم نشرح بڑی کمال کی سورت ہے ۔

خواتین حضرات کے لئے بہت نایاب تحفہ ہے۔اس سورۃ سے متعلق   ایک ہندو لڑکی کا  واقعہ بھی سناؤں گا  تاکہ آپ کا ایمان تازہ ہوعزیز خواتین وحضرات، میں  ایک اللہ والے کی کتاب پڑھ رہا تھا جس میں انہوں نے لکھا کہ میں مدرسہ میں پڑھاتا تھا ایک دن میرے پاس ایک ہندو(جو کہ مسلمان ہوچکا تھا) آیا جسے میں جانتا تھا وہ آکر کہنے لگا حضرت شہر کے مجسٹریٹ کے پاس میرا کیس لگا ہے آپ میری سفارش کردیجئے۔مجھے اس کے آنے پرمعلوم ہوا کہ وہ اب مسلمان ہوچکا ہے۔

میں نے کہا پہلے تو بتا کہ تو مسلمان کیسے ہوا؟ اب اس نے سورئہ الم نشرح کی کہانی سنائی کہ میرے خاندان کا شہر کے معززین میں شمار ہوتا تھا۔ میرے والد کا کپڑے کا کاروبار تھا میں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تعلیم سے فارغ ہوکر میں والد کی دوکان پر بیٹھنے لگا پھر ایک آریہ سماج خاندان میں میرا رشتہ طے ہوگیا اور میری شادی ہوگئی۔ شادی کے کچھ عرصہ کے بعد میں بیمار ہوگیا۔ ٹی بی کی بیماری لاحق ہوگئی بہت علاج کروایا لیکن کوئی فرق نہ پڑا۔

میری بیوی کا بھائی شہر کا مشہورڈاکٹر تھا وہ گھر میں آتا میرا علاج کرتا دوائی وغیرہ دے کر چلا جاتا لیکن مرض بڑھتا گیا۔ پھر ایک دن ڈاکٹر بھائی بھی جواب دے گیا کہ اب مرض لاعلاج ہوگیا ہے اب تو پرہیز وغیرہ چھوڑ دے جو تیرا دل چاہے کھالے اس کی بات سن کر میں رونے لگا آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میری بیوی میرے پاس آئی اور کہنے لگی کیا ہوا؟ کیوں روتے ہو؟ میں نے کہا ڈاکٹر بھائی یہ کہہ کر گیا ہے۔ بیوی نے کہا اگر میں علاج کروں اور تو تندرست ہو جائے تو میری بات مانے گا۔

میں نے کہا کیوں نہیں تیری بات نہیں مانوں گا تو اور کس کی مانوں گا میں نےوعدہ کرلیا۔ اب بیوی نے علاج شروع کردیا وہ روز میرے پاس آتی چار پائی پر بیٹھ جاتی اور کچھ پڑھ کر میرے چہرے پر جسم پر پھونک دیتی۔ میں سمجھتا رہا کہ وید(ہندو ں کی کتاب) میں سے کچھ پڑھ کر آتی ہے اور میرے اوپر پھونک دیتی ہے۔ میں جو چار پائی سے اٹھ نہیں سکتا تھا ایک ہفتہ کے بعد چارپائی سے اٹھ کر چلنے پھرنے لگا۔ دوسرے ہفتے میں میں بالکل ٹھیک ہوگیا۔ تیسرے ہفتہ میں والد کی دوکان پر جانے لگ گیا۔

پھر ایک دن میری بیوی نے کہا کہ اب تو ٹھیک ہوگیا ہے وہ وعدہ یاد ہے۔ اب وہ وعدہ پورا کروقت آگیا ہے۔ وہ اندر گئی اور قرآن پاک لیکر آگئی۔ اب اس نے اپنی کہانی سنائی کہ میں کیسے مسلمان ہوئی۔ اس کی بیوی نے کہا کہ میں جب چھوٹی تھی بچپن تھا ہمارے محلے میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی امام صاحب کی بیوی کے پاس محلہ کی بچیاں بچے پڑھنے کیلئے جاتے تھے میں بھی ان کے ساتھ چلی جاتی وہ بچوں کو قاعدہ وغیرہ پڑھاتی میں بھی پڑھتی رہتی۔

آہستہ آہستہ میں نے تمام قاعدے پڑھ لیے پھر میں نے قرآن پڑھنا شروع کردیا جب میں تمام قرآن پڑھ لیا تو استانی جی نے کہا کہ کچھ سمجھ آئی میں نے کہا کہ کوئی سمجھ نہیں آئی کیونکہ جب تک ترجمہ نہ پڑھا جائے سمجھ نہیں آتی۔ استانی جی نے کہا اب ترجمہ کے ساتھ پڑھو۔ اب میں نے ترجمہ ساتھ پڑھنا شروع کیا جب سارا قرآن باترجمہ پڑھ لیا تو استانی نے کہا اب سمجھ آئی؟ میں نے کہا اب ساری سمجھ آگئی ہے بس مجھے کلمہ پڑھائو۔

استادنی نے کہا دیکھو گھروالوں سے اپنے مسلمان ہونے کا ذکر نہ کرنا۔ تمہارا خاندان آریہ سماج خاندان ہے ہم لوگوں کو تنگ کرے گا ہم مشکل میں پھنس جائیں گے۔ میں گاہے بگاہے استانی جی کے ہاں چلی جاتی قرآن پڑھتی نماز نفل پڑھ کر آجاتی۔ ساتھ ساتھ وید کی تعلیم حاصل کی۔ جب تم سے میری شادی طے ہوگئی تو میری استانی نے میری والدہ سے کہا کہ میں اس بچی کو تحفہ کے طور پر کپڑے کا سوٹ دینا چاہتی ہوں میری والدہ نے کہا ہاں ہاں کیوں نہیں دے دینا۔

میں نے موقع غنیمت جان کر اپنی استانی سے کہا جب میں ڈولی میں بیٹھ جائوں تو کپڑے کے سوٹ میں قرآن مجید لپیٹ کر مجھے دےدینا۔ استانی جی نے ایسا ہی کیا میں نے سوٹ لیا اور بغل میں چھپا کر لے آئی۔ اس میں ایک ایسی سورئہ ہے جو بیماروں کو شفا دیتی ہے۔ میں جو روز پڑھ کر پھونک مارتی تھی وہ یہی سورئہ الم نشرح ہے۔ میں قرآن کا معجزہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور کلمہ پڑھ لیا۔

 لہذا ایسے لوگ جو دنیاوی طور پر کافی پریشان رہتے ہیں ،ان کی یادداشت خراب ہوجاتی ہے،سینے پر بوجھ سا رہتا ،دل ذرا ذرا سی بات پر گھبرا جاتا ہے،انجانے خوف پریشان کرتے ہیں او رکاروبار یا نوکری پر جم کر نہیں بیٹھ پاتے،وسوسے کھائے رکھتے ہیں اور قوت ارادی کمزور ہوجاتی ہے۔جو لوگ علم سے وابستہ ہیں اور ان کا ہر کام علوم کا محتاج ہوتاہے ،جیسے طالب علم،ڈاکٹر،وکیل وغیرہ تو ایسے تمام حضرات سے عرض ہے کہ وہ سورہ الم نشرح روزانہ اکیس بار پڑھا کریں ۔

اوّل آخر درود پاک کے بعد سورہ الم نشرح کی تلاوت کرنے والوں پر ہر طرح کے مصائب کا سامنا کرنے کی ہمت بڑھ جاتی ہے،انکی رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔دل اور دماغ کھل جاتا ہے ۔دل کے مریضو ں کو دل پر اور ڈپریشن و وہموں میں رہنے والوں کو سر پر ہاتھ رکھ کر روزانہ گیارہ گیارہ بار یہ سورہ مبارکہ پڑھنی چاہئے۔  سورة الم نشرح کے اندر بڑی تاثیر اور بڑی طاقت ہے۔دل کے وال،گردوں کی پتھریاں،پتے کی پتھریاں ،مثاے کی پتھریاں نکل جاتی ہیں جو شخص اس کو یقین طاقت توجہ اور مستقل مزاجی سے پڑھے اللہ اس کے لیے خیرکے دروازے کھول دیتا ہےاللہ رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے میں نے بچوں کی کامیابیوں کے لیے بہت بتایا ہے۔

میں نے ایک شخص کو بتایا کہ روزانہ اکیس یا اکتالیس بار سورة الم نشرح تیل پر پڑھ کے تیل سرمیں لگایا کریں اس کی تاثیر بدل جائے گی ۔ا ب اس تیل کو لگا تیرا سر تیرا دماغ تیری آنکھیں تیرا شعورتیرا احساس تیرا ادراک یہ کھلے گا۔الم نشرح کی برکت سے زندگی کے راستے کھلتے ہیں۔یہ وظائف تسبیحات اور ذکر یہ فاصلے درد سے طے ہوتے ہیں ، یہ چیزیں خلوص سے اندر کے درد سےطے ہوتی ہیں۔

اسی طرح  دشمن کو ذلیل کرنے اور اس کے دل میں ہیبت ڈالنے کے لیے فرض نمازوں کے اہتمام کے ساتھ صبح شام سورہ الم نشرح اور چاروں قل سات سات مرتبہ اور اول وآخر گیارہ گیارہ بارہ درود شریف پڑھ کر اپنے اوپر دم کریں اور پانی پر دم کرکے پئیں، ہر قسم کے موذی امراض، سحر اور مصائب سے بچاؤ کے لیے مجرب ہے۔

تنہائی میں سورہ الم نشرح تین سو بار پڑھیں۔ انتہائی احسن عمل ہے یاد رہےکہ قرآن مجید کے ہر حرف میں ثواب و تاثیر شفا وبرکات ہیں ۔ آپ بس  اس سورۃ کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں اور بے شمار فوائد حاصل کرتےچلےجائیں

Leave a Comment