سورۃ اخلاص پڑھنے پر جنت واجب۔ یا سورۃ اخلاص پڑھنے کےنوفائدے۔

Soorat Ikhlas perhny per jannat wajib

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔ ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ناظرین کرام۔۔۔قرآن حکیم کی تلاوت باعث برکت و ثواب ہے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن حکیم کی بعض سورتوں کے بڑے فضائل بیان فرمائے ہیں جن کے پڑھنے سے جہاں دنیاوی اور اخروی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہاں روز مرہ زندگی کے امور میں برکت ہوتی ہے ۔

ان فضائل کی ایک دوسری حکمت یہ بھی ہے کہ ان میں روز مرہ زندگی گزارنے کا طریقہ اور سلیقہ بھی بتایا گیا ہے ۔انہی سورتوں میں قرآن حکیم کے آخری پارے میں موجود ایک مختصر اور انتہائی آسان سورہ مبارکہ ’’سورہ اخلاص ‘‘ ہے ۔احادیث میں سورت اخلاص کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ،حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ وہ رات میں قرآن مجید کا تہائی حصہ پڑھ لے؟

صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو یہ بات مشکل معلوم ہوئی اور انہوں نے عرض کی کہ یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟آپ صَلَّی اللّٰہُ ہے؟آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے۔آج ہمارا سب سے خاص وظیفہ سورہ اخلاص کا وظیفہ ہے اس کے بے شمارفائدے ہیں۔ اس سورۃ میں خالص توحید ہے۔

اور اللہ کو محسن اورخالص لوگ بے حد پسندہیں،یہی وہ لوگ ہیں جن کی دعاوں میں برکت ہوتی ہے اور وہ دعائیں مستجاب ہوتی ہیں۔میں نے اب تک دیکھا ہے اور یہ مشاہدہ کیا ہے کہ جو لوگ اللہ سے خلوص نیت سے مانگتے ہیں چاہے وہ مادی ہو یا روحانی معاملہ،اسکو ملا ہے۔ایسے لوگوں کو میں نے سورہ اخلاص کاخاص ذکر کرتے دیکھا ہے ۔ سورہ اخلاص کا عمل کرنے والے بیماریوں اور عداوتوں سے محفوظ رہتے ہیں،میاں بیوی میں محبت بڑھ جاتی ہے،رشتوں میں اخلا ص پیدا ہوجاتا ہے،مندا چل رہا ہوتو کاروبار بڑھ جاتا ہے۔

جو سورہ اخلاص کا وظیفہ کرتا ہے اسے زندگی کی بڑی کامیابیاں مل جاتی ہیں۔لوگوں میں شہرت عزت چاہتے ہیں-آپ چاہتے ہیں لوگ آپ سے محبت کریں-آپکی عزت کریں لوگوں کا ہجوم ہو اس عمل سے تسخیر عام خاص اتنی ہوتی ہے کے آپ حیران ہو جاوگے-اور اس عمل سے آپکی روحانیت اتنی بڑھ جائے گی کہ آپ سوچ نہیں سکتے اس عمل کو کرنے سے رجعت نہیں ہوتی روحانیت بہت بڑه جاتی ہے-جو سوچوگے ہونے لگ جائے گا-

ایسے ایے کام ہونگے کے آپکے وہم و گمان میں نہیں ہوگا -جس بندے رشتے دار کا سوچیں گے وہ ناراض ہے وہ آجائے گا-جس کو دم کریں گے یا فون پہ دم کریں گے اللہ پاک اسکو شفا دے گا-اسکے اثرات چند دنوں میں شروع ہو جاتے ہیں-بہت ہی نایاب عمل ہے ناظرین کرام۔۔۔۔روزانہ 200 دفعہسورۃ اخلاص پڑھنے سے 9 فائدے حاصل ھوتے ہیں۔ایک یہ کہ اللہ رب العزت 300دروازے غضب کے بند کرے گا مثلا دشمنی،قہر،فتنہ وغیرہ۔

دوسرا یہ کہ اللہ تین سو دروازے رحمت کے کھولے گا۔تیسرا فائدہ تین سودروازے رزق کے کھولے گا۔تیسرا اللہ تا لی اپنے غیب سے رزق دے گا بغیر محنت کے۔چوتھا اللہ تا لی اپنے علم سے علم دے گا، اپنے صبر سے صبر اور اپنی سمجھ سے سمجھ دے گا۔پانچواں فائدہ یہ ہے کہ پانچ مرتبہ قرآن شریف ختم کرنے کا ثواب ملے گا.چھٹا فائدہ چھ سال کے گناہ معاف ہوں گے۔ساتواں اللہ پاک جنت میں 20بنگلے دے گا.یاقوت،مرجان،ذمرد کے بنے ہوۓہوںگے.ہربنگلےمیں 70،000 دروازےہوںگے۔

آٹھواں2000ہزار رکعات نفل پڑھنے کا ثواب ملے گا. نواں فائدہ جب بھی مرے گا تو جنازے میں ایک لاکھ دس ہزار فرشتے شمولیت کریں گے۔بلکہ ایک روایت میں حضرت انس ؓ سے منقول ہے کہ ہم رسول کریم ؐ کے ہمراہ تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل ؑ تشریف لائے ان سے پوچھا کہ سورج کے لیے ایسا کیا سبب پیش آیا کہ میں اس کو ایسی روشنی و نور کے ساتھ دیکھ رہا ہوں کہ پہلے کبھی اس طرح طلوع ہوتے نہیں دیکھا ؟

انہوں نے کہا اس کا سبب یہ ہے کہ آج مدینہ میں معاویہ ابن معاویہ لیثی کا انتقال ہو گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ستر ہزار فرشتے بھیجے تاکہ وہ ان کی نماز جنازہ پڑھیں۔آپ ؐ نے پوچھا کہ اے جبرائیل ! اس فضیلت و کرامت کا سبب کیا ہے ؟حضرت جبرائیل ؑ نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ قل ہو اللہ احد بہت زیادہ پڑھتے تھے کھڑے بیٹھے ،چلتے پھرتے اور دن و رات کے دوسرے اوقات میں ،پھر جبرائیل ؑ نے عرض کیا کہ میں آپ ﷺ کے لیے زمین سمیٹ لوں تاکہ آپ ؐ ان کی نماز جنازہ پڑھا سکیں ؟ آپؐ نے کہا ہاں ۔چنانچہ آپ ؐ نے ان کی نمازجنازہ پڑھائی۔

دوستو اگر آپ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھتےہیں تو اللہ آپ کی مغفرت فرمائےگا اور اللہ کے حکم سے جنت آپ پر واجب ہوگی۔ اسی طرح تفسیر صاوی میں لکھا ہے کہ جو شخص گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرے اور اگر گھر خالی ہو تو حضورِ اَقدس ﷺ کو سلام کرے اور ایک بار قُلْ هُوَ اللّٰهُپڑھ لیا کرے تو اِنْ شَآءَاللہ فقرو فاقہ سے محفوظ رہے گا اور یہ بہت مُجَرّب عمل ہے۔

بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :حضور پُر نور ﷺنے ایک شخص کو ایک لشکر میں روانہ کیا،وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو (سورۂ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کے بعد)سورۂ اخلاص پڑھتے تھے۔ جب لشکر واپس آیا تو لوگوں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے یہ بات ذکر کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے ارشاد فرمایا: ’’اس سے پوچھو کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟

جب لوگوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا:یہ سورت رحمن کی صفت ہے اس وجہ سے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں.تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اسے بتا دو کہ اللّٰہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتا ہے۔ بلکہ فرمایاکہ اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کردے گی۔۔ لہذا دوستو سورۃ اخلاص کو ہمیشہ معمول میں رکهیں ۔دعا ہے اللہ رب العزت ہمیں نیک اعمال کرنے اور سنت نبوی ؐ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین۔

Leave a Comment