دعا کی کنجی۔ صرف ایک آیت کاعمل

yeh aik lafz ka wazeefa

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ناظرین کرام۔۔۔آج ہم اپنے دیکھنے والوں کو دعا کی قبولیت کا انوکھا عمل بتائیں گے اور آپ کو دعا کی قبولیت سے متعلق ان تمام باتوں سے بھی آگاہ کریں گے جن کے بارے میں آج سے پہلے آپ لاعلم تھے۔یہ عمل ایسا عمل ہے کآتپ اس عمل سے اللہ پاک سے جو بھی مانگو گے اللہ پاک وہ عطا کر دیتے ہیں اور فوراً عطا کر دیتے ہیں ذاتی مجرب عمل ہے۔

مجھے ایک خاتون کی کال آئی پشاور سے کہا ایسا عمل بتا دیں کے جس سے تمام جائز امور میں استعمال کریں اور فوراً کام بنے یہ آیت بتا دی کچھ دن بعد کال کی حیران تھی کہآپ نے مجھے ایسا عمل عطا کیا ہے کے جو بھی جس وقت مانگتی اللہ پاک عطا کر دیتا ہے۔اسی طرح ایک ریڑھی والے سے فروٹ لے رہا تھا تو وہ کہتا ہے فروٹ بکتا نہیں کبھی کبھی تین تین دن تکنہیںبکتا۔ میں نے کہا قرآن پڑھے ہو کہتا ہے ہاں میں نے یہ آیت ایک پرچی پہ لکھ کے سمجھا دی میں نے کہا کے جب بھی ریڑھی لگاو یا فروٹ منڈی سے لو یہ پڑھ لیا کرو ہفتے بعد جب دوبارہ اس راستے سے گزر رہا تھا تو اس نے آواز دی پیچھے سے اور کہا کے آپکا انتظار کر رہا تھا کہ کب آئیں گے ۔

کہنےلگاکہ آپ نے جو عمل بتایا ہے بے انتہا کمال کا ہے پہلے دن ہی عمل کیا تو ایک گھنٹے میں سارا فروٹ بک گیا اور دوبارہ منڈی سے لایا وہ بھی بک گیا اور تیسری بار پھر گیا لینے وہ بھی عصر سے پہلے بک گیا اس نے کچھ فروٹ تحفتاً دئیے اور کہا کے اب میں زیادہ فروٹ لاتا ہوں تاکہ بار بار جانا نہ پڑھے اور اللہ کے فضل سے سب بک جاتا ہے۔ اسی طرح جو انٹرویو کے لئے جاتا اسے بھی میں یہ عمل بتا دیتا ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

جو امتحانات کے دوران پڑھتا اسکے اچھے مارکس آتے جس کے کہیں پیسے پھنسے ہوتے اسکو بتاتا وہ بندہ خود پیسے دینے جاتا جس کی تنخواہ کم ہوتی اسکو بتاتا اسکی تنخواہ میں اضافہ ہو جاتا ۔آپ کو گھر کی خواہش ہو گاڑی کی جاب کی جس چیز کی بھی ۔ آپ کر کے دیکھیں ان شاءاللہ میرے اللہ نے چاہا تو ضرورجائز امور میں آپ اس عمل کو استعمال کریں کبھی مایوسی نہیں ہوں گے۔
ناظرین کرام اللہ رب العزت تمام خوبیوں کا مالک اور سارے جہان کا پالنہار ہے۔

اللہ غنی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ھو۔سارے بندے شاہ و گدا اللہ رب العزت کے محتاج ہیں ۔ زمین و آسمان کے سارے خزانے اللہ ہی کے ہیں وہی جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے ۔ ہر شخص محتاج ہے انسان کی محتاجی اور فقیری کا تقاضہ یہی ہے کہ بندہ اپنے رب سے اپنی حاجت و ضرورت کو مانگے ۔ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتا ہے اور دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔

جامع ترمذی میں فرمان نبوی ﷺ ھے کہ دعا عبادت کی روح اور اس کا مغزہے ۔رب تعالیٰ نے انبیا ء کرام و صالحین اور اپنے بندوں کو نہ صرف دعا مانگنے کی تعلیم دی بلکہ دعا مانگنے کا طریقہ بھی بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: تمہارے پروردگار نے کہا کہ تم مجھ سے دعا کرومیں تمہاری دعا قبول کروں گا۔حضرت ابراہیم ادہم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اے! لوگو تمہار ے دل آٹھ چیزوں سے مردہ ہوگئے ہیں

تو پھر دعائیں کیسے قبول ہوں (۱) تم نے خدا کی معرفت حاصل نہیں کی(۲) تم نے محبت رسول ﷺ کا دعویٰ کیا مگر سنتوں پر عمل نہ کیا(۳) تم نے موت کو برحق جانامگر اس کے لیے تیاری نہ کی(۴)تم نے اللہ کی نعمتیں کھائیں مگر اس کا شکر ادا نہ کیا(۵) تم نے قرآن مجید پڑھا مگر اس پر عمل نہ کیا(۶) تم نے عداوت شیطان کا دعویٰ کیا مگر اس کی مخالفت نہ کی(۷) تم نے دوسروں کی عیب جوئی کی مگر اپنے عیب نہ دیکھے(۸) تم نے مردوں کو دفن کیا مگر عبرت حاصل نہ کی قبروں کو ڈھاتے ہو اور بڑے بڑے محلات تعمیر کرتے ہو،

مال جمع کرتے ہو مگر حساب دینے سے غافل ہو۔ بلکہ فرمان نبوی ﷺ ھے جو شخص دور دراز کا سفر کرے اور نہایت پریشان و پراگندگی کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر یا رب یارب کہتے ہوئے دعا کرے جبکہ اس کی غذا اور لباس سب حرام سے ہو اور حرام کی کمائی استعمال کرتاہو تو اس کی دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے؟دعا کی قبولیت کا انوکھا عمل یہ ہی ہے کہ لقمہ حلال کا ہو تو تو آپ کی ہر جائز دعا انشا اللہ قبول ہوگی، دعا کے شروع میںگیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پڑھیں پھر گیارہ مرتبہ سورہ مائدہ کی آیت نمبر ایک سو چودہ اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ ۚ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ۔

اس کےبعد پھر 11 مرتبہ درود ابراہیمیپڑھکر آسمان کی طرف منہ کر کے پھونک مار دیں اور اللہ پاک سے اپنی حاجت طلب کریں ان شاء اللہ اللہ پاک اپنے فضل سے آپکی حاجت پوری فرمائیں گے۔ ایک صاحب کو عمل بتایا اس نے پڑھا بقول اسکے کچھ وقت انتظار کیا کام نہیں ہوا میں نے کہا میرے پڑھنے میں کمی تھی دوبارہ کیا نہیں ہوا تیسری مرتبہ پھر کیا تو اللہ پاک نے عطا کر دیا۔یہ بتانے کا مقصد کے ساری کمی کوتاہیاں ہم میں ہیں عمل اپنی جگہ بالکل سچا پکا ہے….!!!

جو بھی مسلمان اپنے کسی بھی مقصد کے لیے اس عمل کے ساتھ دعا کرے گا اللہ تعالی اس دعا کو انشا اللہ قبول فرمائیں گے ۔باقی دعاؤں کی قبولیت کی جو شرائط احادیثِ مبارکہ میں آئی ہیں، اور جو آداب واحکام بیان کیے گئے ہیں، ان کو پورا کرنا دعاؤں کی قبولیت کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔یادرہےکہ دعا کافروں کی بھی قبول ہوتی ہے: دنیا میں کفار کی بعض دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔ کفار مصیبت میں پھنس کر دعا کرتے تھے رب انہیں نجات دے دیتا تھا۔

شیطان نے اپنی درازی عمر کی دعا مانگی جو قبول ہوئی۔ حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:میں نے رب سے تین دعائیں کیں ،ان میں سے دو قبول ہوئیں۔ایک یہ کہ میری امت قحط سالی سے ہلاک نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ انہیں غرق( ڈوبا کر) بالکل تباہ نہ کیا جائے۔یہ دونوں قبول ہوئیں۔تیسرے یہ کہ آپس میں جنگ و جدال نہ ہو ،یہ قبول نہ ہوئی۔موجودہ دور میں بھی ہماری دعاؤں کی نا قبولیت ہمارے اوپر بدترین لوگوں کا تسلط ہے ۔ ہمارے اپنے اعمال کانتیجہ ہے۔

دوستو ، دعا کے وقت دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف حاضر اور متوجہ رکھنا ضروری ہے۔کیونکہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اس بندہ کی دعا قبول نہیں کرتا جو صرف اوپری دل سے اور توجہ کے بغیر دعا مانگے۔جس کو یہ پسند ہو کہ مشکلات کے وقت اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے تو اس کو چاہیئے کہ آسائش (آرام) کے وقت کی دعا کی کثرت کرے۔یہ شکوہ غلط ہے کہ دعائیں قبول نہیں ہوتیں،

دعاؤں کی قبولیت کی تین صورتیں ہیں :اول مانگنے والے کو عطا کردیا جاتا ہے،یا پھر دوسری صورت میں اس دعا کے بدلے کسی مصیبت کو دور کردیا جاتا ہے ۔یا پھر اس دعا کے بدلے اللہ تعالیٰ آخرت میں اجر عظیم عطا کرتا ہے اسی لیے اپنے حق میں ہر دعا مانگنی چاہیئے اور بار بار مانگنی چاہیئے کیوں کہ رضائے الٰہی سے یہ دعائیں اس دنیا میں ہمارا بھی دفع کرتی ہیں اور آخرت میں بھی…آپ ﷺ نے فرمایا اگر انسان گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے بشرطیکہ جلد بازی نہ کرے۔

آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ جلد بازی سے کیا مراد ہے ؟ آ پ ﷺ نے فرمایا یوں کہنے لگے میں نے بہت دعا کی لیکن لگتا ہے میری دعا قبول نہیں ہوئی،چنانچہ نا امید ہوکر دعا چھوڑ دے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین پڑھنے ،سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے اللہ ہم سب کو دعا کی اہمیت و فضیلت اور آداب جاننے اور دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

Leave a Comment