دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے صحابی رسول کی دعا حجاج بن یوسف جیسا ظالم انسان بھی آپ کے قدموں میں ہو گا۔

Dushman per ghalba hasil kerny k liye

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ناظرین کرام۔۔۔اسلام میں دعا کی بے پناہ اہمیت ہے۔ قرآن و احادیث میں اس کے احکام واضح طور پر موجود ہیں۔ دعا خدا اور بندے کے درمیان سب سے مضبوط اور نزدیکی تعلق ہے۔ نبی رحمت ﷺ اپنے فالورزسے فرماتے تھے کہ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاوں جو تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دے اور تمہارے رزق کو وسیع کردے۔ رات دن اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہوکہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔

دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لئےیعنی دشمن کو کمزور وعاجز کرنےکے لئے صحابی رسول ﷺ کی مختصرترین آزمودہ و مجرب دعا آپ بہن بھائیوں کے ساتھ شیئر کروں گا۔ کیونکہ آج کے دور میں ہر گلی محلے کے گھروں میں لڑائی جھگڑوں کا شور سنائی دے گا بلکہ میں تویوں کہوں گاکہ آج کے معاشرے میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ آپ کو نظر آئے گا یعنی کمزور انسان کو معاشرہ تنگ کرتا ہے، ظلم و ستم کی فضا ہر جگہ قائم ہے۔ لہذا ایسے دور میں اس دعا کا پڑھنا لازم و ملزوم ہے یعنی بہت ضروری ہے۔

اس دعا کے بہت سے کرشمات ہیں بہت سے واقعات ہیں صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمودہ دعا ہے۔ روزانہ اس دعا کے پڑھنے سے حجاج بن یوسفجیسا ظالم انسان بھی آپ کے قدموں میں ہو گا ۔ اس دعا سے متعلق ظالم بادشاہ حجاج بن یوسف کی بے بسی و کمزوری کا واقعہ بھی آپ بہن بھائیوں کے ساتھ شیئر کروں گا تاکہ آپ کا ایمان و یقین مزید پختہ ومضبوط ہو اور آپ کے اندر دشمن کے خلاف ایک ہمت و جرت پیدہ ہو

عزیز خواتین وحضرات،ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ حجاج بن یوسف ثقفی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، حجاج نے اپنے اصطبل خانہ کے گھوڑوں کا معاینہ کرواکر تفاخرا ً حضرت انس سے دریافت کیا کہ : کیا حضور ﷺ کےیہاں بھی ایسے گھوڑے تھے ؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : حضور ﷺ کے گھوڑے تو جہاد کے لئے تھے ، فخر وغرور ونمائش کے لئے نہیں تھے۔اس جواب پر حجاج آپ پر غضب ناک ہوگیا ۔

اور اس نے کہاکہ: اے انس اگر تو نے پیغمبر خدا ﷺ کی خدمت نہ کی ہوتی اور امیر المومنین عبدالملک بن مروان کا خط تمہاری سفارش میں نہ آیا ہوتا کہ اس نے تمہارے ساتھ رعایت کرنے کے بارے میں لکھا ہے ،تو میں تمہارے ساتھ وہ کچھ کرتا جو میرا دل چاہتا ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ! نہیں اللہ کی قسم تو ہرگز میرے ساتھ کچھ نہیں کر سکتا ،اور میری جانب بری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔بلاشبہ میں نے رسول ﷺ سے چند کلمات کو سن رکھا ہے ، میں ہمیشہ ان کلمات کی پناہ میں رہتا ہوں اور ان کلمات کے طفیل میں کسی بادشاہ کے غلبہ اور شیطان کی برائی سے نہیں ڈرتا ۔

حجاج یہ سن کر ہیبت زدہ ہوگیا اور ایک ساعت کے بعد سر اٹھا کر کہا :اے ابو حمزہ وہ کلمات مجھے سکھا دو ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: نہیں میں ہرگز وہ کلمات تمہیں نہیں سکھاؤں گا کیوں کہ تم اس کے اہل نہیں ہو ۔جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ کے خادم حضرت ابان رضی اللہ عنہ کے استفسار پر آپ نے ان کو یہ کلمات سکھائے ۔اور کہا کہ انہیں صبح و شام پڑھا کر اللہ تعالیٰ تجھے ہر آفت سے حفاظت میں رکھے گا ۔اس دعا کے الفاظ آپ کو ہماری سکرین پر بھی نظر آ رہے ہیں

دعاء کے کلمات مختلف کتابوں میں کمی بیشی کے ساتھ اس طرح ہیں کہ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى نَفْسِي وَدِينِي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى أَهْلِي وَمَالِي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ أَعْطَانِي رَبِّي ، بِسْمِ اللَّهِ خَيْرِ الْأَسْمَاءِ ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ دَاءٌ ،بِسْمِ اللَّهِ افْتَتَحْتُ، وَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ ، اللَّهُ اللَّهُ رَبِّي، لَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا ،أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِخَيْرِكَ مِنْ خَيْرِكَ، الَّذِي لَا يُعْطِيهُ أَحَدٌ غَيْرُكَ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ اجْعَلْنِي فِي عِيَاذِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ سُلْطَانٍ، وَمِنْ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ، وَمِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، إِنَّ وَلِيَّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ، وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ: حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

اللّٰهم إني أستَجيرُك مِنْ شَرِّ جَمِيعِ كُلِّ ذِي شَرٍّ خَلَقْتَهُ، وَأَحْتَرِزُ بِكَ مِنْهُمْ ،وَأُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيَّ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ}، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَنْ يَمِينِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَنْ يَسَارِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَمِنْ فَوْقِي مِثْلَ ذَلِكَ ، وَمِنْ تَحْتِي مِثْلَ ذَلِكَ ،وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ. ناظرین کرام۔۔۔ یہ دعا روزانہ لازمی پڑھیں اور دشمنوں کےلئے ہدایت کی دعا کریں۔ بد دعا ہر گز نہ کریں۔ کیونکہ نبیِ رحمت ﷺ نے دشمنوں کے لئے دعا ہی مانگی ہے بلکہ ان کی ہدایت کی دعا مانگی ہے۔ یہ بڑے دل و جگر کاکام ہے ۔

زیادہ تر لوگ دشمنوں کے لئے بد دعا ہی کرتے ہیں لیکن قربان جائیے رب کریم کی شان رب العالمین پراللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا تعارف رب العالمین کی حیثیت سے کر ایا ہے۔سورہ الفاتحہ کی ابتدا الحمد للہ رب العالمین سے ہوتی ہے۔ رب العالمین کامطلب ہے سارے جہان کاپالنے والا اور پرورش کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول محمد ﷺ کا تعارف رحمت اللعالمین سے کرایا۔یعنی سارے جہان کے لئے رحمت۔

دوستو نبی اپنے معاشرے کے لئے رحمت ہوتے ہیں۔ لیکن جب قوم رحمت قبول نہیں کرتی توہلاکت اس کا مقدر بن جاتی ہے مگر اللہ کے آخری رسول محمد ﷺ کی شان دوسرے انبیا سے الگ ہے۔ جب کفار نے آپ کوجھٹلایا، آپ کی مخالفت کی، آپ کو انتہائی اذیت دی بلکہ آپ کے قتل تک کا منصوبہ بنایا مگر نبی رحمت ﷺ نے ان کے لئے تب بھی بد دعا نہ کی، ہدایت کی دعا ہی کی،

لہذا آپ بھی سب سے مشکل کام ، یعنی اپنے دشمن کے لئے دعا کر کے تو دیکھئے !پھر اللہ کی رحمتیں کیسے آپ پر مہربان ہوتی ہیں، خود مشاہدہ کریں اور اپنی زندگی میں ہی سکون محسوس کریں۔ہماری بھی دعا ہے کہ اللہ پاک تمام دشمنان اسلام کو کامل ہدایت عطا فرمائے، اور اہل اسلام کو ہر قسم کے دشمن سےمحفوظ فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین

Leave a Comment