انشا اللہ دوکان سے رش ختم نہ ہوگا۔

Inshallah dookan sy rash khtm na hoo ga

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ناظرین کرام۔۔۔اللہ ر ب ا لعزت سارے جہا ن کا پیدا فر ما نے والا اور پالنے والا ہے۔انسا ن کی بے شمار ضرو رتوں میں بنیا دی ضرو رتیں روٹی ،کپڑا اور مکان ہیں۔ظا ہر سی بات ہے ضرو ر تیں پو ری کر نے کے لیے انسان مختلف طریقوں سے رو پے کما نے کی کو شش کر تا ہے، جس میں تجا رت سب سے اعلیٰ وافضل طریقہ ہے۔

روزی تلاش کر نے کاحکم قرآن مجید میں بھی ہے اور حدیث پاک میں بھی ہے۔ لہذا کاروبار میں مسلسل نقصان ہو رہا ہو تو ایسے کاروبار کو مسلسل فائدہ مند بنانے کیلئے یا کاروبار کی ترقی و کامیابی کے لئے ایک نبوی عمل بتاؤں گا، بہت ہی مجرب عمل ہے۔ آپ کو آج یہ بھی بتاؤں گاکہ کاروبار ٹھپ ہوجائے توکون سی تسبیح کرنی چاہئے؟کارو باری استحکام کے لئے یہ انتہائی مجرب عمل آپ بھی کرسکتے ہیں کیونکہ انسان بعض دفعہ کوئی کاروبار شروع کرتا ہے جو کہ کچھ عرصہ بعد چلنے لگ جاتا ہے جس سے انسان کو امید ہو جاتی ہے کہ اب بس دن پھرنے والے ہیں‌ .

لیکن اچانک سے کاروبار میں‌نقصان ہونے لگ جاتا ہے اور ایک دم چلتا کاروبار ختم ہو جاتا ہے . اگر کبھی اس طرح کا مسئلہ پیش آجائے تو سمجھ لیں‌کہ حاسدین کا حسد اپنا کام کر رہا ہے . اس کے لئے ضروری ہے کہ صدقات کو اختیار کیا جائے اور اس کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہو اور کچھ وظائف بھی کئے جائے ان شاء اللہ کاروبار دوبارہ سے چل پڑے گا . اور اللہ برکت پیدا فرما دے گا۔اس عمل کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ حدیث شریف سے ثابت ہے نبی کریم ﷺ نے بھی یہ عمل کرنے کو دیا تھا۔

نبی کریم ﷺ دو جہانوں کے سردار آقائے دو عالم کی ہربات حق ہے اورسچ ہے۔ اس عمل کی خوبی یہ ہے کہ اللہ پاک اتنا مال و دولت عطاکرتے ہیں کہ عمل کرنے والا خود بھی مال و دولت سے فائدہ حاصل کرتا ہے اور لوگو کو بھی دیتا ہے یعنی کہ اللہ پاک اس عمل کو کرنے والے کواتنی دولت دے دیتا ہے کہ وہ دوسروں کو تقسیم بھی کرے تو پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ کے دوسروں کی مدد کرنے سے تو اللہ پاک دولت میں اوربھی برکت فرما دیتا ہے۔ ناظرین آپ بھی اس عمل سے فائدہ اٹھائیں اب تک کڑورں افراد اس عمل سے فائدہ اٹھا چکے ہیں

ناظرین کرام ہمیں ایک بھائی نے ای میل کی کہ ھم سترہ اٹھارہ سال سے ٹریول ایجنسی چلا رھے ھیں لیکن کام ایک روٹین سے نہیں چل پایا۔دو دن اگر چلتاھے تو اگلے چاردن بند رہتا ھے ۔اب تو دو چار ماہ ھو گئے ھیں،مندا چل رہا ہے ۔ بڑی ٹینشن رھتی ھے ۔کبھی سوچتا ہوں کوئی ا ور کام کرلوں لیکن جما ہوا کاروبار چھوڑنا بھی آسان نہیں۔نیا کاروبار بھی کیا تو پہلے بھوکا رہنا پڑے گا ۔برائے مہربانی اس حوالے سے کوئی وظیفہ وغیرہ بتادیں تاکہ پہلے والے کاروبار میں برکت پیدا ہوجائے۔

تو دوستو یاد رکھیں دعا و تسبیحات کے ساتھ ساتھ کاروبار کے بنیادی تقاضے بھی پورے کرنے چاہئیں۔اپنی مناسب تشہیر کریں اور لوگوں کو اچھی سروس دیں تاکہ آپ پر لوگوں کا اعتماد قائم ہو۔کاروبار کی ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ حلال و حرام کی تمیز کی جائے۔ ناپ تول میں کمی نہ کی جائے۔ دھوکہ، فراڈ اور ملاوٹ نہ کی جائے۔ یعنی کاروبار کے حوالے سے اسلامی تعلیمات اور اصول و ضوابط سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔

اور مکمل دیانتداری سے کاروبار کریں۔ حلال اور حرام میں فرق کریں تو کاروبار میں ترقی بھی ہو گی اور برکت بھی ہو گی۔ دکان یا جائے کاروبار میں جمعرات کو عصر کی نماز کے بعد چند آدمی اکٹھے کر کے 72مرتبہ سورہ یٰسین کی تعداد کو پورا کریں۔ اس کے بعد مغرب کی نمازہونے تک یہ دعا پڑھتے رہیں ۔ اللهم اکْفِنِیْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ۔مغرب کی نماز کے بعد کاروبار کے مقام پر اللہ تعالیٰ سے فراخی رزق کی دعا کریں ۔آخر میں سورہ یٰسین کا ورد کرنے والوں کی کھانے کے ساتھ تواضع کریں ۔

ان شاءاللہ رزق کشادہ ہو جائے گا ۔کاروبار دوبارہ سے چل پڑے گا . اور اللہ برکت پیدا فرما دیں گا۔اس وظیفے کے چند دن پڑھنے سے پریشان حال انسان کے لیے کوئی غیبی امداد حاصل ہوتی ہیں. پریشانی ختم ہوجاتی ہے اور رزق کی فراوانی شروع ہو جاتی ہے.ایسے دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص خاندان کا امیر آدمی کہلاتا ہے. لیکن انسان کو غافل کھی بھی نہیں رہنا چاہیے. آج مسلما نوں میں سب سے زیادہ بے روز گاری ہے، مسلما نوں کے لیے نوکری کا در وازہ ہی بند ہو گیا ،

مسلما نوں کو چاہئیے کہ تجارت میں دلچسپی لیں کیوں کہ ایک تجارت میں کئی لو گوں کی ضرورت پوری ہوتی ہے ، ان شا اللہ بے روز گاری بھی دور ہو گی اور خوش حالی بھی آئے گی۔۔ اس کے علاوہ اول و آخر 11 مرتبہ درود شریف پڑھ کر ’’یارزاق‘‘ کا ورد 100 مرتبہ کریں۔ اس کو اپنا معمول بنا لیں جس سے اللہ تعالی وسعت رزق سے نوازے گا اور فقر و فاقہ سے محفوظ رکھے گا۔اس وظیفہ کو حسب معمول 11 یا 40 دن یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس وظیفہ کے ساتھ ساتھ نماز کی پابندی کریں اور تلاوت قرآن کا معمول بنائیں اور بکثرت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجیں۔

یاد رہے دوستو کہ ہر انسان میں یہ تمنا پائی جاتی ہے کہ وہ آسودگی اور خوشحالی کی زندگی بسر کرے۔ یقینا مال ودولت بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے اور ایمان‘ علم اور صحت کے بعد مال بھی انسان کی ضروریات کی تکمیل میں نمایاں کردار اد ا کرتا ہے۔ بدحالی ‘ فقیری اور مفلسی کو ہر انسان نا پسند کرتا ہے اور اس کی یہ خواھش ہوتی ہے کہ بدحالی‘ مفلسی سے کسی نہ کسی طور پر بچا جا سکے؛ اسی لئےلوگوں کی بڑی تعداد کاروبار اور ملازمت کو خوشحالی کے حصول اور مفلسی اور محتاجی سے بچاؤ کے لیے کرتی ہے۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سائل نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سےپاکیزہ وبہترین ذریعہ معاش کونسا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ بہترین ذریعہ معاش آدمی کے خود کےہاتھ کی کمائی اور ہر وہ تجارت و کاروبار ہے جوشرعی لحاظ سے جائز ہو اوراس میں امانت و صداقت کو ملحوظِ خاطر رکھ کر کیا جائے ۔ اس میں ، جھوٹ ، دھوکہ، خیانت ، زیادتی اور حرام کا شائبہ تک نہ ہو۔ہماری دعا ہے اللہ ہم سب کو نبی کی سنت تجارت کو اپنا نے کی توفیق دے اور ایمان داری ،محنت اور دلجمعی سے اسلامی اصولوں کےمطابق تجارت کر نے کی توفیق عطا فر مائے، آ مین ثم آمین۔

Leave a Comment