نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود روزانہ یہ وظیفہ پابندی سے کیا کرتے تھے ۔ ہر مشکل کا فوری حل نبوی وظیفہ

Nabii Akram ﷺ khud roozana yeh wazeefa pabandii sy kiya

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔ ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ ناظرین کرام آج میں آپ کی خدمت میں ایک ایسا مختصر اور آسان عمل لے کر حاضر ہوا ہوں کہ جس کے کرنے کی برکت سے انشاءاللہ اللہ پاک ہر قسم کی پریشانی اور مشکل کو دور فرمائیں گے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود روزانہ یہ وظیفہ پابندی سے کیا کرتے تھے۔

ہر مشکل کا فوری حل یعنی یہ نبوی وظیفہ ہے آپ کو کسی بھی قسم کی پریشانی ہو کوئی جسمانی یا کاروباری پریشانی ہو آپ کی اولاد کے رشتے نہ ہونے کی پریشانی ہو ملازمت یا کاروبار میں آپ کو نقصان ہو رہا ہو ملازمت آپ کو نا مل رہی ہو امتحانات میں آپ کو کسی مشکل کا سامنا ہو کسی بھی قسم کی پریشانی جس میں آپ مبتلا ہو، جس کی وجہ سے آپ پریشان ہوں تو آپ اس مختصر اور آسان عمل کو اپنے زندگی کا معمول بنا لیں

انشاءاللہ اس خاص عمل کی برکت سے اللہ پاک اپنا فضل فرمائیں گے بلکہ ایک تسبیح اگر روزانہ آپ پڑھتے رہیں تو آپ کے پاس دنیا ذلیل ہوکر آئے گی ناظرین کرام اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کی ہدایت کے لیے ہر زمانہ میں ہزاروں اولیا ء اللہ اور ہر صدی میں کئی کئی مجدددین بھیجے ہیں جنہوں نے کروڑوں انسانوں کو اپنے علم و عمل وقرآنی علوم سے مستفیض کیا ۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ ایک بزرگ تھے جن کے پاس کچھ طلباء بھی رہتے تھے جو ان سے دین کا علم سیکھتے تھے۔

چنانچہ دن کے مختلف اوقات میں عوام الناس اس نافع وجود سے مستفیض ہونے کے لیے آتے رہتے اور اپنی حاجات کے لئےدعائیں کرواتے تھے۔ ایک دن وہ اپنے طلباء کے ساتھ مسند پر بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے درخواست کی کہ میں بہت گناہگار ہوں ۔میں نے ساری زندگی گناہ کئے ہیں میرے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے گناہ معاف کردے ۔چنانچہ ان بزرگ نے اسے نصیحت کی کہ کثرت سے استغفار کیا کرو۔چنانچہ وہ چلا گیا۔

اس کے بعد ایک اور شخص آیا جس نے شکایت کی کہ ایک لمبے عرصہ سے بارش نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ہماری فصلیں تباہ ہورہی ہیں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت ہم پر برسائے تاکہ فصلیں تباہ ہونے سے بچ جائیں اور ہماری خوراک کا بندوبست ہوسکے۔ آپ نے فرمایا کثرت سے استغفار کرو ۔اسی طرح تیسرا شخص آیا اور اس نے دعا کے لیے درخواست کی کہ میں بہت غریب انسان ہوں میرے لیے دعا کریں اللہ تعالیٰ میرے رزق میں فراوانی عطاء کرے اور میری مالی مشکلات آسان کرے۔

ان بزرگ نے پھر وہی کہا کہ کثرت سے استغفار کیا کرو ۔ کچھ دیرکے بعد ایک اور شخص اپنی عرضی لیے کر ان بزرگ کے سامنے حاضرہوا اور عرض کی کہ میری شادی کو ایک لمبا عرصہ ہوگیا ہے اور ابھی تک کوئی اولاد نہیں ہوئی ۔ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطاء کرے۔ ان بزرگ نے پھر اس شخص کو بھی یہی نصیحت کی کہ کثرت سے استغفار کیا کرو۔اس پر وہ شخص بھی چلا گیا۔یہ سب ماجرا بزرگ کے طلباء دیکھ رہے تھے اور حیران تھے کہ اتنے سوالی آئے اور انہوں نے اپنی مختلف مشکلات کا ذکر کیاہر بار بزرگ نے ایک ہی جواب دیا کہ کثرت سے استغفار کرو تو اللہ تمہاری مشکل حل کردے گا۔

چنانچہ ان میں سے ایک طالب علم نے بزرگ سے اس بارہ میں پوچھ لیا کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ ہر سوال پر آپ نے ایک ہی جواب دیا کہ کثرت سے استغفار کیا کرو۔اس پر بزرگ نے فرمایا کہ میں نے اپنی طرف سے تو کوئی بات نہیں کی بلکہ جو قرآن کریم نے فرمایا ہے اسی کا ذکر کیا ہے۔ بزرگ نے سورۃ نوح کی آیات پڑھیں کہ اللہ فرماتاہے اپنے رب سے بخشش طلب کرو یقیناً وہ بہت بخشنے والاہے۔ وہ تم پر لگاتار برسنے والا بادل بھیجے گا۔

اور وہ اموال اور اولاد کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لئے باغات بنائے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کرے گا۔دوستونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک دن میں ستر سے سو مرتبہ تک استغفار کرتے تھے لہذا آپ بھی روزانہلاحول ولاقوۃ الاباللہ تیس سے زیادہ مرتبہ پڑھیں یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے ، اس کے ساتھ حسبنا اللہ ونعم الوکیل اکتس سے تینتیس مرتبہ پڑھیں کیونکہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حسبنا اللہ ونعم الوکیل پڑھا تو انہیں آگ میں پھینکا جارہا تھا تو اللہ کے حکم سے آگ گل و گلزار بن گئی تھی ۔

اس کے ساتھ یا حی یا قیوم برحمتک استغیث 20 سے 22 مرتبہ روزانہ پڑھیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکوئی مشکل معاملہ پیش آتا تو آپ یہی پڑھتےتھے۔دوستو کشادگی رزق، خوشحالی اور فارغ البالی کے لئے صبح کے وقت کا استغفار بڑی تاثیر رکھتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ’’سحر کے وقت (یعنی وقت فجر سے پہلے) ’’سبحان اللّٰہ وبحمدہٖ سبحان اللّٰہ العظیم، استغفراللّٰہ‘‘ سو (۱۰۰) مرتبہ یعنی ایک تسبیح اگر پڑھتے رہو تو تمہارے پاس دنیا ذلیل ہوکر آئے گی‘‘۔

استغفار آخرت کے بے شمار فوائد کے ساتھ ساتھ دنیا کے لئے بھی نسخہ کیمیا ہے، یعنی استغفار دو دھاری تلوار ہے، اس سے صرف آخرت کا عذاب ہی نہیں، بلکہ دنیا کی تکلیفیں اور مصیبتیں بھی کٹ جاتی ہیں، اس سے دنیا کے درد بھی دور ہو جاتے ہیں۔ استغفار باعث رحمت بھی ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’تم استغفار کیوں نہیں کرتے؟ (کرو) تاکہ تم پر ہماری رحمتیں نازل ہوں۔ استغفار، رحمتوں کے خزانے کی کنجی ہے، لہذا اس کو نظرانداز کرنا یا اس سے غفلت برتنا بہت بڑی کم نصیبی ہے۔

یاد رہےکہ عموماً انسانوں سے گناہ ہوتے رہتے ہیں۔ گناہ ہوجانے کے بعد افسوس و ندامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرنے سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ انسان کو چاہئے کہ وہ کثرت سے استغفار کرتا رہے۔ استغفار کرنے سے بندہ اللہ کی بارگاہ میں قبولیت حاصل کرتا ہے۔ اُس کے رزق، مال و اولاد، کھیتی و کاروبار، تجارت و غیرہ میں برکت ہوتی ہے۔ مصیبتیں اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں۔

تنگی آسانی میں اور تکلیف راحت میں بدل جاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اُس کی ایسے مدد کرتاہے کہ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ توبہ و استغفار کرنا ایک عظیم عمل ہے، جبکہ گناہوں پر مطمئن ہوجانا ہلاکت و بربادی کا باعث ہے۔ دوستوایک بات طے ہے اور بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے کہ استغفار قبولیتِ دعا اور انعاماتِ ربی کے حصول کا بہترین ذریعہ اور طہارتِ قلب کا مجرب نسخہ ہے۔

نہ صرف ہمارے نبی کریمﷺ معصوم ہونے کے باوجود دن میں ستر بار استغفار کرتے تھے بلکہ آلِ محمدﷺ بھی کثرت سے استغفار کرتی تھی، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، ہر وقت استغفار کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس کی عادت ہو جائے تو ان شاء اللہ تعالی رذائل خود بخود ختم ہو جائیں گے اور تقویٰ کا مزاج پیدا ہو جائے گا۔ اللہ تعالی کی صحیح عبدیت نصیب ہوگی اور اس کی برکت سے گناہوں کا ارتکاب دشوار اور نیکیوں کا صدور آسان ہو جائے گا۔استغفار کا ایک اہم ترین فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے بندوں پر اللہ تعالی کا عام عذاب نہیں آتا۔ لہذا ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ استغفار کرنے والا بنائے۔ ہمارے دنیا وآخرت کے تمام معاملات میں آسانی والامعاملہ فرمائے۔ آمین ثم آمین

Leave a Comment