گناہوں سے نجات کا عمل! وہ کونسا ایسا نیک عمل ہے جو مرنے سے پہلے کر لیا جائے تو آدمی تمام گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے؟

Gunahoon sy nijat ka amal

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ ناظرین کرام۔۔۔ یہ ایک بہت ہی آسان سا طریقہ ان سب کے لیےہے جو کسی نہ کسی گناہ میں مبتلا ہیں ،، چاہے کبیرہ ہو یا صغیرہ ۔۔ اس طریقے پر عمل کرنے سے آپ ضرور گناہوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ میرے پاس اللہ کے حکم سے اس بیماری کا ١۰۰ ٪ مکمل علاج ہے ۔

جو شخص گناہ کرنے سے تنگ ہو اور گناہ ترک کرنا چاہتا ہو لیکن اپنے آپ کو بے بس پاتا ہوناظرین کرام۔۔۔۔اگر کوئی شخص اس کو زندگی کا معمول بنا لے گا اس کو دل کی دنیا کی بہت سی برکا ت حاصل ہوں گی۔ اسکے دل کو اللہ پا ک نورانی کردیں گے ۔ اللہ پا ک ایسے شخص کو مرتے وقت کلمہ نصیب کریں گے۔ ایسے شخص کو اللہ کی طرف سے اعمال کی لذّت نصیب ہو گی ۔ اس کو نیکی کی توفیق نصیب ہو گی، دل نیکی کی طرف مائل ہو گااور نیکی کرنا آسان ہو جائے گا۔

وہ گناہوں سے دور ہو جائے گا اور گناہ سے بچنا آسان ہو جائے گا۔اس عمل کی برکت سے اللہ جل شانہ اس کے دل کو اس دن نورانی رکھیں گے جس دن بہت سے لوگوں کے دل مردہ ہوجائیں گے۔ آخری لمحے میں اللہ اس کے دل کو نورعطا فرمائیں گے اورزبان پر کلمہ نصیب کریں گے۔اورجس شخص کادل گھٹا رہتاہو، دل کی بیماری ہو، دل کی شریانیں یاوال بندہوں۔ اس کامسئلہ بھی اس عمل سے حل ہوجاتا ہے ۔

جو اینگزائٹی ، ٹینشن میں ہو اور دنیا جہان کے مسائل اس کے اردگرد ہوں اس کے دل کو سکون مل جائے گا ۔ جس کوانوکھے الٹے سیدھے خواب آتے ہوں اس عمل سے وہ خواب آنا بھی بند ہوجاتے ہیں۔بزرگان دین فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بیماری ہو‘ اس کے لیے ناخن کاٹ کر اسے کسی سفید کپڑے یا ٹیشو وغیرہ میں لپیٹ لے اور فرض نماز کے بعد اوّل و آخر درود شریف کے بعد اس پرانا للہ وانا الیہ راجعون 100 بار پڑھے اور دفن کردے اور ساتھ یا بَاعِثُ یَا نُوْرُ پڑھتارہے تو مرض ختم ہو جائے گا۔

ایک شخص کہنے لگاکہ میں نےاس عمل کو انٹرنیٹ کی گندی دنیا سے دوری کیلئےپڑھا‘ میں اس کیلئے بہت پریشان تھا‘ میں لاکھ کوشش کرتا مگر اس غلیظ دنیا سے باہر نہ نکل پارہا تھا‘ میں نے ایک بار یہ کا اور پہلی بار میں ہی میں دور ہوگیا‘ اب میں چاہوں بھی تو انٹرنیٹ پر غلیظ چیزیں نہیں دیکھ پاتا‘ پھر اس کے بعد دو تین بار اور کیا۔ اب میں پرسکون ہوں۔اب میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے نمازیں بھی پڑھتا ہو ساتھ یا بَاعِثُ یَا نُوْرُ پڑھتا رہتا ہوں جس آفس سے آؤ یا جاؤں راستے میں صرفیا بَاعِثُ یَا نُوْرُ پڑھنے سے بہت سکون ملا اور معاملات حل ہورہے ہیں ۔

اس کے علاوہکتنے لوگ ایسے تھے جو دل کی گھٹن اورٹینشن میں مبتلا تھے “یا بَاعِثُ یَا نُوْرُ‘‘ پڑھنے سے اللہ نے گھٹن اورٹینشن سے نجات دے دی۔ کتنے لوگ ایسے تھے جو کہتے تھے جی چاہتا ہے خودکشی کرلیں۔ اللہ نے اس کیفیت اس جذبے کوختم کرکے دل کو سکون اورراحت عطاء فرمائی۔کتنے لوگ ایسے تھے جن کادل ہروقت غصے اورجھنجھلاہٹ اوراکتاہٹ سے ہروقت بھرارہتا تھا۔

اورجن سے بچے اوردوست دور ہوگئے تھے ان کو چین اورسکون ملا۔ اوراس وظیفے کی برکت سے کتنے لوگ ایسے تھے جن کی راتوں کی نیندیں ختم ہوچکی تھیں اورگولیاں بھی ناکام ہوچکی تھی۔ اس “یا بَاعِثُ یَا نُوْرُ‘‘ کی برکت سے اللہ نے ان کو بہترین نیند عطا کردی۔ کتنے لوگ ایسے تھے جن کو ہائی بلڈپریشرتھا اوربہت زیادہ انیگزائٹی ان کو اس سے فائدہ ہوا۔کتنے لوگ ایسے تھے جن کادل نیکیوں کو نہیں کرتا تھا وہ کہتے تھے کہ ہمارا دل نہیں کرتا نور کو، نیکیوں کو، درود پاک کو اوراولیاء کی محبت کو، صحابہ اہلبیت کی محبت کو، مدینے والے کے عشق کو، ان کادل خود کرنا شروع ہوگیا۔

اصل تو دل ہے نا۔ دل چاہے لے توجسم چاہ لیتا ہے دل نہ چاہے توجسم نہیں چاہتا۔ کتنے لوگ ایسے تھے جو کہتے تھے نمازمیں دل نہیں لگتا ، نماز میں دل لگنا شروع ہوگیا، تسبیح میں دل نہیں لگتا، تسبیح میں دل لگنا شروع ہوگیا، تلاوت میں نہیں کرتا، تلاوت میں لگنا شروع ہوگیا۔ اوراللہ کی محبت میں خرچ میں نہیں لگتا، اس میں لگنا شروع ہوگیا۔ یاباعث یانوراتنا بڑا مبارک نام بالکل مختصرسے چند لفظ ،ہیں ۔

دوستو۔ یاباعث یانور کے اس عمل کے ساتھ گناہ سے بچنے کے لیے مضبوط ہمت اور پختہ ارادہ چاہیے، اور اس کے ساتھ تدبیر اختیار کیجیے تب تو فائدہ ہوگا اور اگر گناہ سے بچنے کا حوصلہ ہی کمزور ہے تو محض کوشش وچاہت سے مکمل کامیابی دشوار ہے، معلوم نہیں آپ گناہ سے بچنے کی ہزار کوششیں کس طرح کرتے ہیں؟ گناہ سے بچنے کے لیے اس کے مقدمات سے بھی بچنا پڑتا ہے، پس آپ سب سے پہلے اپنے ارادے کو مضبوط کیجیے کہ ہمیں ہرحال میں گناہ سے بچنا ہے چاہے خواہشات پر تیر چل جائے اس کو برداشت کرنا ہے۔

دوستو ایک ایسا نیک عمل بھی آپ دوستوکوبتادوں جو مرنے سے پہلے اگر کر لیا جائے تو آدمی تمام گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ قرآن پاک میں گناہوں سے پاک ہونے کا آسان سا طریقہ توبہ کو قرار دیا گیا ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ یقینا بڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے۔تاہم انسان جتنا بھی گنہگار ہو اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے پُرامید رہنا چاہیے اور ہمیشہ توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہیے۔ توبہ کے لیے بڑھاپے یا مرنے کا انتظار کوئی دانش مندی نہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کریں، اللہ آپ کو گناہوں سے بچنے کی ہمت عطا کرے اور توبہ و استغفار کرنے والابنائے۔ آمین ثم آمین

Leave a Comment