کامیاب کاروبار کے لئے پُراثر وظیفہ۔۔۔

band karoobar

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔ ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ ناظرین کرام کاروبار میں مسلسل نقصان ہو رہا ہو تو ایسے کاروبار کو مسلسل فائدہ مند بنانے کیلئے بھی یہ وظیفہ بہت مجرب ہے۔ کاروبار میں ترقی بھی ہو گیاور برکت بھی ہودوستو میں نے ایک کاروبار شروع کیا تھا لیکن بند کرنا پڑا، دوبارہ شروع کیا لیکن کوئی نہ کوئی رکاوٹ آجاتی تھی کئی حضرات سے ملا ،لیکن فرق نہیں آیا، اب خود ہی بزرگان دین کا بتایاہوایہ وظیفہ ہر نماز کے بعد شروع کردیا تو اللہ نے مجھے اس وظیفہ کی بدولت رنگ لگادئے میرا کاروبار عروج پر ہے۔ بہت برکتیں ہیں۔ بہت دنیا اس وظیفہ سے فائدہ اٹھا رہی ہے

ناظرین کرام ۔۔۔۔۔۔سب سے پہلے کاروبار میں ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ حلال و حرام کی تمیز کی جائے۔ ناپ تول میں کمی نہ کی جائے۔ دھوکہ، فراڈ اور ملاوٹ نہ کی جائے۔ یعنی کاروبار کے حوالے سے اسلامی تعلیمات اور اصول و ضوابط سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔ اور مکمل دیانتداری سے کاروبار کریں۔ حلال اور حرام میں فرق کریں تو کاروبار میں ترقی بھی ہو گی اور برکت بھی ہو گی۔

کیونکہ رزق کے معاملہ کا تعلق اللہ تعالی کی تقسیم کے ساتھ ہے، وہ جسے چاہے جب چاہے اور جیسے چاہے رزق دیتا ہے، اس کے فیصلے کے سامنے کوئی منصوبہ نہیں چلتا، لہذا ایک مسلمان کو اس بارے میں اللہ تعالی کے فیصلوں پر ہمیشہ راضی رہنا چاہیے، آپ اول تو پانچوں نمازیں مسجد میں باجماعت ادائیگی کا اہتمام کریں، اس لیے نماز کے اہتمام کے ساتھ وسعتِ رزق کا وعدہ ہے،لہذا ہر نماز کے بعد تین بار یہ دعا پڑھیںاَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکْ

اس کے بعد یہ آیت تین بار پڑھیں ان اللہ ھو الرزاق ذو القوۃ المتین پھر اول و آخر 11 مرتبہ درود شریف پڑھ کر ’’یارزاق‘‘ کا ورد 100 مرتبہ کریں۔ اس وظیفہ کو حسب معمول 11 یا 40 دن یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس وظیفہ کے ساتھ ساتھ نماز کی پابندی کریں اور تلاوت قرآن کا معمول بنائیں اور بکثرت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجیں۔اور اس وظیفہ کو اپنا معمول بنا لیں جس سے اللہ تعالی وسعت رزق سے نوازے گا اور فقر و فاقہ سے محفوظ رکھے گا۔

یعنی جو شخص چاہے کہ اس کا کاروبار چل پڑےاور رزق میں کشادگی ہو تو وہ ہر نماز کے بعد اس وظیفہ کولازمی پڑھے اور اپنا اخلاق اچھارکھے کیونکہ ایک چینی کہاوت ہےکہ جو شخص خوش اخلاق نہیں ہے، اسے دکان نہیں کھولنی چاہیے۔لیکن ہمارا تو یہ حال ہے کہ اگر ہمارا کاروبار نہیں چل رہا ہے تو برکت کے لیے قرآن خوانی اور آیت کریمہ کا ورد کر وائیں گے۔اور اگر کاروبار چلنے لگ گیا تو گاہکوں سے خاص طور پر چھوٹے گاہکوں سے بے حد بے رخی یا پھر انتہائی بد تمیزی سے پیش آئیں گے۔

دوستویہ بھی یاد رکھیں کہ قرض لے کر کاروبار ہر گز شروع نہ کریں، بلکہ پہلے کچھ بچت کریں پھر پونجی لگائیں۔صرف قرض سے کاروبارکا آغاز کامیاب تجربہ نہیں ہے۔اور خاص کر تجارت کے لیے سود پر ہر گز پیسہ نہ لیں، کیوں کہ سود میں برکت نہیں، وبال ہے۔ سود اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلان جنگ ہے۔اور کاروبارمیں ساری جمع پونجی نہ لگادیں کیوں کہ کاروبار جمنے اور اس کو فروغ پانے میں کچھ وقت تو لگتا ہی ہے بلکہ کئی بار سالوں لگ جاتے ہیں، تب تک اپنے گھریلو خرچ کے لیے رقم آپ کے پاس ہونی چاہیے۔

کاروبار چاہے کچھ بھی کریں، اس کا تجربہ ہونا بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے کسی کارخانے یا دکان میں ملازمت کریں یا کوئی اورذریعہ اختیارکریں۔ اس سے آپ کو کام کی چھوٹی موٹی چھپی ہوئی اہم چیزیں معلوم ہوں گی۔ہمارے بہت سے بھائی خلیجی ممالک میں زندگی بھر کما کر رقم جمع کرتے ہیں مگر بغیر کسی تجربے کے کوئی بھی کاروبار شروع کر دیتے اور نتیجتاً اپنی ساری رقم ڈبو بیٹھتے ہیں۔کسی کی دیکھا دیکھی یا دوسروں کے کہنے میں آکر کوئی کاروبار شروع نہ کریں۔

تجارت اسی چیز کی کریں جس کا آپ کو تجربہ ہواور اس کی طرف طبیعت راغب ہو۔کوئی بھی کاروبار کریں، ہمیشہ چھوٹے پیمانے پر شروع کریں۔ پھر بتدریج اسے ترقی دینے کی کوشش کریں۔اپنے کارخانے اور دکان کے چھوٹے سے چھوٹے کام تک خودبھی انجام دینے کی کوشش کریں خواہ اس کے لیے ملازم ہی کیوں نہ موجود ہو ،تاکہ کبھی ان کی اتفاقیہ غیر موجودگی میں آپ کو پریشانی نہ ہو۔ پرانے ملازمین کی قدر کریں اور ان کے سکھ دکھ میں بنفس نفیس شریک ہوں۔

اس سے آپ کو ان کے تجربوں سے زیادہ دنوں تک فائدہ ہوتا رہے گا۔ بالخصوص چھوٹے گاہکوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں ،اگر کوئی گاہک سامان نہ بھی خریدے تو بھی اپنی دکان میں آنے کے لیے اس کا شکریہ ادا کریں ۔اگر جگہ ہو تو پانی پلانے کا بھی انتظام رکھیں ۔گاہکوں کے ساتھ آنے والے چھوٹے بچوں کو چاکلیٹ ٹافیاں دیں ۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں لوگوں کا دل جیتنے اور ان کو قریب لانے کا ذریعہ بنتی ہیں ۔سامان میں اگر واقعی عیب ہو تو بہانے نہ بنائیں بلکہ تبدیل کرکے دیں۔ اپنے کام میں کچھ نہ کچھ دوسروں کے مقابلے انفرادیت لائیں ،ندرت پیدا کریں۔

جیسے: آپ درزی ہیں تو گاہک کے بنا کہے ہی کپڑوں میں ذرا اچھا بٹن لگا دیں۔چائے کا اسٹال چلاتے ہیں تو چائے میں الائچی اور ادرک ڈال دیں ۔کھانے کا ہوٹل ہے تو کھانے کے ساتھ کوئی اچھی سی چٹنی ہی بناکر پیش کردیں ۔بہت ہی معمولی خرچ کرکے بھی آپ اپنی انفرادی پہچان قائم کر سکتے ہیں۔اپنے ہم پیشہ لوگوں سے دوستانہ تعلقات بنائیں ،ان سے رابطے میں رہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ہم پیشہ تاجر سے رقابت اور حسد رکھتے ہیں جو کہ نہایت نقصان دہ ہے۔

روزانہ اخبارات کا مطالعہ کریں، کاروباری حالات پر نظر رکھیں۔ اپنی قابلیت سے زیادہ بڑھ چڑھ کر دعویٰ اور وعدہ نہ کریں ،طے شدہ وقت سے پہلے، متوقع کوالٹی سے بہتر اور مقررہ لاگت سے کم میں پورا کیاجانے والا کام گاہک کے اطمینان اور آپ کی کامیابی کا سبب بنتا ہے۔ دوستو کاروبار خالص اسلامی اصولوں پر کریں اور اپنی دنیا سمیت آخرت کو بھی بہتر بنانے کا سامان کریں۔

زکٰوۃ بالکل صحیح حساب لگاکر ادا کریں اور اپنے کاروبار کی حفاظت صدقہ کے ذریعے کریں ۔قسم کھاکر مال بیچنے سے مال تو بک جاتا ہے مگر برکت ختم ہو جاتی ہے ۔آپ ہمشہ باوضو رہنے کی کوشش کریں اور روزانہ صدقہ دیتے رہںح۔ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ پاک آپ کا حامی وناصر رہے۔

Leave a Comment