حاسدین کی پہچان کا انوکھا عمل۔ مخصوص کپڑا دیکھ لیں

hasedeen ki phchan ka anokha amal

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔ ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ ناظرین کرام۔۔۔دشمنوں سے بچاؤ کیلئے یوں تو انسان بہت سی تدابیر کرتا رہتا ہے تاہم دشمنوں کے چھپے ہوئے حربے جیسے جادو، سازشیں وغیرہ ان سے کئی مرتبہ بچنا مشکل ہو جاتا ہے اور آپ دشمن کے وار کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حقیقت میں انسان کے بہت سے انجانے دشنا بھی ہوتے ہیں اور انجانے دشمنوں کا خوف بڑا خوفناک ہوتا ہےدراصل یہ انجانا دشمن شیطان لعین کا ساتھی ہوتا ہے جو اچھے بھلے با عمل اور لائق فائق انسان کو کمتر اورپست کردیتا ہے۔

بلکہ جو دشمن ظاہر ہوجائے اسکا مقابلہ کرنے کوئی تدبیر تو کی جاسکتی ہے لیکن انجانے دشمن کا کیا سراغ لگایا جائے کہ اس سے نجات کے لئے کوئی تدبیر کی جاسکے ۔ ۔۔تو اسی لحاظ سے آج ہم اپنے دیکھنے والوں کو چُھپے ہوئے حاسدین کی پہچان کا انوکھا عمل بتائیں گےاگر آپ یہ مجرب عمل کرتے ہیں تو آپ کو اپنے دشمن کے پاس مخصوص قسم کا کپڑا نظر آئے گا یا آپ دشمن کے لباس کے رنگ سے بھی اپنے حاسد کو پہچان لیں گے، آپ نے رات کو یہ عمل کرکے سونا ہے اور صبح کو آپ کو حاسدین کی پہچان اللہ پاک اپنے حکم سے کروا دیں گے ،

یہ عمل بہت سے لوگوں کا آزمایاہوا ہے بلکہ عمل کے ساتھ ساتھآپ کو حاسدین اور دشمنوں کے شر سے حفاظت کے متعلق ان تمام باتوں سے بھی آج آگاہ کروں گاجن سے آپ جان سکیں گے کہ اس کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے ۔اپنے دشمن یا رشتہ دار کی شرارت سے محفوظ اور ان کی طرف سے کسی کام میں رکاوٹ ڈالنے کے توڑ کے لیے اور زبان بندی کے لیے بھی یہ بہت ہی مجرب وظیفہ ھے ۔

تاہم حفاظت کے لئے یہ وظیفہ پڑھتے ہوئے اپنی حفاظت کی ہی نیت ہونی چاہیے، کسی دوسرے کا نقصان پیشِ نظر نہ ہو۔یہ دشمن سے نجات کا مجرب وظیفہ ہے،اور انجانے دشمنوں سے نجات کے لئے بھی ایسا زورداروظیفہ ھے جوانسان کو طاقتور بنا دیتا ہے۔اگر دشمن کے ساتھ کسی معاملہ میں مقدمہ ، پنچایت اور عدالت کا سامنا ہو تو بھی یہ عمل ضرور کر لیں، ناظرین کرام آج سگے بھائی، ماں باپ، میاں بیوی اور انتہائی قریبی رشتہ دار ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔

ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ نسل در نسل قتل و غارت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایک چھوٹے سے گھریلو مسئلے سے شروع ہونے والا اختلاف ایک خاندان کے خون کی ندیاں بہانے پر تلہ ہوتا ہے۔ جوں جوں قیامت قریب آ رہی ہے لڑائی اور دشمنی کے انداز بھی بدل رہے ہیں۔ آج کا مسلمان اخلاقی لحاظ سے اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ معاشرے میں موجود دشمنیوں کی وجوہات سن کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

کئی بار یہ تجربہ بھی ہوا کہ “روحانی علاج” کے سلسلہ میں ای میل اور کالز موصول ہوئیں کہ آپ مجھے وظیفہ دیں اور ہمارا دشمن خود مر جائے ورنہ میں اسے قتل کر دوں گا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ یاد رکھیں یہ ایک ایسی سوچ اور عمل ہے جو براہِ راست خدائے بزرگ و برتر سے ٹکر لینے کے مترادف ہے۔ ذہنی پستی، گھر کے ماحول کی بے برکتی، ہماری اولادوں کی جڑیں کھوکھلی کر نے میں بنیادی کردار ہیں۔اس ساری صورتحال میں یقیناً ہمیں اپنے جان و مال کی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دشمنی تو سگے بھائی سے بھی ہو سکتی ہے۔

بہر حال اللہ تعالٰی سے خیر طلب کی جانی چاہئیے۔ دشمن سے نجات کے وظائف کی اکثر نوبت آتی رہتی ہے۔ جب جان، مال، اولاد اور عزت محفوظ نہ رہے تو پھر منہ بند کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ورنہ شریر انسان بے لگام ہو کر دوسروں کے لئیے بھی نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔ مگر پھر بھی میرا آپ کے لئیے مشورہ ہے کہ حتی الوسع درگزر کی کوشش کریں۔ اولیائے کاملین کا بھی یہی طریقہ تھا اور ہے۔

بعض ایسے معاملات جس میں فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو وہاں دشمن کا خاتمہ ضروری ہوتا ہے، لہذا اس عمل کا طریقہ کار یہ ہے کہ پرھ والے دن یہ عمل شروع کریں باوضو ہو کر بستر پر لٹض جائںم اور گاہرہ بار درود پاک پڑھںو اور 300 بار۔۔۔یا فتاح یا علمع۔۔۔۔۔ پڑھ کر دعا کریں اور اس کے بعد دائں کروٹ لٹ جائیںیہ عمل سات دن تک کرنا ہے روزانہ رات کو یہ عمل کرکے سونا ہے اور صبح سارا دن غور کرنا ہے لوگوں پر جس جس کے پاس بھی لال رنگ کا کپڑا نظر آئے وہ ہآاپکا دشمن ہےعمل شروع کرنے سے پہلے کچھ نہ کچھ صدقہبھی لازمی دیں ۔

اور یہ وظہ ک پڑھتے وقت دشمن کی ہلاکت کا تصور نہ کریں بلکہ اس کے شر، حملے سے بچنے کی نیت کریں اور اللہ سے اس کے لئیے ہدایت طلب کریں تاکہ وہ بھی ایک اچھا مسلمان بن کر ندگی گزارے۔اس عمل کے ساتھ ہر نماز کے بعد تین بار یہ دونوں دعائیں اپنے ورد میں رکھیں کہ اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِم، اَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہ التَّامَّاتِ مِن شَرِّ مَاخَلَقَ۔انشاء اللہ دشمن کے حملے اور شر سے بھی آپ کی حفاظت ہوگی۔

آخری تینوں قل فجر اور عصر کےبعد پڑھیں۔ ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی۔ سونے سے قبل سورہ فاتحہ، پھر آیۃ الکرسی، پھر آخری تینوں قل پڑھیں، سب سے آخر میں سورہ الکافرون پڑھ کر اپنی دائیں ہتھیلی پر دم کر کے سو جائیں۔ وظائف میں سے یہ حفاظت کا وظیفہ مجرب و مبارک ہے۔ تیر بہدف ہے، مگر اس کی بنیاد اخلاص، یقین، ادب و احترام اور آپ کی نیت و گمان پر ہے۔ وظیفہ کے اول آخر 1 بار درود شریف پڑھیں۔

آخر میں خلوص سے دعا کریں۔اگر معاملہ مزید پیچیدہ ہو تو صبر کا دامن مت چھوڑیں ۔اگر دشمن کے ساتھ کسی معاملہ میں مقدمہ ، پنچایت اور عدالت کا سامنا ہو تو یہ عمل ضرور کر لیں۔ یہ دو بتائی گئی دعائیں زیادہ سے زیادہ طاق تعداد میں پڑھیں اور پڑھتے ہوئے دشمن کا تصور کریں،بلکہ ایسے لوگ جو انجانے دشمن کے شر سے نجات چاہتے ہوں انہیں یہ دونوں دعائیں روزانہ ہر نماز کے بعد پڑھتے رہنا چاہئے اور اسکو زندگی کا لازمی حصہ بنا لینا چاہئے

اور اللہ سے عاجزی کے ساتھ تصوراتی اور قلبی طور پر دعا کریں کہ اے اللہ عزوجل میں کمزور ہوں، تو طاقت و عظمت والا ہے ، میں مغلوب ہوں تو میری مدد فرما۔محترم خواتین وحضرات اس عمل کے ساتھ یہ بات بھی سامنے رکھیں کہ اکثر اوقات انسان خود اپنے غلط طرز عمل سے اپنے دشمن پیدا کرتا رہتا ہے اس لئے پہلے خود پر نظر ڈال لیں کہیں یہ دشمنوں کی لمبی قطار خود آپ نے تو نہیں کھڑی کی۔

بہر حال یہ دشمنوں اور حاسدین کے حسد اور دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے سب سے بہترین 2 دعائیں ہیں ۔ ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو ایک دوسرے کے لئیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائےاور انسان، جنات اور شیاطین کے وسوسوں اور حملوں سے حفاظت عطا فرمائے۔ آمین ۔ثم آمین

Leave a Comment