استخارہ تسبیح سے ۔ آسان و مجرب المجرب استخارہ جو آپ خود کر سکیں۔بہتر جان سکیں۔

istakhara tasbeeh sy

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔ ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ ناظرین کرام۔۔۔استخارہ کا مطلب خیر طلب کرناہے یعنی اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنا، بلکہ شریعت میں استخارہ ایک خاص ٹرم ہے، جس کا طریقہ سنت سے ثابت ہے۔ اسی طرح استخارہ کے کچھ طریقے بزرگان دین کے مجربات میں سے بھی ہمیں ملتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اکثر اس کا استعمال شادیوں کے وقت نظر آتا ہے ۔

احادیث کی کتب ، علمائے دین و علمائے روحانیات نے استخارے کے بے شمار طریقے بیان کئے ہیں۔ لہذا انہیں طریقوں میں سے آج تسبیح سے استخارہ کا مجرب طریقہ بتاؤں گا۔ یہ آسان و مجرب المجرب سا استخارہ جو آپ خود کر سکیں گےاور بہتر جان سکیں گے۔ دوستوتسبیح کے دانے آپ کی تقدیر کو بدل سکتےہیں۔ اس طریقہ کار میں تسبیح کے دانوں پر ہاتھ رکھا جاتا ہے ، پھر کچھ مخصوص تعداد کے مطابق دانے شمار کئے جاتے ہیں ، باقی بچنے والے دانوں کےاعداد و شمار کے مطابق نیک و بد کا تعین کیا جاتا ہے دوستو ویسے تو جو سنّت طریقہ ہے اسی طرح استخارہ کرنا مجرب ہے ، لیکن بعض سورتوں میں فوری رزلٹ درکار ہوتا ہے۔

لہذا یہ ایک ایسا عظیم مجرب استخارہ ہےکہ آپ دنیا کے کسی بھی کام کے متعلق فورا استخارہ کرسکتے ہیں، شادی کے بارے ميں کرنا ہو کہ وہاں میرے لئے شادی مناسب ہے یا نہیں ، نوکری کے بارے میں ، کاروبار کے بارے میں ، بندش؛ جادو؛ جنات؛ تعویزات؛ نظربد کے بارے میں؛ غرض کسی بھی حوالے سے کرنا ہو اس استخارہ سے آپ کو فوراً انشاءاللہ جواب ملے گا۔ بیمار ہیں مسلسل علاج سے افاقہ نہیں ہو رہا غرض کے کوئی بهی پریشانی هو تو یہ آسان ترین استخارہ کا عمل ضرور کریں

ناظرین کرام۔۔۔میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے ان کے سامنے بہت ہی بہتر کاروبار یا رشتے ہوتے ہیں اور وہ قدم نہیں اٹھاتے کے پیر صاحب کے یا پھر کسی اللّہ والے کے استخارہ میں صحیح نہیں آیا۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر شخص خود اپنے لئے استخارہ کرے۔ استخارہ خود کرنا مسنون ہے ، دوسروں سے کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ایک حدیث میں جناب رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی سے استخارہ کا چھوڑدینا اور نہ کرنا انسان کے لیے بدبختی اور بدنصیبی میں شمار ہوتا ہے ۔

استخارہ کے لیے شریعت نے تو کوئی ایسی شرط نہیں لگائی کہ استخارہ گناہ گار انسان نہ کرے، کوئی ولی اللہ کرے ، لہذا جو شرط شریعت نے نہیں لگائی آپ اپنی طرف سے اس شرط کو نہ بڑھائیں ۔ خود استخارہ کریں، کیونکہ انسان کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو، بندہ تو اللہ ہی کا ہے اور جب بندہ اللہ سے مانگے گا تو جواب ضرور آئے گا،جس ذات کا یہ فرمان ہوکہ مجھ سے مانگو میں دعا قبول کروں گا ۔ وہ ذات تو ایسی ہے کہ شیطان جب جنت سے نکالاجارہا ہے ، تواس وقت شیطان نے دعا کی، اللہ نے اس کی دعا کو قبول فرمایا، جو شیطان کی دعا قبول کررہا ہے کیا وہ ہم گناہ گاروں کی دعا قبول نہ کرے گا ؟

اوردوستو جب کوئی استخارہ رسول اللہ کی اتباع سنت کے طور پر کرے گا تو یہ ممکن نہیں کہ اللہ دعا نہ سنے بلکہ ضرور سنے گا اور خیر کو مقدر فرمائے گا،اللہ کی بارگاہ میں سب کی دعائیں سنی جاتی ہیں ، ہاں یہ ضرور ہے کہ گناہوں سے بچنا چاہیے تاکہ دعا جلد قبول ہو ۔ آج کے اس استخارہ میں آپ کا سوال جیسا بهی هو جامع اور واضح جواب آپ کو ضرور ملتا هے۔ عمل استخارہ نوٹ کیجئے۔

دوستو آپ باوضوہوکرآنکھیں بند کر کےاول آخر درود شریف 3 بارپھر 21مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کرتسبیح کے دانوں پر پھونک دیں ،اورتسبیح کے آخری کچھ دانوں پر یہ دعا پڑھنی شروع کر دیں پہلا لفظ بِسْمِ اللہِ دوسرا لفظ خَیْرِہِ۔۔۔ تیسرا لفظ۔۔۔وَشَرہِ ۔۔۔اب دیکھئے کہ پڑھتے پڑھتے تسبیح کے آخری دانے پر کس لفظ کا سٹاپ آیا ہے، اگر تسبیح کے آخری دانے پر (بِسْمِ اللہِ)آیا ہےتو مطلب ہے کہ یہ رشتہ کرنا یا یہ کام کرنا مناسب ہے،اوراگر پڑھتے پڑھتے تسبیح کے آخری دانے پر (خَیْرِہِ)کا لفظ آیا تو مطلب ہے کہ یہ رشتہ یا یہ کام نہایت نیک اور بہتر ہے، اوراگر تسبیح کے آخری دانے پر (شرِّہِ)آیا تو یہ رشتہ کرنا یا یہ کام کرنا مناسب نہیں اس کے چھوڑ دینے میں خیر ہے ۔

اس عمل کے لئے کم از کم ١٠٠ دنوں والی تسبیح ہی لی جاۓ، ایک وقت میں ایک کام کیلیے ایک بار استخارہ کریں۔ سمجھ نہ آئے تو اگلے دن دوبارہ کریں ۔ بار بار پریکٹس کریں۔ انشا اللہ بہت جلد آپ اس استخارہ کے ماہر ہو جائیں گے۔ براۓ مہربانی ڈیجیٹل تسبیح سے یہ استخارہ نه کیا جاۓ بلکہ ایک قدیم کتاب میں اس طرح لکھا ہوا تھا کہ اول سورہ حمد کو پڑھ لو آیاکہ “إِھْدِنَا الصِّرٰاطَ المُسْتَقیمَ” تک پہنچیں ، اس کے بعد تین مرتبہ محمد و آل محمد پر درود بھیجیں اور تین مرتبہ کہیں “یٰا مَنْ یَعْلَمُ إِھْدِ مَنْ لٰا یَعْلَمُ”۔

اس کے بعد تسبیح کو اپنی مٹھی میں لیلیں اس کے بعد دو دو کر کے شمار کرے اگر آخر میں ایک باقی رہے تو وہ کام اچھا ہے انجام دیں اگر دو باقی رہے تو اس کو انجام نہ دیں اگر اس عمل کے خوبی اور برائی کو جاننا چاہتے ہیں تو دوبارہ استخارہ کرلیں اور اس عمل کے ترک کرنے کا قصد کرلیں اگر پہلے استخارہ میں امر ہو اور دوسرے استخارہ میں نہی آجائے تو وہ کام بہت اچھا ہے اگر دوسرے استخارہ میں بھی امر آجائے تو وہ کام متوسط ہے یعنی درمیانہ ہے۔

اسی طرح اگر پہلا استخارہ میں کام سے نھی ہوا ہے اور اس کے ترک میں امر ہوا ہو اس کو چاہیئے کہ وہ اس کام کو ہرگز انجام نہ دے اگر اس کام کے ترک کی بھی نفی کی گئی ہے ۔ یہ بھی یاد رہےکہ استخارہ کرنے والا اپنے دل کو ہر قسم کی پلیدگی سے پاک کرے اور یقین کی تلاش میں رہے تا کہ وہ خدائے تعالیٰ کی طرف توجہ کرسکے اور اگر استخارہ کرنے والے نے یہ ایمان اور یقین کے ساتھ نہ کیا ہو اس کے اس استخارہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔عوام میں سے بعض لوگوں کے دل یقین سے خالی اور ان میں شناخت کی طاقت بھی نہیں ہے ۔

بہرحال دوستو جو آدمی اپنے معاملات میں استخارہ کرتا ہو وہ کبھی ناکام نہیں ہوگا اور جو شخص اپنے کاموں میں مشورہ کرتا ہو اس کو کبھی شرمندگی یا پچھتاوے کا سامنا نہ کرنا پڑے گا کہ میں نے یہ کام کیوں کیا ؟یا میں نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟ ، اس لیے کہ جو کام کیا وہ مشورہ کے بعد کیا اور اگر نہیں کیا تو مشورہ کے بعد نہیں کیا ، اس وجہ سے وہ شرمندہ نہیں ہوگا ۔

Leave a Comment