بیس سال پرانا جوڑوں کا درد منٹوں میں ختم۔ لاجواب نسخہ

Bees saal purana joroon ka derd mintoon mai khtm

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔ ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ ناظرین کرام اس نسخے سے متعلق ایک خاتون کا کہناہے کہ میرے شوہر کا 20 سال پرانا جوڑوں کا درد اس نسخے سے ختم ہوگیا اوراللہ نےہمیں اس نسخےسے ہر قسم کے جوڑوں کے درد سے محفوظ رکھا ہواہے۔ بلکہ ویڈیو کے آخر میں آپ کو یہ بھی بتاؤں گا کہ ڈاڑھی کے پانی سےبھی آپ جوڑوں کا درد کیسے ختم کرسکتے ہیں ۔یہ مفت کی دوائی اور مفت کا علاج ہے۔

اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہےکہ ہمارے گھر میں آج تکصرف اسی ٹوٹکے کی وجہ سے کسی کو جوڑوں کی تکلیف نہیں ہوئی۔ دوستو جوڑوں کا درد کب؟کیوں ؟ کیسے ؟ اور کن افراد پر حملہ آور ہوتا ہے اورغذائی احتیاط اور اسباب و علامات بھی آج آپ دوستو کے ساتھ شیئر کروں گاناظرین کرام۔۔۔۔جوڑوں کا درد ایک موذی اور تکلیف دہ مرض ہے جس میں جوڑوں کی جھلیاں سخت ہو کر ہڈیوں کی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں۔جوڑوںپر ورم آ جاتا ہے۔

مرض کی شدت میں جوڑ حرکت کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور ہڈیاں ٹیڑھی ہو جاتی ہیں۔ درد کا زیادہ تر اظہار کہنی،گھٹنے اور ٹخنے کے جوڑ سے ہوتا ہے، یہ مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔اسی طرح چھوٹے جوڑوں کا درد ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کے جوڑ ،انگوٹھے کے جوڑ وغیرہ سے ظاہر ہوتاہے۔یہ عورتوں کی نسبت مردوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ دوستو جدید میڈیکل سائنس کی رو سے جوڑوں کے درد کا سب سے بڑا سبب یورک ایسڈ کو سمجھا جاتا ہے۔

خواتین میں جوڑوں کے امراض کی ایک بڑی وجہ امراض رحم اور قبل از وقت سن یاس کا شروع ہونا یا پھر رحم کا نکلوادینا بھی ہو سکتی ہے۔یاد رہے کہ ایسی خواتین جو بعد از زچگی ٹھنڈے گرم کا پورا خیال نہیں رکھتیں یا ایامِ مخصوصہ میں قبل از وقت نہا لیتی ہیں انہیں بھی جوڑوں کے درد کا سامنا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بیماری موروثی طور پر بھی حملہ آور ہوجاتی ہے۔مشاہداتی اور تجرباتی بات تو یہ ہے کہ فی زمانہ جوڑوں کے درد کی سب سے بڑی وجہ غیر معیاری اور ملاوٹ سے بھرپور غذاؤں کے ساتھ ساتھ سہل پسند زندگی اور سائنسی سہولیات ہیں۔

چاولوں کا اندھا دھند استعمال ،بڑے گوشت کے کباب ،بینگن کے پکوڑے اور تیز مصالحہ جات سے بنی بریانی کا روز مرہ غذاؤں میں استعمال بھی اس بیماری کا سبب ہو سکتا ہے۔ بلکہ رہی سہی کسر جدید خو راک فاسٹ فوڈ نے نکال دی ہے۔ جیساکہ کولا مشروبات اور بیکری مصنوعات وغیرہ۔ بہرحال میں خواتین سے بھی گزارش کرتاہوں کہ امراضِ رحم کے حوالے سے ہمیشہ انتہائی اقدام سے گریز کریں اور یہ نسخہ گھر پر تیار کریں۔ ایک چھٹانک شہد اور ایک آدھا چمچ دار چینی پسی ہوئی لے کرشہد میں مکس کرلیں۔

آدھ گلاس نیم گرم پانی میں ایک لیموں نچوڑ کر شہد اور دار چینی کا مکسچر ایک بڑا چمچ لیکر پانی کے ہمراہ کھالیں۔مجھے ایک خاتون کہنے لگیں کہ میرے شوہر کا 20 سال پرانا جوڑوں کا درد ، چند ہفتے یہ نسخہ استعمال کرنے سےعرصہ بیس سال پرانا جوڑوں کا درد ختم ہوگیا۔ اسی طرح دوستو میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ جب ہم نماز یا کسی اور کام کیلئے وضو کرتے ہیں تو وضو کے تقریباً چار پانچ منٹ بعد تک وضو کا پانی ڈاڑھی اور چہرے وغیرہ پر ٹکا رہتا ہے اس کو اگر جوڑوں کے درد والی جگہ پر مالش کے انداز میں مل لیں تو شفاء کلی نصیب ہوتی ہے۔

ایک اور بات جن حضرات کی ڈاڑھی نہیں ہے وہ ڈاڑھی رکھیں اور پھر اس ٹوٹکے کاکمال دیکھیں۔ خواتین کی خدمت میں بھی عرض ہے کہ ان کے چہرے پر جو وضو کا پانی بچ جاتا ہے وہ اپنی مطلوبہ درد والی جگہ پر ملیں ان شاء اللہ ان کو ہر قسم کی تکلیف سے نجات ملے گی۔ یہ تجربہ میں نے کہیں سے پڑھا نہیں کسی سے سنا نہیں بس میرا اپنا مشاہدہ اور تجربہ ہے۔ یہ مفت کی دوائی اور مفت کا علاج ہے۔

اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہےکہ ہمارے گھر میں آج تک کسی کو جوڑوں کی تکلیف نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ دوستو آپ غیر ضروری طور پر پروٹینز سے لبریزغذائی اجزاء گوشت، انڈا، دالیں، لوبیا مٹر، مکئی شوقیہ ملٹی وٹامنزاور سدا جوان رکھنے والی بازاری دواؤں اور غذاؤںسے اجتناب کر کے بھی تا دیر صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔روز مرہ غذاؤں میں گوشت، چاول، دالیں، لوبیا، مٹر، پالک، بینگن، چائے، سگریٹ و شراب نوشی، کولا مشروبات،بیکری مصنوعات اور بادی و ترش اشیا کو ترک کردیا جائے۔

ورزش کو معمول بنایا جائے ۔اکثر مریض یہ گلہ کرتے ہیں کہ ان سے چلا نہیں جاتا لیکن دھیان رہے کہ ورزش کا مطلب ہی مشقت اور کسرت کرنا ہے۔بعد از عشرہ جسم خود بخود ہی رواں ہو جائے گا اور آپ کئی ایک بدنی مسائل سے محفوظ ہو جائیں گے۔یاد رکھیں !ورزش ہمارے جسم میں غیر ضروری جمع ہونے والے زہریلے مادوں کو ختم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔روز مرہ ورزش کو اپنی زندگی میں ایسے ہی شامل کریں جیسے ہم اپنی خوراک اور لباس کا اہتمام کرتے ہیں۔

دو کھانوںکے درمیان کم از کم 6 سے 8 گھنٹوں کا وقفہ لازمی کریں تاکہ معد ہ اپنے نظامِ ہضم کو متواتر اور متوازن رکھ سکے۔ اسی طرح پنجگانہ نماز مذہبی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں کئی ایک بدنی و روحانی مسائل با لخصوص جوڑوں کے درد سے محفوظ رکھتی ہے ۔کیونکہ اس میں جسم کے تمام جوڑوں کی ورزش بلا تعطل ہوتی رہتی ہے۔سبزیوںاور پھلوں کو اپنی غذا کا لازمی حصہ بنائیں۔پالک ،ٹماٹر،آڑو اور دیگر فولای اجزا کے حامل پھل اور سبزیاں اگرچہ امراضِ گردہ و پتہ،یورک ایسڈاور جوڑوں کے درد میں پیچیدگیوں کا سبب بنتے ہیں لیکن آپ اپنے معالج کے مشورے سے ان کے استعمال کا طریقہ طے کر سکتے ہیں۔

Leave a Comment