جس گھر میں یہ 2 کام ہونے لگیں،وہاں رزق کی تنگی اور بے برکتی کوئی نہیں روک سکتا۔

jis gher mai yeh do kam hony lagain

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔ ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ ناظرین کرام۔۔۔ آج ہر بندہ پریشان ہے بے چین ہے اور یوں ہر لمحہ ادا س بھی ہے ،کیوں؟ ہمیں سب سے پہلے خود اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہئے ۔ غور کیجئے صبح سے شام تک ہم کیا کرتے ہیں ؟24 گھنٹے کیسے گزارتے ہیں ؟تقریباً ہر خاندان ہی ان 2 کاموں میں مبتلا ہے اور تنگی والی زندگی کزار رہا ہے۔ بلکہ کئی احادیث میں حضور ﷺ نے بھی ان دو چیزوں سے منع کیاہے ۔

اور ان دو کاموں کے بےشمار نقصانات سے امت کو آگاہ کیا ہے۔ ناظرین کرام۔۔۔۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہرزق ایک ایسی نعمت ہے جس کی تقسیم کا اختیار و ذمہ مالکِ کائنات نے اپنے پاس رکھا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ وہ ہر انسان کو طیب و طاہر اور پاک رزق عطا فرماتا ہے اور اس رزق میں اضافہ و فراخی کے مواقع بھی بخشتا ہے۔ لیکن اکثر انسانوں کی فطرت ہے کہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہاللہ تعالٰی اور اس کے حبیب ﷺ نے ہمیں رزقِ حلال کی طلب، کمانے کا طریقہ، تجارت اور کاروبار کے مکمل اصول سکھائے اور بتائے ہیں۔

یہ اٹل حقیقت ہے کہ جب تک ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق ملازمت، کاروبار اور تجارت کرتے ہیں تب تک سب کچھ ٹھیک رہتا ہے۔ جب ہم اسلامی حدود سے تجاوز اور احکام الٰہی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں تو رزق میں سے برکت اٹھنا شروع ہو جاتی ہے اور یوں بڑی بڑی فیکٹریوں اور کارخانوں کے مالک بھی بھکاری بن جایا کرتے ہیں۔رزق حلال کمانے والوں کے لیے اللہ پاک اپنی رحمت کے خزانے کھول دیتا ہے دنیا میں باعزت رکھتا ہے آخرت میں بلند درجات سے نوازتا ہے مگر اللہ کو چھوڑ کر مال و دولت کے حصول کا غلام بن جانا سب سے بڑی بدقسمتی ہے اور یہی سب سے بڑی ذلت ہے۔

ناظرین کرام اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم رازق کو بھول جاتے ہیں اور روزی کے پیچھے لگ جاتے ہیں اگر ہم روزی کو چھوڑ کر رازق کے پیچھے لگ جائیں تو روزی خود بخود آپ کے پیچھے ہوگی۔دوستو آپ کو پیارے نبی ﷺ کے بارے میں دو ایسی چیزیں بتارہاہوں جن کے بارے میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس گھر کے دروازے رشتے داروں کے لیے بند ہو جائیں اور جس گھر میں رات دیر تک جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کا رواج پیدا ہوجائے تو وہاں رزق کی تنگی اور بے برکتی کو کوئی نہیں روک سکتا ۔

تو گویا یہ 2 کام کر کے ہم نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔ محنت اور محبت دونوں سے جی چرا کر بے برکتی کا شکار ہوگئے ۔نہ ہمارے پیسے میں برکت ہے نہ وقت میں نہ خوشیوں میں ، ہم اپنے ہی سے ہر وقت ناراض اور اکھڑے ہوئے ہیں ۔دوستو رات دیر تک جاگتے رہنے اور صبح کو دیر سے بیدار ہونے کی خراب عادت اب ہماری طرز زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

‘میں صبح کے وقت سوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور آپ نے مجھے پاؤں سے ہلایا پھر فرمایا: بیٹی! اٹھو! اپنے رب کی طرف سے رزق کی تقسیم میں شامل ہو جاؤ اور غفلت شعار لوگوں کی عادت اختیار نہ کرو، اللہ تعالٰی طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک لوگوں کا رزق تقسیم کرتے ہیں۔دوستو اگر اپنے ضمیر سے پوچھا جا ئے تو واقعی احساس ہوگا کہ ہم کب اٹھتے ہیں کتنا گھر والوں کا ہاتھ بٹا تے ہیں ۔

فجر کی نماز، تلاوت ، اذکار اور اس سے پہلے جاگتے اور جائے نماز پر آنے سے پہلے ہمارا رویہ چھوٹے بڑوں کے ساتھ کیسا ہوتا ہے ؟ پیار محبت سے دعاؤں کے ساتھ ایک دوسرے کو جگانے سے لے کر مسجد لے جانے یا گھر ہی میں نماز پڑھنے کے بعد یگر معاملات میں اہل خانہ کے ساتھ کیسے تعاون کرکے مثال قا ئم کرتے ہیں یا اسکا الٹ کرتے ہیں ؟ ہر آنے والا دن زندگی کا خالی نیا صفحہ ہوتا ہے جو ہمارے لیے ایک رحمت سے کم نہیں اسے ہم کیسے شروع کرتے ہیں کیسے تمام دن میں بھرتے ہیں ؟ اس کا ہمیں پورا صحیح ادراک ہونا چاہئے ۔

ہماری نیک نیتی ہی ہمارے ہر کام کو آسان اور خوشگوار بنادیتی ہے۔ یادرہےکہ صبح کے وقت سونا رزق میں بے برکتی کا سبب ہے۔ لیکن ہم تو کبھی یہ جاننے کی زحمت بھی نہیں کرتے کہ یہ بری عادت ہمیں کیا نقصانات پہنچا رہی ہے یا پھر اس عادت سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے تو آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ صبح جلدی کیسے اٹھا جاسکتا ہے ناظرین اگر آپ صبح جلدی اٹھنا چاہتے ہیں تو آپ کو رات کو جلدی سونا ہوگا تاکہ آپ کی نیند پوری ہواور آپ صبح جلدی اٹھ سکیں ظاہر سی بات ہے اگر آپ رات کو دیر سے سوئے گے تو صبح دیر سے ہی اٹھیں گے اور اگر رات کو جلد سوئیں گے تو جلد ہی اٹھیں گے ۔

پہلے چار سے پانچ دن آپ کو مشکل ہو سکتی ہے لیکن جیسے ہی آپ کو عادت ہو جائے گی تو آپ رات کو جلدی سو جایا کریں گے اور صبح جلدی اٹھ کر نماز ادا کیا کریں گے۔جو لوگ رزق کی خاطر راتوں کی جاگتے ہیں اور دن کو لیٹ اٹھتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اگر روزی میں برکت چاہتے ہیں تو رات کو جلدی سو جایا کریں اور صبح جلد اٹھ کر نماز ادا کیا کریںاور زندگی میں ہر رشتہ کو اہمیت دیں انکا حق احسن طریقے سے ادا کریں ۔

رزق اور اپنی عمر میں اضافہ اور برکت کے لئے رشتوں کو جوڑ کررکھیں۔ صلح رحمی کو اپنائیں۔ جانے کب یہ عمل کی مہلت رک جائے اور ہمارا رزق تھم جائے ۔دوستومرنے کی صرف ایک لمحے کی خبر ہوتی ہے کہ فلاں گزر گیا ۔ فلاں چل بسا ۔ مگر اس فلاں میں ہم اپنا شمار کبھی نہیں کرتے ۔ ہمیں بھی احساس ہونا چاہئے کہ ہمیں فلاں بننے میں دیر نہیں ۔ اللہ واقعی مہربان ہے نگہبان ہے ۔

پس مہلت عمل کو مئوثر سنت اپنا کر بنائیں۔ناظرین یہ بہت ہی اہم معلومات ہیں جو ہمارے نبیﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں۔دنیا کی مشکلات سے بچنے کے لئے قر آن حدیث پر چلنا ہو گا سنت کو اپنانا ہوگا ۔ ہماری اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں صبح جلدی اٹھنے اور پانچ وقت کی نماز پڑھنے کی تو فیق عطا فرمائے اور پیارے آقا کے فرمان پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہماری روزی میں برکت پیدا ہوسکے ۔

Leave a Comment