تنگ دستی اور قرضوں کا شکار ہیں تو ہلکاساعمل کر لیں

Tangdastii or qarzoon ka shikar han to halka sa amal ker lain

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔ ،امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ ناظرین کرام۔۔۔ گزشتہ چند دنوں میں کئی حضرات نے بذریعہ ای میل ایسے عمل کی فرمائش کی تھی جس سے تسخیر خاص و عام حاصل ہو اور تنگ دستی ختم کرنےکا عمل مجرب المجرب بھی ہو۔ لہذا آج ہم بے شمار اعمال تسخیر میں سے اس نایاب عمل کا انتخاب کرکے ناظرین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں ۔

آج کا یہ عمل صرف ان لوگوں کےلئے ہے جو تنگ دستی اور قرضوں کا شکار ہیں تو ایسے تمام لوگ آج یہ عمل کر سکتے ہیں۔۔۔بلکہ اس عمل کو ہزاروں نامرادوں اور ناٹلنے والی پریشانیوں میں گھر ے افراد نے اپنایا تو وہ اپنی مراد پاگئے، لوگ ان اعمال کی برکت سے ایسے آسودہ ہوئے، جیسے ان پر کبھی پریشانیاں آئی ہی نہ تھیں۔ مجھے آج کا یہ عمل بااجازت حاصل ہوا تھا لہٰذا آپ تمام ناظرین کو خلوص دل سے عمل کی اجازت دی جاتی ہے

اور جو شرائط بیان کی جاتی ہیں ان کے مطابق عمل پیرا ہوں زیادہ سے زیادہ آپ کو اس عمل کو انجام دینے میں بیس منٹ کا وقت درکار ہوگا اور فائدہ اس قدر حاصل ہوگا کہ آپ کے سوچ و گمان سے بالا تر ہوگا۔ بلکہ ویڈیو کے آخر میں قرضوں سےنجات کا ایک راز بھی آپ کےساتھ شئیر کروں گا کرام۔۔۔۔اگر آپ تنگ دستی اور رزق میں کمی کا شکار ہیں تو ہم آپ کو یہاں نہایت مجرب عمل بتانے جا رہے ہیں جس کے کرنے سے نہ صرف آپ مالا مال ہو جائیں گے بلکہ رزق میں برکت کےدروازے بھی آپ پر کھول دئیے جائیں گے.

وظیفے پر عمل کرنے سے پہلے ان چند باتوں کا خاص خیال رکھیں، پانچ وقت نماز کی ہر حال میں پابندی کریں، تمام انسانوں اور کلمہ گو سے محبت رکھیں اور فرقہ وارانہ یا متعصبانہ خیالات کو ذہن سے نکال دیں تاکہ جب آپ رب کی مخلوق سے اخلاص اور محبت رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ بھی آپ سے محبت رکھیں گے، آپس کی رنجشوں کو ختم کریں، جھوٹ بولنے سے گریز کریں، صدقہ و خیرات بھی کرتے رہیں.

جو شخص کاروبار میں مندی اور ملازمت کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہو یا ملازمت میں ترقی کا خواہش مند ہو ، اگر کسی مشکل میں پھنسا ہو تو یہ وظیفہ خاص اس کیلئے ہے. ایسے شخص کو چاہئے کہ بعد نماز ظہر گیارہ سو گیارہ مرتبہ ۔۔۔ یا اللہ۔۔۔ پڑھیں۔۔۔بعد نماز عشا۔۔۔2 نفل توبہ کے پڑھیں اور اس کے بعد۔۔ 313 بار یا صمد۔۔ پڑھیں اور اس کے بعد دعا کریں۔۔۔۔ دعا میں اپنے گناہوں کی معافی بھی ضرور مانگ لیں۔۔

اس عمل کی بدولت بہت سے افراد نے اپنی مراد پائی ہے اور اللہ نے انہیں اپنے خزانوں سے غنی بنا دیا… اس عمل کے ساتھ اپنے معاملات میں میانہ روی یعنی اعتدال برقرار رکھیں۔ میانہ روی اختیار کرنے سے آپ کو قرضوں سے نجات مل جائے گی۔قرضوں سے نجات کاسب سے بڑا راز ہی میانہ روی، یعنی اعتدال ہے بلکہ ایک بزرگ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا۔ اپنی تنگ دستی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا: ’’حضرت! گھر کے خرچے پورے نہیں ہو رہے، قرض بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

کوئی وظیفہ بتا دیجیے، تاکہ اس مشکل سے چھٹکارا ملے۔‘‘ بزرگ نے پوچھا: گھر میں روزانہ کیا سالن پک رہا ہے؟ اس نے جواب دیا: الحمد للہ! معمول کے مطابق پک رہا ہے۔ بزرگ نے پوچھا: معمول کا کیا مطلب! جواب دیا: عام طور پر سادہ سالن ہوتا ہے جبکہ تین، چار دن کے بعد گوشت بھی پک جاتا ہے۔ بزرگ کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا اور اس شخص کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’آپ وظیفے کی بات کر رہے ہو۔

زندگی میں اعتدال نہیں ہے۔ خرچ کرنے میں میانہ روی نہیں۔ ارے خدا کے بندے! سالن نمک کے بغیر کھا سکتے ہو تو کھانا گوارا کرو۔ جب تک آپ تیرے ذمے قرض ہے اس وقت تک ہلکی اشیا پر کفایت کر اور خرچ کرنے میں میانہ روی کرو۔ بے اعتدالی سے اپنے کو بچاؤ!‘‘ یہ تھے مولانا محمد امین شہید رحمہ اللہ کے الفاظ۔ایک طرف مہنگائی نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے تو دوسری طرف عوام اپنی زندگی میں میانہ روی سے محروم اور بے اعتدالی کا شکار ہیں۔ عیاشی کا سامان زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔

’’اسٹیٹس‘‘ برقرار رکھنے کی ہوس زور پکڑنے لگی ہے۔ اس کے برعکس میانہ روی اور اعتدال کو ہمیشہ قابل تعریف قرار دیا گیا ہے۔ افراط و تفریط اور بے اعتدالی چاہے زندگی کے کسی بھی شعبے میں ہو اور کسی بھی کام میں ہو، اس کے نتائج اور اثرات نقصان دہ اور مایوس کن ہوتے ہیں۔ برے اعمال تو ایک طرف رہے اچھے اعمال میں بھی بے اعتدالی پسندیدہ نہیں ہے۔میانہ روی سے اخلاق مضبوط ہوتے ہیں۔

حقوق کا احساس ہوتا ہے۔ اگر کمائے گا بھی تو رزق حلال کمائے گا۔ وہ مال کمانے میں اخلاقِ فاضلہ کا خیال رکھتا ہے۔ وہ رزق کمانے میں یہ کوشش کرتا ہے کہ رزقِ حلال کمایا جائے۔ اس میں کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ ایسے ذرائع سے کمائے گا جس میں مسلمانوں کا مفاد عامہ ہو اور کسی مخلوق خدا کے لیے ذریعہ رزق بنے۔ اعتدال پسند شخص اخراجات میں بھی تدبیر سے کام لیتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ راحت و سکون اس بات کا نام نہیں کہ زیادہ لذیذ کھانا کھایا جائے، بلکہ وہ یہ جانتا ہے کہ راحت و سکون میانہ روی اور کفایت شعاری میں ہے۔

وہ صرف ضروریاتِ زندگی پر فوکس کرتا ہے۔ خواہشات سے بچتا ہے۔ کیوں کہ خواہشات کو جتنا بڑھانا چاہو تو بڑھتی چلی جائیں گی اور اگر اپنے نفس کو تھوڑے اور کفایت شعاری کا عادی بنالیا جائے تو ہزار مصیبتوں اور تکالیف سے نجات مل جائے گی۔بلاشبہ دوستو مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہے، مگر اس سے زیادہ سنگین ہماری فضول خرچیاں اور غیرضروری اخراجات ہیں۔ اگر اپنے معاش اور گزر اوقات کے سلسلے میں صرف اسی ایک اصول کو جزوِ زندگی بنا لیں تو آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔

اپنے اہل و عیال کو بھی اسی کی تعلیم اور تلقین کیجیے۔ اپنا معمول بنانے اور ان کی تربیت کو مسلسل جاری رکھنے سے اس وصف کی فضا اپنے گھر میں پیدا کر کے اس کے ثمرات سے فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ایک بڑی حقیقت ہے کہ جتنا زیادہ مال دار گھرانہ ہو، عیاشی اور فضول خرچی بھی اتنی زیادہ کی جاتی ہے۔ قرضے، بیماریاں اور پریشانیاں بھی اتنی زیادہ ہوتی ہیں۔

اس سب کے پیچھے اسی ایک وصف میانہ روی اور کفایت شعاری کی کمی کارفرما ہے۔آپ معیشت اور معاشرت کے نبوی اصولوں کو اپناتے ہوئے میانہ روی، کفایت شعاری کاطریقہ اپنائیے۔ بے اعتدالی اور افراط و تفریط سے بچیے۔ ان شاء اللہ راحتوں بھری زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔میری دعا بھی ہےکہ اللہ ہم سب کا دنیا اور آخرت میں حامی و ناصر ہو۔

Leave a Comment