کاروبار میں‌برکت وسعت کےلئے صرف ایک آیت کا مجرب عمل آزمالیں !

Karo bar mai berkat wasat k liye

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔ امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ ناظرین کرام۔۔۔ دین اسلام کاروبار کو ترقی دینے کے لیے آیا ہے نہ کہ چلتے کاروبار کو خدانخواستہ بند کرنے کے لیے … بلکہ ہمیں ایسا تاجر بننے کی ضرورت ہے جسے اس کی تجارت اللہ کی یاد سے غافل نہ کرے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی ہمیں یہ درس ملتاہےکہ کاروبار میں برکت ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کاروبارکیا ہے۔

اس لیے یہ سنت بھی ہے بلکہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد گرامی ہےکہ اللہ نے رزق کے دس حصے کیے ہیں اور اکیلے نو حصے کاروبار میں ہیں۔لہٰذا مسلمانوں کو تجارت کی طرف راغب ہو نا چاہیے۔اس وقت جبکہ پوری دنیا میں لوٹ مچی ہوئی ہے اور بڑا سرمایہ کار چھوٹے تاجروں کو دباتا جارہا ہے۔ مالداربڑے سرمایہ دار بنتے جارہے ہیں جبکہ غریب غربت کی انتہا کو پہنچتا جا رہا ہے توچھوٹے تاجر سسکیاں لے رہے ہیں۔

کسان اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے پر مجبور ہے،اس کی محنت کا اسے جائز حق نہیں مل رہا ہے اور بڑے ساہوکار کسان کی محنت پر اپنی تجوریاں تو بھر رہے ہیں لیکن محنت کشوں کا جائز حق نہیں دے رہے ہیں۔جب معاملات اس حد تک پیچیدہ ہوں تو کاروبار میں‌برکت کےلئے آپ صرف ایک آیت کا عمل اختیار کر لیں انشااللہ کاروبار کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ یعنی ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﺟﻮﻧﮧﭼﻠﺘﺎﮨﻮﯾﺎﭼﻠﺘﮯﭼﻠﺘﮯﺭﮎﮔﯿﺎﮨﻮ،ﻧﻘﺼﺎﻥﮨﻮﺭﮨﺎﮨﻮﺗﻮﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ اس عمل سے ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﻣﯿﮟﺗﺮﻗﯽ اوروسعتآﺋﮯﮔﯽ۔

ﮐﺴﯽ بھائی ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ، ﺩﻓﺘﺮ ﯾﺎﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﺑﺴﺘﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﻭﺟﮧﺳﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻧﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮ، ﻻکھ ﮐﻮﺷﺶ ﺍﻭﺭﻣﺤﻨﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮاس ﻋﻤﻞ ﮐﻮلازمی ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝﻣﯿﮟﻻﺋﯿﮟ۔ ﻏﯿﺐﺳﮯﺭﺯﻕﻣﮩﯿﺎﮨﻮﮔﺎ۔یہ ﺻﺮﻑﺍﯾﮏآیت کا عمل ہے جو دین دنیا میں سرخروئی اور کامیابی و کامرانی کا ضامن ہیں،یہ میراسب سےزیادہ پسندیدہ اور ذاتی مجرب عمل ہے یہ عمل میراخود کابھی معمول ہے اور دوسروں سے بھی پڑھایا الحمدللہ اس عمل سےعظیم فوائد حاصل ہوئے،

بلکہ ویڈیوکے آخر میں ایک کاروباری راز بھی آپ کے ساتھ شئیر کروں گا جس سے آپ دنیا و آخرت میں اونچااوربلندمقام حاصل کر سکتےہیں ناظرین کرام۔۔۔۔اسلام ہی وہ دین ہے جس میں ساری پریشانیوں، مشکلوں، بیماریوں، مصیبتوں، دکھوں، غموں، دقتوں اور نقمتوں کا حل موجود ہے۔اسلام کے سایہ تلے زندگی گزارنے سے غربت دور ہوسکتی ہے ، بیماری کا علاج ہوسکتاہے، پریشانی کا حل ہوسکتا ہے، غموں کا اختتام ہوسکتاہے، دعائیں قبول ہوسکتی ہیں، مراد پوری ہوسکتی ہے، قسمت سنور سکتی ہے ، بگڑی بن سکتی ہے ۔

ہماری پریشانیاں بتلاتی ہیں کہ ہم نے اسلام کے سایہ تلے زندگی گزارنا چھوڑدیا ہے ورنہ یہ دن نہ دیکھتے پڑتے ۔ایک مومن کا اس بات پر ایمان ہونا چاہئے کہ ہمارا اصل مددگار صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے ،اس کے علاوہ کوئی مدد گار نہیں جیساکہ خود کلام رب اس کی گواہی دیتا ہے کہ مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمتوں والا ہے ۔ لہذا کاروبار میں اللہ کی مدد ونصرت حاصل کرنےکیلئےسورہ یسین کی آیت نمبر اٹھاون سَلٰمٌ۔ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْم۔کو گیارہ سو بار پڑھیں اور اول و آخر 3 بار درود ابراہیمی پڑھیں ۔

اس کے پڑھنے سے اللہ کاروبار میں‌برکت کے ساتھ اور بھی بہت برکتوں‌سے نوازتا ہے اور انسا ن کی غربت اس عمل کے پڑھنے سے ختم ہو جاتی ہے۔ یہ عمل آپ دوسروں سے بھی پڑھواسکتےہیں۔ انشا اللہ خداﮐﮯﺣﮑﻢﺳﮯﻏﯿﺒﯽﺍﺳﺒﺎﺏﭘﯿﺪﺍﮨﻮﮞﮔﮯﺍﻭﺭﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭﻣﯿﮞﺨﻮﺏﺗﺮﻗﯽﮨﻮﮔﯽ۔ﭘﮭﺮﻟﻄﻒﮐﯽﺑﺎﺕﯾﮧﮨﮯﮐﮧﮐﺴﯽﮐﮯﺳﺤﺮﺟﺎﺩﻭﺍﻭﺭﻧﻈﺮﺑﺪﮐﺎﺍﺛﺮﻧﮩﯿﮟﮨﻮﮔﺎ۔حصول ملازمت،تبادلہ کروانا یا رکواناہو،مقدمہ میں کامیابی کے لئے،روحانی حاضرات کیلئے کاروبار اور گھر میں خیر و برکت کے لیے بہت ہی عظیم عمل ہیں، بلکہ آج کل کالے علم اور کالے جادو کا کا مرض بڑھتا جا رہا ہے۔

آئے دن کوئی نہ کوئی ہر گھر میں اس مرض میں مبتلا نظر آتا ہے۔ ملازمت کے لئے اگر کسی حاسد نے جادو کے ذریعے کسی کی ملازمت یا کاروبار میں رکاوٹ ڈال دی ہو اس کے واسطے ہر نماز بعد سلام قول من رب الرحیم کو 313 مرتبہ پڑھیں انشاء اللہ ہر قسم کی رکاوٹ دور ہوجائے گی۔اس کے ساتھ ہی دوستو ایک کاروباری راز بھی آپ کے ساتھ شئیرکردیتاہوں جس سے آپ دنیا و آخرت میں اونچااوربلندمقام حاصل کر سکتےہیں۔ حدیث مبارکہ میں سرورکائنات ﷺ کا ارشادگرامی ہے کہ سچاتاجر یعنی تاجروں میں سے سچائی کاراستہ اختیارکرنے والاسب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا۔سبحان اللہ!

کتنا اونچااوربلندمقام ہے ۔لیکن خیال رہے کہ سچائی کے ساتھ تجارت اوردکان داری بظاہر کہنے میں بہت آسان ہے ۔درحقیقت یہ بہت مشکل کام ہے ۔ لیکن دوستومسلمان تاجر کس قدرخوش نصیب ہے کہ اسے آقائے نامدارﷺ نے اخلاقیات میں سے ایک خوبی، سچائی کے اختیارکرنے پر جنت میںداخلے کی خوشخبری سنائی ہے اوروہ بھی سب سے پہلے۔اس سے معلوم ہواکہ سچائی کے ساتھ تجارت کرنا متقی ہونے کی بھی علامت ہے ۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:’’ جنت متقیوں کے لیے ہے۔‘

‘ اس لیے چاہے ظاہری طورپر مال کا گھاٹانظرآرہاہو،نقصان ہوتا نظر آ رہا ہو،مال جمع نہ ہوتانظرآرہاہولیکن سچائی اورراست گوئی کادامن ہاتھ سے نہ جانے دو…کیونکہ سچ نجات دیتاہے اورجھوٹ ہلاک کرتاہے۔ سچائی اورراست گوئی کاراستہ اختیارکرنے میں تاجر کا کاروباری نفع بھی ہے۔ مارکیٹ میں اس کی ساکھ بنتی ہے ۔جس تاجر کے بارے میں سچ بولنے والا مشہور ہوجائے لوگ اس کے لیے چلتاپھرتااشتہاربن جاتے ہیں۔

ایک دفعہ جو آدمی وہاں سے خریداری کرکے جاتاہے وہ اپنے دوست احباب اورعزیز واقارب کو بتاتاہے کہ فلاں دکان سے خریدنا! یہاں صحیح چیز ملتی ہے، جو کہتے ہیں وہی چیز دیتے ہیں ۔مغر ب نے بزنس کی دنیاکے لیے جواخلاقی اصول وضع کیے ہیں۔اس میں انہوںنے ایمانداری اورسچائی کوبہت نمایاں مقام دیاہے۔وہ کسٹمر کو جو معیاربتاتے ہیں،چیز بھی اسی معیارکی ہوتی ہے۔ان کی کامیابی کی وجوہات میں سے ایک وجہ سچائی کواختیارکرنابھی ہے۔

مغرب کا تذکرہ کرنے کا مقصدیہ نہیں کہ صرف وہی سچائی کادامن تھامے ہوئے ہیں۔مسلمان یکسر اس سے عاری ہیں۔ایسابالکل نہیں۔بلکہ اس مذاکرے کامقصدان تاجروں کی حوصلہ افزائی کرناہے ۔جو پہلے سے ہی سچائی کادامن تھامے ہوئے ہیں ۔سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان ان کے لیے بشارت ہے ۔دوسری جانب اگر اس وصف( Quality) کو اختیار کرنے میں جہاں مسلمانوں کی مارکیٹوں میں تساہل برتاجارہاہے۔

جہاں کہیں بھی اس کاارتکاب کیاجارہاہے۔اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ تاجر برادری کو مل کر اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے ۔مارکیٹ کے ماحول میں تبدیلی لانے کے لیے تاجرتنظیموں کے نمائندگان کو بھی اپنا کرداراداکرناچاہیے ۔وہ دن دورنہیں جب ہماری مارکیٹیں اور بازار شریعت کے نورسے منورہوں گے ۔

Leave a Comment