لاعلاج امراض کے لیے سورۃ روم کی آیت کا وظیفہ۔دائمی صحت اور ہر مشکل کے حل کے لیے وظیفہ۔

Lailaj amraaz k liye

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ناظرین کرام یقین کیجئے کہ صحت کی قدر اور اس کی حفاظت ایک مسلمان کا فرض ہے۔ کسی نے بہت پیاری مثال دی کہ ’’جس طرح حقیر دیمک بڑے بڑے کتب خانوں کو چاٹ کر تباہ کرڈالتی ہے، اسی طرح صحت کے معاملے میں معمولی سی غفلت بھی حقیر سی بیماری کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

دوستو صحت و عافیت اورپرسکون زندگی کو بحال رکھنا اور بیماری لاحق ہونے پر اس سے چھٹکار ا حاصل کر ناانسا نی فطر ت کا اہم تقاضا ہے، یاد رہے کہ انسان کو لاحق ہونے والے امراض دونو ں طرح کے ہیں ۔ ایک روحانی اور دوسرا جسمانی امراض ۔ اور ان دونوں کا شافی علاج قرآن مقدس اور احادیث مبارکہ میں ہے جیسا کہ اللہ پاک کافرمان بھی ہےکہ وننز ل من القران ماھو شفآء ورحمۃ للمومنین۔یعنی ہم نے جوقرآن نازل کیاہے اس میں جسما نی وروحانی بیماریوں کے لیے شفاء ہے اور اہل ایما ن کے لیے سراپارحمت ہے۔

لہذا آج ہم آپ کے لیے ایک ایسا ہی قرآنی وظیفہ لے کر آئے ہیں یا پھر میں یوں کہوں گا کہ ایسا وظیفہ یا ایسی دعا جو دوا پر بھاری ہے۔ اس عمل کی مدد سے اللہ رب العزت مریضوں کو دائمی صحت عطا فرما دیں گےبلکہہر قسم کی بیماری کا روحانی علاج ، اور تمام مشکلا ت کو انشا اللہ حل فرما دیں گے ،تمام پر یشا نیوں سے نجا ت عطا فرما دیں گے اور تمام مسائل کو بھی حل فرما دیں گے ۔ بس ایک بات یاد رکھیں کہ جب بھی کوئی وظیفہ اختیار کریں تو مستقل مزاجی اور پابندی کے ساتھ کریں۔

ایک چھوڑ کر دوسرا اور دوسرا چھوڑ کر تیسرا کرنا بھی نفع مند ثابت نہیں ہوتا ہے بلکہ اکثراوقات نقصان ہوتا دیکھا گیا ہے۔محترم ناظرین ! یقین کے ساتھ عمل کریں۔ شک عمل کو ضائع کردیتا ہے۔ درحقیقت تمام وظائف اللہ جل شانہٗ کے حضور پیش ہوکر ہمارے حالات اور پریشانیوں میں آسانی اور سہولت لانے کیلئے اجازت چاہتے ہیں۔ اس لیے اللہ جل شانہٗ ہی کی ذات سے ہونے کا سوفیصد یقین ہی فائدہ دے گا۔ آج کا یہ وظیفہ اللہ جل شانہ کی مدد حاصل کرنے کیلئے اہل اللہ سے ثابت ہے۔

اولیا ء کا حیر ت انگیز روحانی وقرآنی ایسا مجر ب عمل ہے جس میں اللہ کا فرمان بھی ہے یعنی قرآنی آیت اور حضورﷺ کا طریقہ بھی یعنی سنت کے مطابق عمل کرنا۔ اسی وجہ سے یہ ہر قسم کی بیما ری اور پریشانی کے لیے ایک تیر بے خطا اور آزمودہ عمل ہے، ہزاروں نے آزمایا آپ بھی یقین کی قو ت کے ساتھ کریں اللہ پاک اس عمل کو ضرور قبو ل فرماتے ہیں جس میں طاقت ہو۔

عزیز خواتین و حضرات۔۔۔بیماری اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اس سے شفاء بھی اللہ ہی دیتا ہے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں وہ (اللہ) ہی مجھے شفاء دیتا ہے۔ بیماریوں کے علاج کے لیے مختلف طریقہ ہائے علاج ہیں اور انسان بیماری پہ قابو پانے کے لیے ہر وقت کوشاں رہتا ہے۔ اس کے لیے نت نئی دوائیں استعمال کرتا ہے لیکن شفاء صرف اس وقت ملتی ہے جب اللہ کی طرف سے منظوری ہو۔

رسول پاک ﷺکا ارشاد ہے ’’ہر بیماری کے علاج کے لیے دوا ہے اور جب دوا کے اثرات بیماری کی ماہیت کے مطابق ہوتے ہیں تو اس وقت اللہ کے حکم سے مریض کو شفا ہو جاتی ہے۔ یعنی دوا کے ساتھ ساتھ شفاء کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مہربانی کا شامل حال ہونا بہت ضروری ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دوا کے ساتھ ساتھ شفاء کے لیے اللہ سے لو لگائی جائے۔ اسی سے رحمت اور کرم کی دعا کی جائے۔

ہمارے ایک دوست اس عمل سے متعلق بتا رہےتھےکہ میرے والد صاحب کو بلڈ کینسر ہو گیا تھا جسے ڈاکٹر نے لاعلاج قرار دیا تھا لیکن ہم نے سورۃ روم کی آیت نمبر تیس کاعمل کیااور اللہ نے میرے والد کو دائمی صحت عطا کی۔ اس دائمی صحت کوحاصل کر نےکےعمل کے کر نے کا طریقہ یہ ہے کہ صبح شام دو نفل ادا کر کے تین دفعہ سورۃ روم کی آیت نمبر تیس کو پڑ ھناہے اور پھر دعا کر نی ہے۔

اس حوالہ سے نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کو جو دعا سکھائی اس کا ہمیں اہتمام کرنا چاہئےکہاے ہمارے اللہ! میں اپنے آپ کو تیری پناہ میں دیتا ہوں پریشانی سے ، غم سے، بیچارگی سے، سستی و کاہلی سے، قرض کے بوجھ سے اور اس بات سے کہ لوگ مجھ کو دبا لیں۔ یہ دعا بھی ہمیں تمام بیما ریوں سے محفوظ فرما دےگی ،اور ہما رے مسائل بھی حل ہوجا ئیں گے۔ کیونکہ قرآن پاک کی آیات اور سورتوں کی تلاوت سے بھی اللہ تعالیٰ مہربانی فرماتے ہیں کیونکہ اللہ کی کتاب تو ہے ہی سرچشمہ ہدایت و رحمت۔

مجھے ہیپاٹائٹس کے کئی مریضوں نے بتایا کہ انہوں نےسورۃ روم کی آیت نمبر تیس کاعمل کیااور اس کا دم کیا ہوا پانی پینے سے بیماری میں کمی اور سکون محسوس کیا۔ اس کے علاوہ کسی بھی درد کی صورت میں سات دفعہ سورۃ روم کی آیت نمبر تیس پڑھ کر دم کرنے سے درد میں افاقہ ہو جاتا ہے۔دن میں روزانہ کم از کم ایک دفعہ دو رکعت نماز صلوٰۃ الحاجات پڑھ کر اللہ سے عافیت، صحت اور سکون مانگیں۔

ان شاء اللہ سکون قلب بھی ہو گا اور بیماریوں سے نجات بھی۔ دوستو سنت رسول ﷺ ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ ہم اچھی صحت کے حامل ہوں اور اس نعمت عظیم کی قدر کریں جیسا کہ آپ ﷺ کا فرمان ہےکہ اللہ کے نزدیک ایک کمزور مومن کے مقابلہ میں ایک قوی مومن بہتر ہے ۔ اس لیے ہمیں چا ہیے کہ ہم اللہ سے ایمان کی سلامتی کے بعد صحت کی نعمت ضرور ما نگیں۔اوراسلام کی خوبی اعتدال اور میانہ روی کو اپنائیں۔

چاہے وہ جسمانی محنت ہو، دماغی کاوش ہو، ، کھانے پینے، سونے اور آرام کرنے کا معاملہ ہو… فکرمند رہنے کا معاملہ ہو یا ہنسنے ہنسانے میں تفریح کا معاملہ ہو… عبادت، رفتار اور گفتار غرض ہر چیز میں اعتدال کا رویہ اختیار کریں۔ حدیث ہے ’’اخراجات میں میانہ روی سے معاشی مسئلہ نصف رہ جاتا ہے۔ بے شک اس پر عمل کر نے سے ہمارے تمام مسائل حل ہوجا ئیں گے۔ دعاہے کہ اللہ رب العزت ہما ری صحت کے تما م مسائل کو حل فرما ئے اور ہمیں خزانہ غیب سے صحت عطا فرما ئے ۔۔۔ آمین ۔ ثم آمین

Leave a Comment