حاجات کے لئے لازمی کریں۔

Hajat k liye lazmii krain

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔ امیدہےآپ خیریت سے ہوں گےاورہماری دعابھی ہےکہ اللہ کریم،آپ کوسدا عافیت کے سائے میں رکھے۔ ناظرین کرام سارے بندے ، امیر ہوں یا غریب سب اللہ رب العزت کے محتاج ہیں ۔ زمین و آسمان کے سارے خزانے اللہ ہی کے ہیں وہی جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے ۔ ہر شخص محتاج ہے انسان کی محتاجی اور فقیری کا تقاضہ یہی ہے کہ بندہ اپنے رب سے اپنی حاجت و ضرورت کو مانگے ۔

انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے جیسا کہ اللہ کاقرآن پاک میں ارشاد بھی ہے کہ جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتا ہے اور دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ بلکہ جامع ترمذی میں فرمان نبوی ﷺ ھے کہ دعا عبادت کی روح اور اس کا مغز ہے ۔رب تعالیٰ نے انبیا ء کرام و صالحین اور اپنے بندوں کو نہ صرف دعا مانگنے کی تعلیم دی بلکہ دعا مانگنے کا طریقہ بھی بتایا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: تمہارے پروردگار نے کہا کہ تم مجھ سے دعا کرومیں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ دوستو آج کایہ وظیفہ تمام وظائف سے زیاده طاقتور هے۔ جو یہ وظیفہ کرے گا براه راست الله کی پناه میں رهے گا۔اس کی زندگی میں کوئی پریشانی هر گز نهیں آئے گی۔ اسے الله سیدھا راسته دکھائے گا اور وه دین و دنیا میں کبھی غلطی نهیں کرے گا اسے الله جو کچھ هونے والا هو گا خواب میں پهلے هی دکھا دے گا اسے کسی سے کوئی چیز مانگنے کی ضرورت پیش نهیں آئے گی

اس کی تمام ضروریات کی ذمہ داری براه راست الله پر هوگی اسے کوئی دشمن کسی بھی قسم کا نقصان نهیں پہنچاسکے گا اس پر کوئی جادو کام نهیں کرے گا جو اسے دیکھے گا اس کی عزت کرے گا اس کے دل میں جو خواهش هوگی خودبخود پوری هوگی ۔ بسم الله کے فرشتے هر وقت ساتھ رهنا شروع کر دیں گے اور وه هر کام سے پهلے آپ کے دل میں کرنے یا نہ کرنے کا خیال ڈال دیں گے اور آپکو کوئی غلط یا نقصان ده کام کرنے هی نهیں دیں گے۔

یه همیشه کرنے والا وظیفه هے اسے روزانه ایک هی جگه اور ایک هی وقت پر کریں ۔اگر یه ممکن نه هو تو جیسے بھی هو سکے کریں۔هو سکے تو 24 گھنٹے کریں ۔ بنیںه اپنے مخصوص ایام میں بھی بمعه درود پاک جاری رکھیں ۔ اپنے خواب خفیه رکھیں لوگوں کو نه بتائیں که آپ یه وظیفه کر رهے هیں۔اگر نماز نهیں بھی پڑھتے تب بھی یه عمل کریں ۔ الله خود آپ کو پانچ وقت کا نماز ی اور تهجد نماز پڑھوائے گا ۔ اور اگر کسی دن وظیفه نه کرسکیں تو بے وضو بھی هوں تو جیسے بھی هو سکے وظیفه کو نه چھوڑیں ۔

یه وظیفه سلطان الهند سید الاولیا خواجه غریب نواز رحمته الله علیه کا عطا کرده هےناظرین کرام یہ عمل مبارک صرف 7 روز کا ہے۔ میں نے ایک قتل کے قیدی کےلئے صرف ایک ہی دفعہ کیا ‘ اللہ پاک نے اسے رہائی عطا فرمائی ‘ یہاں تک کہ مقدمہ کا کوئی مدعی ہی نہ رہا ۔ایک اور صاحب جو انتہائی غریب تھے اور مدعی با اثر تھے جن کے ساتھ اس کا مقدمہ تھا انہیں یہ عمل بتایا اور اس کی برکت سے سالہا سال کے اس مقدمہ میں اس غریب سائل کو اللہ نے فتح عطا فرمائی۔

بہت مثالیں ہیں مگر اختصار کے پیش نظر اتنا ہی کافی ہے۔عمل مبارکہ و مقدسہ یہ ہے کہاپنی جائز حاجات اور مرادوں کے حصول کے لیے اللہ کی طرف رجوع کریں،فرائض کی پابندی کریں، گناہوں سے بچیں اور کثرت سے توبہ واستغفار کریں، اور اس کے ساتھ بزرگان دین کے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کریں صرف درود پاک 11 مرتبه پڑھیں پھر ۔۔۔بسم الله الرحمن الرحیم تین سو تیرہ مرتبه پڑھیں ۔۔۔

پھر درود پاک 11 مرتبه پڑھیں اس کے بعد رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم اور مولانا جلال الدین رومی رحمته الله علیه اور تمام امت کو ایصال ثواب کریں ۔بعد ایصال ثواب اپنی حاجات کے لئے دعا کریں ۔اس وظیفے کی نیت صرف رضائے الهی هے بعد وظیفه دعا آپ کے لئے هے ۔ اس وظیفے کو شروع کرنے کے بعد کسی حاجت کاکوئی اور وظیفه نه کریں۔سختی سے ممنوع هے ۔ هاں الله کی رضا کے لئے بے شک وظیفے کریں۔ آپکی حاجات اسی وقت پوری هونگی اگر وه آپ کے لئے نقصان ده نهیں ۔

مگر آپ مانگنے سے باز نه آئیں ۔ جب آپ چاهیں اس وظیفه کو پڑھنا بند کر دیں ۔ آپکو انشا اللہ کوئی نقصان نهیں هوگا ۔نوکری میں رکاوٹ یا ترقی کاروبار کے لئے، یا جہیز کا مسئلہ ہویا آفسران کا بلاوجہ تنگ کرنایا رزق کی پریشانی روزگار کی تلاش ہو تو یہ عمل بیشمار مقاصد کے لئے بہترین عمل ہےبلکہ یہ ایک مضبوط روحانی حصاراوردفاعی عمل بھی ہے ۔ بس یہ یادرہےکہدعا کے وقت دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف حاضر اور متوجہ رکھنا ضروری ہے۔

کیونکہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ بے شک اللہ تعالیٰ اس بندہ کی دعا قبول نہیں کرتا جو صرف اوپری دل سے اور توجہ کے بغیر دعا مانگے۔جس کو یہ پسند ہو کہ مشکلات کے وقت اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے تو اس کو چاہیئے کہ آسائش (آرام) کے وقت کی دعا کی کثرت کرے۔یہ شکوہ غلط ہے کہ دعائیں قبول نہیں ہوتیں،دعاؤں کی قبولیت کی تین صورتیں ہیں :اول مانگنے والے کو عطا کردیا جاتا ہے،یا پھر دوسری صورت میں اس دعا کے بدلے کسی مصیبت کو دور کردیا جاتا ہے ۔

یا پھر اس دعابدلے اللہ تعالیٰ آخرت میں اجر عظیم عطا کرتا ہے اسی لیے اپنے حق میں ہر دعا مانگنی چاہیئے اور بار بار مانگنی چاہیئے کیوں کہ رضائے الٰہی سے یہ دعائیں اس دنیا میں ہمارا بھی دفع کرتی ہیں اور آخرت میں بھی…آپ ﷺ نے فرمایا اگر انسان گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے بشرطیکہ جلد بازی نہ کرے۔آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ جلد بازی سے کیا مراد ہے ؟

آ پ ﷺ نے فرمایا یوں کہنے لگے میں نے بہت دعا کی لیکن لگتا ہے میری دعا قبول نہیں ہوئی،چنانچہ نا امید ہوکر دعا چھوڑ دے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین پڑھنے ،سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے اللہ ہم سب کو دعا کی اہمیت و فضیلت اور آداب جاننے اور دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Leave a Comment