شدید ندامت والا استغفار

Shadeed nadamat wala Astaghfar

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔اللہ کا کوئی ایسا بندہ نہیں جس کے دل و دماغ دنیا کی چمک دمک اور رنگ رلیوں سے متاثر نہ ہوتے ہوں، نفسانی خواہشات، دنیا کی مختلف لذتیں اور پھر شیطانوں کے مختلف اور مسلسل حملے ہیں جن کے سبب ولی صفت انسان بھی غفلت کا شکار ہوکر گناہ اور قصور کربیٹھتا ہے،

لیکن جب وہ ندامت، شرمندگی اور اللہ کے نزدیک جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے اور اپنے کو مجرم اور خطاوار سمجھ کر معافی اور بخشش مانگتا اور آئندہ کے لیے توبہ کرتا ہے تواس کے سارے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اور وہ اللہ کی نظر میں اتنا محبوب اور پیارا انسان ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو، قرآن مجید میں توبہ و استغفار کرنے والے بندوں کے لیے صرف معافی اور بخشش ہی کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت و محبت اور اس کے پیار کی بشارت سنائی گئی ہے،

ارشاد باری ہے ””بے شک اللہ محبت رکھتا ہے توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے اورپاک صاف رہنے والوں سے۔ چناچہ گناہ کے بعد شدید ندامت کے وقت یہ دعا کے الفاظ قرآنِ پاک میں سورت ۔۔ الاعراف ۔۔کی آیت نمبر ۔۔149۔۔میں موجود ہیں ۔۔ آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَیَغْفِرْلَناَ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ یعنی اگرہمارے رب نے رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو البتہ ہم خسارہ اتھانے والوں میں سے ہو جائیں گے ۔

ناظرین کرام ۔۔۔۔ آپ اس قرآنی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور شان کریمی کی بات ہے کہ ایک گنہگار اورمجرم کے لیے پوری زندگی اللہ کی طرف رجوع کرنے کا موقع فراہم کیاگیا کہ جب بھی اللہ کا خوف پیدا ہو توبہ کرکے اللہ کے نزدیک بندوں میں شمولیت اختیار کی جاسکتی ہے گویا گناہوں سے توبہ کا یہ سلسلہ موت تک قابل قبول ہے، لیکن کیا معلوم زندگی کا چراغ کب بجھ جائے، اس لیے گنہگاروں اور خطا کاروں کو توبہ کرنے میں دیر نہ کرنی چاہئے۔
اللہ پاک ہمیں بھی اس قرآنی دعا کو پڑھنے والا بنائے اور ہمارے تمام گناہ معاف فرمائے۔۔۔۔آمین

Leave a Comment