حدیث میں استغفار کی دعا۔۔۔۔

Hadees mai Astaghfar ki Dua

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔ امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔یہتو حقیقت ہے کہ ہر انسان خطا کاپتلا ہے‘ کوئی بھی پارسائی اور پاکدامنی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔تمام اولاد آدم ما سوائے حضرات انبیاء کرام سے گناہوں‘ خطاؤں اور غلطیوں کا سر زد ہونا ممکن ہے لیکن سب سے بہترین انسان وہ ہے جو غلطی کے ندامت کا اظہار کرتا ہے‘ اپنے خالق حقیقی کے در پر آکر دو چار آنسو گراتا ہے اور اپنے مالک کے سامنے گڑ گڑاتےہوئے صدق دل سے توبہ واستغفار کرتا ہے۔

ایسا انسان سب سے بہترین ہے جو غلطی کے بعد صدق دل سے توبہ کرتا ہے۔دنیا میں بسنے والے خاکی حضرات کو منانا تو مشکل ہو سکتا ہے مگر اللہ رب العزت کو راضی کرنا مشکل نہیں ہے۔اور خود اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر توبہ واستغفار کرنے کاحکم دیا ہے۔ چناچہ یہ دعا کے الفاظ حدیث میں موجود ہیں ۔۔ آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے۔سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ یعنی اللہ پاک ہے اور تعریف اسی کے لئے ہے اور اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔

پیارے دوستو۔۔۔۔ آپ اس قرآنی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہمارا رب جو بابرکت اور بلندوبالا ہے جب ہر رات کا آخری تہائی حصہ باقی ہوتا ہے تو وہ آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے تو میں اس کی دعا کو قبول کروں ،کون ہے جو مجھ سے معافی طلب کرے تو میں اسے معاف کروں۔حضرت عائشہ رضی اللہ فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی وفات سے قبل یہ کلمات کثرت سے پڑھتے تھے۔اللہ پاک ہمیں بھی اس دعا کو پڑھنے والا بنائے اور تمام مسائل حل فرمائے۔۔۔۔آمین

Leave a Comment