رزق کی زیادتی اور بڑھوتری کی مختصر دعا۔۔۔۔

Rizaq ki zyadati or berhotry ki mukhtaser dua

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔ امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔کسب معاش کے معاملے میں اللہ تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کو حیرانی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے نہیں چھوڑا’ بلکہ کتاب و سنت میں رزق کے حصول کے اسباب کو خوب وضاحت سے بیان کر دیا گیا ہے’

اگر انسانیت ان اسباب کو اچھی طرح سمجھ کر مضبوتی سے تھام لے اور صحیح انداز میں ان سے استفادہ کرے تو اللہ مالک الملک جو بہت زیادہ رزق عطا فرمانے والے اور بہت زیادہ قوت والے ہیں’ لوگوں کیلیے ہر جانب سے رزق کے دروازے کھول دیں۔ آسمان سے ان پر خیروبرکات نازل فرما دیں اور زمین سے ان کیلیے گوناگوں اور بیش بہا نعمتیں اگلوائیں۔ یہ بات توہمیشہ ذہن میں رہنی چاہیئے کہ کبھی انسان کوروزی کی وسعت کے ذریعے آزماتاہے اوربے انتہامال اس کے اختیار میں دے دیتا ہے اورکبھی معیشت کی تنگی کی وجہ سے اس کے صبراستقامت اور پامردی کاامتحان لیناچاہتا ہے

اوراس سے ان صفات کو پروان چڑھاتاہے ۔ چناچہ رزق کی زیادتی اور بڑھوتری کی دعاقرآن و حدیث میں نقل کی گئی ہے ۔اس دعا کے الفاظ حدیث میں موجود ہیں ۔۔ آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ،فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ یعنی اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، بےشک تیرے سوا اس کا کوئی مالک نہیں ہے۔

ناظرین کرام ۔۔۔۔ آپ اس قرآنی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مہمان آیا، آپ ﷺ نے کھانا لانے کے لیے ایک آدمی کو اپنی ازواج کے پاس بھیجا لیکن ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی کھانا نہ ملا۔ تو آپ ﷺ نے دعا کی: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ،فَإِنَّهُ لَا يَمْلِكُهَا إِلَّا أَنْتَ

چنانچہ آپ ﷺ کے پاس بھنی ہوئی بکری کا تحفہ لایا گیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اللہ کا فضل ہے اور ہم رحمت کا انتظار کررہے ہیں۔لہذا اللہ پاک ہمیں بھی اس قرآنی دعا کو پڑھنے والابنائے اور رزق کے تمام مسائل حل فرمائے۔۔۔۔آمین

Leave a Comment