چھوٹا سا استغفار اور تمام گناہ معاف

Choota Sa astaghfar or tmam gunah maaf

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ: ارض کائنات میں دو امان دیئے گئے، زمین کے دو امان میں سے ایک تو اٹھالیا گیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے اور دوسرا باقی رہ گیا اور وہ استغفار ہے، اس کو مضبوط پکڑلو ۔

معلوم ہوا کہ امت جب تک استغفار کرتی رہے گی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے گی، اس کی مزید تائید اس حدیث شریف سے ہوتی ہے۔ مسند احمد میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں:”بندہ عذاب خداوندی سے امن میں ہے جب تک کہ وہ استغفار کرتا ہے۔“ معلوم ہوا کہ ہمیں ہر وقت استغفار یعنی گناہوں سے معافی مانگتے رہنا چاہئے۔

استغفار کا معنی ہے :مغفرت طلب کرنا، یعنی جب انسان سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوجائے اور انسان اس پرنادم ہوگیا کہ میں نے اپنے خالق و مالک کی نافرمانی کی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگا توشرع میں اس کو استغفار کہتے ہیں، لیکن استغفار میں اپنے گناہوں پر سچے دل سے ندامت ہو کہ میں نے ایسا کیوں کیا ؟ حضرت رابعہ بصریہ کا ارشاد ہے کہ: ہمارا استغفار ایک اور استغفار کا محتاج ہے، یعنی گناہوں سے سچے دل سے استغفار نہیں کرتے۔

امام غزالی کا ارشاد ہے کہ: استغفار سے قبل ندامت ضروری ہے، ورنہ یہ ا ستغفار جو ندامت کے بغیر ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ استہزاء کے مترادف ہے۔لہذا حدیث میں ہے کہ: جو شخص جمعہ کے دن فجر سے پہلے تین بار کہے: “أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لاَ إلَهَ إلاَّ هُوَ، الْحَيُّ القَيُّومُ، وَأتُوبُ إلَيهِ یعنی میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ زندہ جاوید اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات ہے، اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ] اس کے سارے گناہ بخش دیے جائیں گے چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ہر وقت اپنی ذات کی طرف متوجہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment