رات کے وقت بیدار ہو کر استغفار سے دعا اور نماز کی قبولیت

Raat k waqt baidar ho ker astaghfar sy dua

بسم اللہ الرحمن الرحیمالسلام علیکم۔۔۔۔ امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔استغفار ایک ایسا عمل ہے جس پر وعدہ خداوندی ہے کہ امت عذاب سے محفوظ رہے گی، آج ہم جو طرح طرح کے عذابات کا شکار ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے معافی اور استغفارنہیں کرتے ، کیونکہ ا گر ہم گناہوں کے بعد سچے د ل سے استغفار کرتے رہتے تو ہم اس طرح کے پریشان کن حالات سے ہرگز دوچار نہ ہوتے،

الله تبارک وتعالی ایسی غفور رحیم ذات ہے کہ اگر بندہ سے گناہ ہو جائے اور پھر وہ نادم ہو کر الله تعالیٰ سے معافی مانگے تو الله تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر پھر گناہ ہو جائے اور پھر نادم ہو کر الله تعالیٰ سے معافی مانگے تو الله تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر متعدد بار اس طرح ہو تو بھی توبہ نہیں چھوڑنی چاہیے، اگر گناہ نہیں چھوڑ سکتے تو توبہ بھی نہیں چھوڑنی چاہیے، اگر ہر بار سچے دل سے نادم ہو کرتوبہ کرے اور توبہ کرتے وقت اس گناہ کو نہ کرنے کا پختہ عزم تو الله تعالیٰ توبہ قبول فرما تے ہیں۔

آپ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہےجس شخص نے اپنے گناہ پر استغفار کیا، اس نے اپنے گناہ پر اصرار نہیں کیا، اگرچہ وہ دن میں ستر بار گناہ کرے۔حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛جو شخص رات کے وقت بیدار ہو اور پھر کہے:” لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے، وہ تنہا و یکتا ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اور تعریفیں اسی کیلیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، اللہ بہت بڑا ہے، نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی ہمت صرف اللہ کی طرف سے ہی ملتی ہےیہ پڑھ کر اس نے کہا: “یا اللہ! مجھے بخش دے” تو اس کی دعا قبول ہو گی، اور اگر نماز پڑھے تو وہ بھی قبول ہو گی۔۔۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں استغفار کو معمول بنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Comment