حضرت نوح علیہ السلام کا جامع استغفار۔

Hazrat Nooh ka jamia astaghfar

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔ امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔حضرت بکر بن عبداللہ المازنی جو اپنے وقت کے فقیہہ اور ابتدائی تابعین میں سے تھے ۔ وہ کہیں راستے میں چل رہے تھے ان کے آگے آگے ایک لکڑہارا چل رہا تھا اور کہہ رہا تھا ’’الحمد للہ ‘‘ ،’’استغفراللہ‘‘ تو حضرت بکر بن عبداللہ المازنی نے اس سے کہا ’’کیا تو اس کے علاوہ اور کوئی دوسری چیز نہیں جانتا؟‘‘۔

لکڑہارے نے کہا کیوں نہیں،مَیں حافظ قرآن ہوں اور بہت ساری باتیں جانتا ہوں، لیکن انسان گناہ اور فضل و انعام کے مابین اِدھر اُدھر رخ بدلتا رہتا ہے، اِس لئے مَیں اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور اس کے فضل و انعام کے لئے اس کا شکر اور تعریف کرتا ہوں تو بکر بن عبداللہ المازنی نے کہا ’’کہ بکر نادان رہا اورلکڑ ہارا حقیقت کو پا گیا۔لہذا حضرت نوح علیہ السلام کے جامع استغفارکے لئےیہ دعا کے الفاظ قرآنِ پاک میں سورت ۔۔ نوح ۔۔کی آیت نمبر ۔۔28۔۔میں موجود ہیں ۔۔

آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتْ یعنیاے میرے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو بخش دے اور اس کو جو میرے گھر میں ایماندار ہو کر داخل ہوجائے اور ایماندار مردوں اور عورتوں کو۔

ناظرین کرام ۔۔۔۔ آپ اس قرآنی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اُس شخص کے لیے خوش خبری ہے جس کے نامۂ اعمال میں بہ روزِ قیامت ہر گناہ کے نیچے استغفر اﷲ لکھا ہوا پایا جائے گا۔ لہذا اللہ پاک ہمیں بھی اس قرآنی دعا کو پڑھنے والا بنائے اور ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے۔۔۔۔آمین

Leave a Comment