اجتماعی مصیبت اور قومی مشکل کے وقت کا استغفار ۔۔۔۔

Aijtmai museebat or qoami mushkil k waqt ka astaghfar

بسم اللہ الرحمن الرحیم،السلام علیکم۔امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔کوئی پریشانی آئے یا کوئی فسادات ٹو ٹ پڑیں ،اہل ایمان اورمحرومِ ایمان لوگوں کے سوچنے، سمجھنے اورنتائج اخذ کرنے کے معیار ات الگ الگ ہوتے ہیں۔ اہل ایمان اسے آزمائش ،تنبیہ یا عذاب الٰہی سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ ایمان سے محروم اس کی زمینی حقیقتیں اورتوجیہات بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دوضمانتیں دی تھیں، جب تک ان میں سے ایک بھی باقی رہے گی تب تک امت کسی عذاب، آفت یا آزمائش میں اجتماعی طور پرمبتلا نہیں ہوگی،ان دو میں سے پہلی ضمانت اللہ کے پیغمبر ﷺ کی ذات گرامی تھی جو آپؐ کے وصال کے بعد چھن گئی اوردوسری ضمانت استغفار تھی جو ہمیشہ کے لیے باقی ہے۔لہذا اجتماعی استغفار اور قومی توبہ کے لئے یہ دعا کے الفاظ قرآنِ پاک میں سورت ۔۔ الاعراف ۔۔کی آیت نمبر ۔۔155۔۔میں موجود ہیں ۔

۔ آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ یعنیو ہی تو ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیاده اچھا ہے ۔ناظرین کرام ۔۔۔۔ آپ اس قرآنی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ’’اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بہترین استغفار گناہوں سے باز رہنا اور ان پر پشیمان ہونا ہے۔لہذااللہ پاک ہمیں بھی اس قرآنی دعا کو پڑھنے والا بنائے اور ہمیں ہر گناہ پر توبہ و استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔آمین

Leave a Comment