مجلس کے کفارہ کی دعا۔۔۔مجلس سے اٹھتے وقت یہ مختصر سی نبوی دعا پڑھ لیں ۔۔۔گناہوں سے حفاظت رہے گی۔۔۔

Majlis k kufary ki Dua

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔ امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔اختتام مجلس پر مجلس میں ہونے والی لغو باتوں کے کفارہ کے لئے ہر شخص کو یہ نبوی دعا پڑھنی چاہئےکیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھا ہو جہاں بہت سی لغو باتیں ہوئی ہوں تو وہ شخص اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے

تو اس مجلس میں جو بھی غلطی ہوئی ہو گی اس کو بخش دیا جائے گایہ دعا کے الفاظ حدیث کی کتاب جامع ترمذی ۔۔۔۔کی حدیث نمبر:۳۳۵۵ میں موجود ہیں ۔۔ آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے تاکہ۔۔۔دنیا وآخرت کے فائدے آپ بھی حاصل کرسکیں ’’سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إِلاَّ أنْتَ، أسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إلَيْكَ یعنی اے اللہ! تو پاک ہے،حمد تیرے لئے مخصوص ہے، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں،میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں

ناظرینِ اکرام ۔۔۔۔آپ اس نبوی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کیونکہآدمی جب کسی مجلس میں بیٹھتا ہے تو چونکہ مجلس میں مختلف طبیعت اور مزاج کے لوگ ہوتے ہیں تو مجلس میں کسی نہ کسی کا گلہ یا غیبت ہو ہی جاتی ہے۔ اگر بندہ کرتا نہیں ہے تو سن تو لیتا ہے۔ حالانکہ جس طرح کسی کا گلہ یا غیبت کرنا گناہ ہے اسی طرح اس کا سننا بھی گناہ ہے۔

تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجلس کے اختتام کے وقت یہ ایسی جامع دعا بتلائی ہے جس میں الفاظ تو مختصر ہیں مگر فائدہ اتنا عظیم ہے کہ پوری مجلس کا کفارہ بن جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھتے تو یہ ہی کلمات کہتے تھے ۔۔۔ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیا کہ اے اﷲ کے رسولﷺ!آپ یہ کلمات کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ اس چیز کے کفارے کے لیے ہے جو مجلس میں ہو جاتی ہے۔ اسی لئے ہماری دعا ہے اللہ پاک ہمیں بھی اس نبوی دعا کو پڑھنے والا بنائے اور تمام گناہوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔۔۔۔آمین۔۔۔

Leave a Comment