رزق کی فراخی کیلئے قرآنی دعا۔۔

Rizaq ki frakhi k liye Quranii dua

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔یہ دعا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے رزق کی کشادگی کے لئے بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ مانگی تو اللہ تعالی نے قبول فرمائی۔۔۔۔یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا ہے جس میں انہوں نے اللہ سے مائدہ یعنی رزق اتارنے کی التجا کی تو اللہ نے فرمایا میں ایک بار چھوڑو میں بار بار مائدہ اتارنے کو تیار ہوں لیکن یاد رکھو مائدہ اترنے کے بعد جو شخص انکار کرے گا اسے ایسا سخت عذاب دوں گا

کہ دنیا میں ایسا سخت عذاب کسی اور کو نہیں دوں گا۔ چنانہ مائدہ اتارا گیا جن کو اللہ نے توفیق دی ان کا ایمان اور مضبوط ہوگیا ۔۔۔۔یہ دعاکے الفاظ قرآنِ پاک میں سورت مائدہ کی آیت نمبر 114میں موجود ہیں ۔۔ آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے تاکہ۔۔۔دنیا وآخرت کے فائدے آپ بھی حاصل کرسکیں اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ ۚ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ یعنیاے ہمارے رب ۔۔۔! آپ ہمارے لیے آسمان سے ایک دستر خوان اتار دیجئے

۔۔۔تاکہ وہ ہم سب ( یعنی) ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید کا دن ہوجائے۔۔۔ اور آپ کی طرف سے ایک نشانی ہوجائے۔۔۔ اور ہم کو رزق ( مائدہ) دے۔۔ اوراللہ آپ سب سے بہتر رزق دینے والے ہیں۔یعنی آسمان سے رزق اترنے کا یہ واقعہ اس امت کے تمام لوگوں کے لیے خوشی کی یاد گار قرار پائے۔ اگلوں سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت کے وہ لوگ ہیں جو ان کے زمانہ میں موجود تھے اور پچھلوں سے مراد بعد کے لوگ ہیں۔ عید سے مراد تہوار نہیں بلکہ خوشی و مسرت کا وہ واقعہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے یاد گار قرار پائے۔

ناظرینِ کرام۔۔۔۔ آپ اس قرآنی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں کیونکہاس دعا کے پڑھنے سے انشا اللہ رزق کے تمام مسائل اللہ پاک حل فرما دیں گے۔۔۔ یہ انتہا درجے کی عاجزی کے ساتھ قرآنی دعا ہے۔۔ اللہ پاک ہمیں اس قرآنی دعا کو پڑھنے والا بنائے اور رزق کے تمام مسائل حل فرمائے۔۔۔۔آمین

Leave a Comment