دشمن کے شر سے محفوظ رہنے کی نبوی دعا۔

Dushman k sher sy mehfooz rehny ki nabvii dua

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔امید کرتے ہیں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔۔اور ہماری دعا بھی ہے کہ اللہ کریم آپ کو سدا عافیت کے سائے میں رکھے۔۔۔ناظرینِ اکرام۔۔۔۔دشمن سے نجات کے وظائف کی اکثر نوبت آتی رہتی ہے۔ جب جان، مال، اولاد اور عزت محفوظ نہ رہے تو پھر منہ بند کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ورنہ شریر انسان بے لگام ہو کر دوسروں کے لئے بھی نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔ مگر پھر بھی میرا آپ کے لئے مشورہ ہے کہ حتی الوسع درگزر کی کوشش کریں۔

اولیائے کاملین کا بھی یہی طریقہ تھا اور ہے ۔۔۔۔۔۔ بہترین طریقہ اپنے دشمن یا رشتہ دار کی شرارت سے محفوظ اور ان کی طرف سے کسی کام میں رکاوٹ ڈالنے کے توڑ کے لیےیہ نبوی دعا پڑھ لیں کیونکہحضرت ابوموسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قوم کی طرف سے شر۔۔برائی کا ڈر ہوتا تو آپ ﷺیہ دعا فرمایا کرتے تھے ۔۔۔۔یہ دعا کے الفاظ حدیث کی کتاب ابو داؤدمیں موجود ہیں ۔۔ ۔آپ بھی ان الفاظ کو زبانی یاد کر لیجئے تاکہ۔۔۔دنیا وآخرت کے فائدے آپ بھی حاصل کرسکیں

اَللّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِيْ نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُ بِک مِنْ شُرُوْرِهِمْ ۔۔۔۔یعنی اے اللہ! بے شک ہم تجھے ان(دشمنوں) کے مقابلے میں لاتے ہیں اور ان (دشمنوں) کے شرور سے تیری پناہ مانگے ہیں۔ناظرینِ اکرام ۔۔۔۔آپ اس نبوی دعا کو اپنی نماز میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔۔ اور صبح شام کے وظائف میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ آج سگے بھائی، ماں باپ، میاں بیوی اور انتہائی قریبی رشتہ دار ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ نسل در نسل قتل و غارت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ایک چھوٹے سے گھریلو مسئلے سے شروع ہونے والا اختلاف ایک خاندان کے خون کی ندیاں بہانے پر تلہ ہوتا ہے۔ جوں جوں قیامت قریب آ رہی ہے لڑائی اور دشمنی کے انداز بھی بدل رہے ہیں۔ کبھی نمبرداری، چوہدراہٹ، حویلی اور ووٹ کی بنیاد پر دشمنی ہوتی تھی مگر آج کا مسلمان اخلاقی لحاظ سے اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ معاشرے میں موجود دشمنیوں کی وجوہات سن کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

اس ساری صورتحال میں یقیناً ہمیں اپنے جان و مال کی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دشمنی تو سگے بھائی سے بھی ہو سکتی ہے۔ خاندانی دشمنی، مذہبی دشمنی، سیاسی دشمنی اور پھر روحانی دشمنی۔۔۔ بہر حال اللہ تعالٰی سے خیر طلب کی جانی چاہئیے۔ اور حفاظت کے وظائف پڑھتے ہوئے اپنی حفاظت کی ہی نیت ہونی چاہیے، کسی دوسرے کا نقصان پیشِ نظر نہ ہو۔ہماری دعا ہے اللہ پاک ہمیں بھی اس نبوی دعا کو پڑھنے والا بنائے کیونکہ ہم دشمن کے شر سے اللہ تیری ہی پناہ طلب کرتے ہیں اسی لئے اللہ دشمن کا شر ان ہی کی طرف پھیر دے۔۔۔۔۔آمین

Leave a Comment