درخت کے پتوں پر جادو ختم کرنےکا عمل

Derakht k patoon per jadoo khtm kerny ka amal

حضرت مولانا محمد امان اللہ صاحب دامت برکاتہم العالی
جادو کا علاج ساتھ ایک بار، چاروں قل تین تین بار پڑھ کر دم کریں۔ پھر ان پتوں کوایک پاؤ پانی میں رگڑیں ۔پھرایک پانی کی بالٹی میںاس پانی کو ملا دیں۔ مریض نے تین گھونٹ پانی پینا ہے اور ایک بوتل بھرنی ہے۔ باقی پانی سے ایک دن غسل کرنا ہے۔ بوتل والا پانی سات دن صبح وشام پینا ہے۔سات دن کے بعد پھر سات پتے بیری کے لے کر عمل دہرائیں۔ اب پانی تین دن صبح وشام پینا ہے۔باقی پانی سے ایک دن غسل کرنا ہے۔

تین دن کے بعد چار دن تک روزانہ بیری کے پتے والا عمل دہرائیں۔ چار دن پانی پینا ہے اور غسل بھی چار دن روزانہ کرنا ہے۔اس کے بعد شیرینی تقسیم کرنی ہے اور ایک بکرا صدقہ کرنا ہے۔انشاء اللہ جادو ختم ہوگا۔حضرت مولاناحسن الہاشمی صاحب دامت برکاتہم العالی جادو ٹونے سے نجات کا طریقہ ایک بار منزل پڑھ کر چاروں قل پڑھیں پھر سورۂ طارق کی آخری ۳ آیات انھم یکیدون کیدا واکیدُ کیدا فمھل الکافرین امھلھم رویداسات مرتبہ پڑھ کر مریض کے دونوں کانوں پر دم کریں اوریہی عمل ایک بوتل پانی پر دم کرکے مریض کو ایک دن میں پانچ مرتبہ پلائیں ۔

ہر نماز کے بعد پلائیں ۔ اس عمل کو لگاتار سات روز تک کریں ۔ اگر مکمل افاقہ نہ ہو تو مزید سات دن اور جاری رکھیں ۔ انشا ء اللہ جادو ٹونے سے نجات مل جائے گی۔سفلی عمل کاسخت توڑاگر کسی شخص پر سفلی عملی کرادیا گیا ہو اور اس کی جان خطرے میں ہو تو بعد نماز مغرب اس کے سامنے بیٹھ کر عامل کو چاہئے کہ حصار قطبی بآواز بلند پڑھے۔ اتنی آواز سے کہ مریض سنتا رہے اور یہ عمل صرف تین دن تک لگاتار کرے ۔ ان شاء اللہ جادو ٹونے سے نجات مل جائے گی۔اس عمل کی زکوٰۃ نکالنے کے بعد ہی یہ عمل صحیح کام کرتا ہے۔حصار قطبی یہ ہے :

بِسم اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ۔ ثُمَّ اَنْزَ لَ عَلَیْکُمْ یَا مِیْکَائِیْلُ یَامِیْکَائِیْلُ یَامِیْکَائِیْلُ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَا ئِفَۃً مِّنْکُمْ وَ طَائِفَۃٌ یَارَفْتَمَائِیْلُ یَا رَفْتَمَائِیْلُ یَا رَفْتَمَائِیْلُ قَدْ اَھَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاھِلِیَّۃِ یَاسَرْطَائِیْلُ یَاسَرْطَائِیْلُ یَاسَرْطَائِیْلُ یَقُولُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ اَلْاَمْرِ مِنْ شَیئٍ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّہ لِلّٰہِ یُخْفُوْنَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ مَا لَا یُبْدُوْنَ لَکَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ کَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ مَّا قُتِلْنَا یَا اَمْرَائِیْلُ یَا اَمْرَائِیْلُ یَا اَمْرَائِیْلُ ھٰھُنَا قُلْ لَّوْ کُنْتُمْ فِیْ بِیُوْتِکُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْھُمُ الْقَتْلُ یَااِسْرَافِیْلُ یَا اِسْرَافِیْلُ یَا اِسْرَافِیْلُ اِلٰی مَضَاجِعِھِمْ وَلِیَبْتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ یَا دَرْدَائِیْلُ یَا دَرْدَائِیْلُ یَا دَرْدَائِیْلُ وَلِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَاللّٰہ عَلِیْمٌ بذَاتِ الصُّدُوْر اَھْیًا اِشْرَاھِیًا عَلِیْقًا مَلِیْقًا تَلِیْقًا خَالِقًا مَخُلُوْقًا بِحَقِّ ک ھا یا عین صاد و بِحَقِّ حامیم عین سین قاف وبِحَقِّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَاکَ نَسْتَعیْن بِرَحْمِتکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن۔(ال عمران : ۴ ۵ ۱ )

دشمن جادو کرنے کی ہمت نہ کرے
جس کسی کو یہ خطرہ ہو کہ کوئی اس پر جادو کردے گا تو اسے چاہئے کہ وہ ہر روزنمازِ فجر اور نمازِ مغرب کے بعد ایک سو پچیس مرتبہ سورئہ فاتحہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس کا خوف دور ہو گا۔ کوئی اس پر جادو کرنے کی ہمت نہ کرے گا۔(یہ عمل خصوصًا ان مریضوں کے لئے مفید ہے جن کو ہر وقت یہ خوف سوار رہتا ہے کہ دشمن ان پر جادو کر رہا ہے۔اس عمل کو چالیس دن لگاتار کریں۔ خواتین پاکی کے غسل کے بعد سے اکیس دن لگاتار کریں۔ اس کے بعد سات سات مرتبہ معمول میں رکھیں۔ انشاء اللہ دشمن کا کوئی عمل نہ چلے گا۔ یقین کامل اور توجہ کامل سے کریں۔ع)

دفع سحر کے لئے
اگر کوئی شخص سحر کا شکار ہو تو مدینہ کی سات کھجوروں پر سات سات مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر دم کرکے رکھ لے۔ اورسحر زدہ کو روزانہ ایک کھجور کھلائیں۔ اور اکیس مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر ایک بوتل پانی میں دم کرکے رکھ لیں۔ روزانہ کھجور کھلا کر یہ پانی مریض کو پلائیں۔ یہ بوتل سات دن تک چلائیں۔ انشاء اللہ سحر باطل ہو جائے گا اور مریض کوصحت عطا ہوگی۔

سفلی سحر کا علاج
اگر کوئی شخص میعادی یا سفلی سحر کا شکار ہو تو اس کو چاہئے کہ احرام باندھ کر سورج نکلنے سے پہلے عمل شروع کرے یعنی نمازِ فجر کے فوری بعد ایک ہزار مرتبہ آیت الکرسی پڑھے۔ اس عمل کو اکیس روز تک جاری رکھے۔ انشاء اللہ اکیس روز میں سفلی اور میعادی سحر سے نجات مل جائے گی۔اگر کوئی شخص اس عمل کو خود کرنے سے قاصر ہو تو دوسرا شخص ایک ہزار مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر اس پر دم کر سکتا ہے۔

Leave a Comment