آدھی رات کا وقت تھا کہ ایک چور دیوار پھیلانگ کر گھر میں داخل ہوا۔۔؟

Aik waqt tha

آدھی رات کا وقت تھا۔ ایک سایہ پولیس سے چھپتا چھپاتا ایک پرانے مکان میں داخل ہوا۔ یہ شہر کا بدنام نقب زن جمیل تھا۔ اس کی گرفتاری پرپچیس ہزار روپے کا انعام مقرر تھا۔ تھوڑی دیر پہل وہ سیٹھ عادل کی کوٹھی میں چوری کی نیت سے داخل ہونا چاہتا تھا۔ کہ گشت کرتی ہوئی پولیس نے اسے دیکھ لیا۔ وہ پولیس کو دھ وکا دے کر اس پرانے مکان میں آگیاتھا۔ اب اس نے چھپنے کے لیے ایسی جگہ تلاش کرلی تھی۔ جہاں اسے کوئی نہ دیکھ سکے۔

کہ اچانک ایک کمرے سےرونے کی آواز سنائی دی۔ یہ آوازایک عورت کی تھی، وہ کہہ رہی تھی: خدا کے واسطے میرے بیٹے کو بچاؤ، اگر اسے کچھ ہوگیا تو میں بھی زندہ نہیں رہوں گی۔ ڈاکٹر نے اس کے آپریشن کے لیے بیس ہزار روپے کی رقم کا بندوبست کرنے کو کہا ہے۔تم تو جانتی ہو میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے۔ ایک مردانہ آواز آئی۔ تم کوشش کرو۔ شاید کسی دوست سے ادھار مل جائے۔

عورت کی روہانسی آواز سنائی دی۔ مصیبت کے وقت کوئی دوست بھی کام نہیں آتا میں نے ہرجگہ کوشش کرکے دیکھ لیا ہے۔ ریحان میری بھی اولا د ہے میں خود بہت پریشان ہوں۔ تم دعاکرو شاید خد ا کوئی سبب بنا دے ۔ چاہے کچھ بھی کرو چوری کرو یا ڈ اکہ ڈالو، مجھے بیٹے کی زندگی چاہیے۔ عورت مسلسل پریشانی کےعالم میں بولتی جارہی تھی۔جمیل یہ گفتگو سن کر ماضی کے دھند لکوں میں کھو گیا دس سال پہلے وہ ایک معمولی مزدور تھا۔

محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ اس کی بیوی سلمیٰ ایک صابر و شاکر عورت تھی۔ دونوں میاں بیوی تنگدستی میں بھی اپن ےاکلوتے بیٹے عاصم کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔ ایک دن جمیل مزدوری کرکے گھر واپس آیا تو معلوم ہوا کہ عاصم شدید بخار میں مبتلا ہے۔ جمیل فوراً عاصم کو قریبی ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ ڈاکٹر نے عاصم کا معائنہ کیا ۔ اسے نمونیہ ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر نے جمیل کو دوائیں لکھ کردے دیں۔ جمیل کے پاس ڈاکٹر کی فیس اد ا کرنے کے بعد دواؤں کے لیے مزید پیسے نہ تھے۔ اس کی بیوی، بیٹے کی حالت دیکھ کر مسلسل روئے جارہی تھی۔ پریشانی کے عالم میں جمیل کو اور تو کچھ نہ سوجھا، بس چ وری کرنے کا خیال آیا۔ چوری کا ارادہ کرکے گھر سے نکلا۔ وہ ایک عالیشان کوٹھی میں داخل ہوا ہی چاہتا تھا۔ کہ پولیس نے دیکھ لیا وہ پولیس کی گرفت میں آئے بغیر سیدھااپنے گھر پہنچا۔

مگر اسوقت بہت دیر ہوچکی تھی۔ گھر کا منظر انتہائی کرب ناک تھا۔ بروقت دوائی نہ ملنے کی وجہ سے عاصم کا بخار شدید ہوگیا تھا۔ اتنا شدید کے وہ کچھ دیر پہلے انت قال کر چکاتھا۔جمیل کے سامنے اب اس کےبیٹے کی ل اش پڑی تھی۔ دوسری طرف اس کی بیوی سلمیٰ دیواروں سے سر ٹکر ا کر خود کو لہو لہان کر چکی تھی۔ اسی صدمے کی وجہ سے سلمیٰ کا بھی انتقال ہوگیا۔ جمیل کے لیے وہ لمحے انتہائی اذیت ناک تھے۔

اس نے پیسوں کے لیے غلط راستہ اختیار کرنا چاہاتھا۔ شاید یہ اس عمل کی سزا تھی۔ اسی وقت پولیس بھی اسے ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچ چکی تھی۔ جمیل اب پولیس کی تحویل میں تھا۔ جمیل نے بے گنا ہی کا یقین دلانے کی کوشش کی اور پولیس کو بتایا کہ اس کے بیٹے کی بیماری کےعلاج کے لیے اس کےپاس رقم نہیں تھی۔ اس لیے وہ یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوا۔

گرفتاری کے بعد جمیل کو صرف اتنی مہلت دی گئی کہ وہ اپنی آنکھوں سے بیوی اور بچے کودف ن ہوتا دیکھ سکے۔ اس موقعے پر اس کے چند رشتہ دار اور محلے کے افراد بھی موجود تھے۔ ہر آنکھ اشک بارتھی۔ لیکن کوئی بھی جمیل کی مدد نہ کرسکا۔ پولیس جمیل کو اپنے ساتھ لے گئی۔ عدالت میں جر م ثابت ہونے پر اسے چھ ماہ کی قید کی سزا سنا دی گئی ۔ رہائی کے بعد بدقسمت جمیل پیشہ ور چور بن گیا۔ وہ یہ سو چ چکا تھا کہ چوری اورڈ اکے کو اپنا پیشہ بنائے گا اور اس طرح معاشرے سے انتقام لے گا۔ لیکن وہ ایسا نرم دل واقع ہوا تھا۔ کہ اس نے آج تک کسی غریب کوتنگ نہیں کیاتھا۔

وہ امیروں اور وڈیروں کے گھر چوری کرتا۔ جمیل جب خیالوں کی دنیا سے واپس آیا تو اس نے کمرے کےدروازے پر دستک دی۔ اندر سے دروازہ کھلا۔ کمرے میں موجود میا ں بیوی اسے دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے۔ پھر مرد ہمت کرکے بولا۔دوازہ تو بند تھا تم آخر اند ر کیسے آگئے؟ تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟ میں دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوا ہوں۔ جمیل نے بتایا۔ تو تم کوئی چور یا ڈ اکو ہو۔ لیکن ہمارے گھر میں تو کوئی قیمتی چیز موجود نہیں ۔

عورت ہکلاتے ہوئے بمشکل بولی۔ جمیل نے اپنے بارے میں سب کچھ بتادیا۔ اب تو وہ زیادہ ڈر گئے۔ ریحان شدید بخار کی وجہ سے نیم بے ہوش ہوچکاتھا۔ اور اسے فوری علاج کی ضرورت تھی۔ جمیل نے انہیں اپنی بیوی اور بیٹے کی موت کی ساری کہانی سنائی ۔جمیل سے کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد دونوں میاں بیوی کا خوف دو ر ہوا۔ دونوں کی کہانی ایک جیسی تھی۔ جمیل چاہتا تھا کہ ان پریشان حال میاں بیوی کی مدد کرے ۔

اور ان کی زندگی تباہ نہ ہوجیسے میری زندگی تباہ ہوئی تھی۔ یہ سوچ کر جمیل نے کہا: تم مجھے گر فتار کرو، میری گرفتاری پر پچیس ہزار روپے انعام مقرر ہے۔ اس رقم سے تم اپنے بیٹے کا علاج کروالینا۔ میرے ساتھ زیادہ بحث مت کرنا۔ اسی میں میری خوشی ہے۔ ہم تمہیں گرفتارکیسے کرواسکتے ہیں؟ وہ شخص بولا، ہم اتنے ظ الم نہیں کہ اپنے بیٹے کے علاج کی خاطر تمہیں پولیس کے حوالے کردیں۔ ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔

باہر یقیناً پولیس ہے جمیل نے کہا ۔ تم چھت پر چلے جاؤ اور پائپ سے لٹک کر یہاں سے بھاگ جاؤ۔ عورت نے ہمدردانہ لہجے میں کہا۔ مرد نے بھی تائید میں سرہلادیا۔ جمیل کے اندر بدی کے تاریک بادل چھٹ گئے تھے ۔ اس کے اندر کسی کے کام آنے کا جذبہ پوری طرح جاگ گیا تھا۔ اسے یوں محسوس ہورہاتھا۔ جیسے اس نے اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی کو پا لیا ہے لہذا اس نے کمرے سے نکل کر باہر کا دروازہ کھول دیا۔ پولیس اندرداخل ہوئی اور اسے گرفتار کیا ۔

پولیس نے ضروری کاروائی کے لیے اس مرد کو بھی ساتھ لے لیا۔ جمیل نے اسے چپ رہنے کو کہا اور اعلی ٰ افسروں کے سامنے فرضی کہانی سنا دی۔ ایک پولیس اہلکار نے مرد کا نام اورپتہ نوٹ کرلیا۔ اس مرد نے اپنا خالد بتایا تھا۔ جمیل کی جیب میں اس وقت دو ہزار روپے موجود تھے۔ اس نے یہ رقم خالد کو دیتے ہوئے کہا کہ اس سے وہ اپنے بچے کا ابتدائی علاج کروائے اور انعام کی رقم ملتے ہی کسی اچھے ہسپتال میں لے جا کر دکھائے۔ جمیل کو عدالت سے س زا سنا کر جیل بھیج دیا گیا۔ کچھ دنوں بعد اس انعام کی رقم بھی خالد کو مل گئی۔ خالد نے اپنے بیٹے کو ہسپتال میں داخل کرو ا دیا،

جہاں مناسب دیکھ بھال اور علاج معالجے کے بعدوہ تیزی سے صحت یا ب ہونے لگا۔ جمیل بہت خوش تھا کہ اس کی وجہ سے ایک گھر تباہی سے بچ گیا۔ ورنہ ہوسکتا تھا کہ جمیل کی طرح خالد بھی اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے کوئی ناجائز طریقہ استعمال کرتا اور اس کاحشر بھی جمیل جیسا ہوتا اور وہ ج رم کے راستے پر چل پڑتا۔ خالد اور اس کی بیوی اپنے محسن جمیل کو نہیں بھولے تھے۔

وہ باقاعدگی سے اسے ملنے جیل جا یا کرتے تھے۔ صحت یا ب ہونے کے بعد ننھا ریحان بھی ان کے ساتھ ہوتا تھا۔ جمیل کے من کی دنیا مکمل طور پر تبدیل ہوچکی تھی۔ اس نے سو چ لیا تھا کہ رہاہونے کے بعد اپنے ہاتھوں سے محنت مزدوری کرکے حلال روزی کمائے گا اور لوگوں کی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھے گا۔

Leave a Comment