حضرت جلیبیب ؓ ایک انصاری صحابی تھے آپﷺ نے شفقت کی نظر سے تین بار پوچھا

Hazrat Jaleeb aik insarii sahabi thy

صحابئ رسول حضرت جلیبیب ؓ ایک انصاری صحابی تھے۔ نہ مالدار تھے نہ کسی معروف خاندان سے تعلق تھا۔ صاحب منصب بھی نہ تھے۔ رشتہ داروں کی تعداد بھی زیادہ نہ تھی۔ رنگ بھی سانولا تھا۔ لیکن اللہ کےرسولﷺکی محبت سے سرشار تھے۔ بھ۔وک کی حالت میں پھ۔ٹے پرانے کپڑے پہنے اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوتے، علم سیکھتے اورصحب۔ت سے فیض یاب ہوتے۔ایک دن اللہ کے رسول نے شفقت کی نظر سے دیکھا اور ارشادفرمایاجُلیبیب تم شادی نہیں کرو گے؟جُلیبیب ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول مجھ جیسے آدمی سے بھلا کون شادی کرے گا؟

اللہ کے رسولﷺنے پھر فرمایاجُلیبیب تم شادی نہیں کرو گے؟اوروہ جواباً عرض گزار ہوئے کہ اللہ کے رسول! بھلا مجھ سے شادی کون کرے گا؟ نہ مال نہ جاہ و جلال ۔اللہ کے رسولﷺنے تیسری مرتبہ بھی ارشاد فرمایا: جُلیبیب تم شادی نہیں کرو گے؟ جواب میں انہوں نے پھر وہی کہا اللہ کے رسول مجھ سے شادی کون کرے گا؟ کوئی منصب نہیں میری شکل بھی اچھی نہیں، نہ میرا خاندان بڑا ہے اورنہ مال و دولت رکھتا ہوں۔

اللہ کے رسولﷺنے ارشاد فرمایا: فلاں انصاری کے گھرجاو اور ان سے کہو کہ اللہ کے رسول تمھیں سلام کہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اپنی بیٹی سے میری شادی کردو۔جُلیبیب خوشی خوشی اس انصاری کے گھر گئے اور دروازے پر دستک دی گھر والوں نے پوچھا کون؟کہا جُلیبیب۔

گھرکا مالک باہر نکلا جُلییب کھڑے تھےپوچھا کیا چاہتے ہو، کدھر سے آئے ہو؟کہا اللہ کے رسول نے تمھیں سلام بھجوایا ہے۔یہ سننے کی دیر تھی کہ گھر میں خوشی کی لہ۔ر دوڑ گئی۔ اللہ کے رسول نے ہمیں سلام کا پیغام بھجوایا ہے۔ ارے یہ تو بہت ہی خوش بختی کا مقام ہے کہ ہمیں اللہ کے رسول نے سلام کہلا بھیجا ہے۔

جُلیبیب کہنے لگے آگے بھی سنو اللہ کے رسولﷺنے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کردو۔صاحب خانہ نے کہا ذرا انتظار کرو، میں لڑکی کی ماں سے مشورہ کرلوں۔ اندرجاکر لڑکی کی ماں کو پیغام پہنچایا اور مشورہ پوچھا؟ وہ کہنے لگی ناقسم اللہ کی میں اپنی بیٹی کی شادی ایسے شخص سے نہیں کروں گی، نہ خاندان، نہ شہرت، نہ مال و دولت، ان کی نیک سیرت بیٹی بھی گھر میں ہونے والی گفتگو سن رہی تھی اور جان گئی تھی کہ حکم کس کا ہے؟

س نے مشورہ دیا ہے؟ سوچنے لگی اگر اللہ کے رسول اس رشتہ داری پرراضی ہیں تو اس میں یقینا میرے لیے بھلائی اور فائدہ ہے۔اس نے والدین کی طرف دیکھا اور مخاطب ہوئی کیا آپ لوگ اللہ کے رسول کا حکم ٹالنے کی کوشش میں ہیں؟ مجھے اللہ کے رسول کے سپرد کردیں وہ اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہیں میری شادی کردیں کیونکہ وہ ہر گزمجھے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔پھر لڑکی نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی اور دیکھو کسی مومن مرد وعورت کو اللہ اوراس کے رسول کے فیصلے کے بعد اپنے امور میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔

لڑکی کا والد اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کی اللہ کے رسولﷺ آپ کا حکم سر آنکھوں پر آپ کا مشورہ، آپ کا حکم قبول، میں شادی کے لیے راضی ہوں۔ جب رسول اکرم کو اس لڑکی کے پاکیزہ جواب کی خبر ہوئی تو آپ نے اس کے حق میں یہ دعا فرمائی اے اللہ اس بچی پر خیر اور بھلائی کے دروازے کھول دے اوراس کی زندگی کو مشقت و پریشانی سے دور رکھ ۔

پھر جُلیبیب کے ساتھ اس کی شادی ہوگئی۔ مدینہ منورہ میں ایک اور گھرانہ آباد ہو گیا جس کی بنیاد تقویٰ اور پرہیز گاری پر تھی، جس کی چھت مسکنت اور محتاجی تھی، جس کی آرائش و زیبائش تکبیر و تہلیل اور تسبیح و تحمید تھی۔ اس مبارک جوڑے کی راحت نماز اور دل کا اطمینان تپتی دوپہروں کے نفلی روزوں میں تھارسول اکرم ﷺ کی دعا کی برکت سے یہ شادی خانہ آبادی بڑی ہی برکت والی ثابت ہوئی۔

تھوڑے ہی عرصے میں ان کے مالی حالات اس قدر اچھے ہوگئے کہ راوی کا بیان ہےانصاری گھرانوں کی عورتوں میں سب سے خرچیلا گھرانہ اسی لڑکی کا تھا۔ایک جنگ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ رسول اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام سے دریافت فرمایادیکھو! تمھارا کوئی ساتھی بچھڑ تو نہیں گیا؟مطلب یہ تھا کہ کون کون شہید ہو گیا ہے؟صحابہ نے عرض کیا ہاں، فلاں فلاں حضرات موجود نہیں ہیں پھر ارشاد ہوا کیا تم کسی اور کو گم پاتے ہو؟حابہ نے عرض کیا: نہیں۔

آپ نے فرمایا لیکن مجھے جُلیبیب نظر نہیں آرہا، اس کو تلاش کرو۔چنانچہ ان کو میدان جنگ میں تلاش کیا گیا۔وہ منظر بڑا عجیب تھا۔میدان جنگ میں ان کے ارد گرد سات کافروں کی لاشیں تھیں گویا وہ ان ساتوں سے لڑتے رہے اور پھر ساتوں کو جہنم رسید کرکے شہید ہوئے اللہ کے رسول کو خبر دی گئی۔ رؤف و رحیم پیغمبر ﷺ تشریف لائے۔ اپنے پیارے ساتھی کی لاش کے پاس کھڑے ہوئے۔

منظر کو دیکھا پھر فرمایااس نے سات کافروں کو قتل کیا، پھر دشمنوں نے اسے قتل کردیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔پھر آپ نے اپنے پیارے ساتھی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور شان یہ تھی کہ اکیلے ہی اس کو اٹھایا ہوا تھا۔ صرف آپ کو دونوں بازوئوں کا سہارا میسر تھا۔جُلیبیب ؓ کے لیے قبر کھودی گئی، پھر نبیﷺنے اپنے دست مبارک سے انھیں قبر میں رکھا۔

Leave a Comment