جو نکاح نہیں کرسکتا وہ یہ کا م ضرور کرے ؟ حضوراکرم ﷺ کا فرمان مبارک کہ تم میں سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ یہ کام کرلے۔۔!

Jo nikah nai ker sakta

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلے ہم نوجوان تھے، ہمارے پاس شادی وغیرہ امور میں سے کسی چیز کی مقدرت نہ تھی۔ توآپ ﷺ نے فرمایا: اے نوجوانوں ! کی جماعت تمہارے اوپر نکاح لازم ہے۔ کیونکہ یہ نگاہ کو نیکی کرنے والا اور شر م گاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جو تم میں سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس پر صو م کا اہتمام ضروری ہے کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھا ل ہے۔

نکاح میری سنت ہے اور جو کوئی میری سنت پر عمل نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ میرے پاس تشریف لائےاس وقت (انصار کی) دو لڑکیاں میرے گھر میں بعاث کی لڑائی کا قصہ گارہی تھیں۔ آپؐ ب چھونے پر لیٹ گئے اور اپنا منہ پھیر لیا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے مجھ کو جھڑکا اور کہا یہ شیطانی باجہ آنحضرت ﷺ کے سامنے۔

آخر آپؐ نے ان کی طرف منہ کیا اور فرمایا جانے دے (خاموش رہ) ۔جب ابوبکرؓ دوسرے کام میں لگ گئے تو میں نے ان لڑکیوں کو اشارہ کیا وہ چل دیں۔ یہ عید کا دن تھا۔ اس دن حبشی لوگ ڈھالوں اور برچھیوں سے کھیل کرتے تھے تو یا تو میں نے آنحضرت ﷺ سے خواہش کی یا خود آپؐ نے فرمایا تو یہ کھیل دیکھنا چاہتی ہے ۔میں نے عرض کیا جی۔آپؐ نے مجھ کو اپنے پیچھے کھڑا کرلیا ۔میرا گال آپؐ کی گال پر تھا۔

آپؐ فرماتے تھے کھیلو کھیلو اے بنی ارفدہ !جب میں اکتا گئی تو آپؐ نے فرمایا بس۔ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا اچھا جا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو جو کچھ خرچ کرے اور اس سے تیری نیت اللہ کی رضا مندی کی ہو تو تجھ کو اس کا ثواب ملے گا یہاں تک کہ اس پر بھی جو تو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے

کہ ہندہ رضی اللہ عنہا جو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی ماں تھی نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ ابوسفیان بڑا بخیل آدمی ہے۔ اگر میں اس کا کچھ روپیہ چپکے سے لے لیا کروں تو مجھ پر گناہ تو نہ ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا تو اتنا دستور کے موافق لے سکتی ہے جو تجھ کو اور تیرے بیٹوں کو کافی ہو۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو۔

پھر اگر کچھ بچے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو ۔پھر اگر اپنے اہل و عیال سے کچھ بچے تو اپنے رشتہ داروں پر اور اگر رشتہ داروں سے بھی کچھ بچ جائے تو ادھر ادھر اپنے سامنے، دائیں اور بائیں والوں پر خرچ کرو۔

Leave a Comment